کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے اہم ترین ہتھیار اس کے خطرات کا علم رکھنا ہے تاکہ خود کو اور اپنے پیاروں کو اس جان لیوا وبا سے بچایا جا سکے۔
دنیا بھر میں کورونا وبا سے اموات ہزاروں سے لاکھوں میں چلی گئی ہیں مگر ابھی تک اس خطرباک وبا کے خطرات سے پاکستان کی آدھی آبادی لاعلم ہے۔
تفصیلات کے مطابق آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی حالیہ تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لگ بھگ آدھے پاکستان کو کورونا وائرس وبا کے سنگین خطرات کا علم نہیں ہے۔
20 پاؤنڈ کے نئے نوٹ کا کورونا وائرس سے کیا تعلق ہے؟
دنیا کے کچھ ممالک میں کورونا سے اموات کی تعداد زیادہ کیوں ہے؟
اس ریسرچ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آدھے لوگوں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ کورونا وائرس شوگر، تمباکو نوشی اور دمہ کے مریضوں کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
پاکستان کی 60 فیصد شہری آبادی کا یہ ماننا ہے کہ نمونیا کی ویکسین انہیں کورونا وبا سے تحفظ دے سکتی ہے جبکہ دیہات سے تعلق رکھنے والے83 فیصد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ دوائیں کورونا وائرس کا مؤثر علاج ہیں۔ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کا یہ بھی ماننا ہے کہ کورونا وائرس مچھر کے کاٹنے سے لگتا ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کے ریسرچرز کی جانب سے ملک کے شہری و دیہی علاقوں کے 738 افراد سے سروے کیا گیا ہے۔ ریسرچ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ دیہی علاقوں کے 10 فیصد سے کم افراد کو اس بات کا علم ہے کہ مجمع میں جانے سے کورونا وائرس کے لاحق ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 74 فیصد افراد کا یہ کہنا ہے کہ کورونا وائرس مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔
ریسرچرز کے مطابق پاکستان کے بیشتر لوگوں کو کورونا وائرس کی درست علامات کا بھی اچھی طرح علم نہیں ہے۔ 25 فیصد سے کم لوگوں کو اس بات کا علم تھا کہ کورونا وائرس کا مریض بغیر علامات کے بیماری دوسروں کو لگا سکتا ہے۔
کورونا وبا کے دوران پاکستانیوں نے گوگل پر کیا سرچ کیا؟
کورونا وبا میں پھیلتی غربت نے سابق صدر پاکستان کے بیٹے کو بھی رلا دیا
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس کی دس میں سے 5 علامات کا علم رکھنے والے افراد کو وائرس کے خطرات بارے درست معلومات ہوتی ہیں۔ آغا یونیورسٹی کی ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف 8 فیصد پاکستانیوں کو عالمی ادارہ صحت کے پیمانہ کے مطابق کورونا وائرس بارے کافی معلومات حاصل ہیں۔
میڈیا آگاہی کا بڑا ذریعہ
آغا خان یونیورسٹی کی اس ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس کے متعلق انہیں سب سے زیادہ میڈیا سے پتہ چلا ہے۔ 49 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ وبا کے بارے میں معلومات انہیں میڈیا سے ملتی ہیں جبکہ 29 فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں سوشل نیٹ ورک سے معلومات ملتی ہیں۔
میڈیا سے کورونا بارے معلومات لینے والوں میں اکثریت شہریوں کی ہے۔ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت کا کہنا ہے کہ انہیں کورونا بارے معلومات اپنے ساتھیوں سے ملتی ہیں۔
مثبت چیزیں
اس ریسرچ میں 90 فیصد لوگوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس بوڑھے افراد کیلئے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ہاتھ دھونے، چھینک کے دوران احتیاط برتنے اور سماجی فاصلوں کے متعلق بھی پاکستانیوں میں آگاہی بڑھ چکی ہے۔
