پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے چینی بحران پر وزیراعظم کی تشکیل کردہ ایف آئی اے ٹیم کی انکوائری رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے غلط، مفروضے اور قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیا ہے۔
وزیراعظم کی تشکیل کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر سیکرٹری جنرل پی ایس ایم اے عنایت خان کا کہنا ہے کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ارکان چینی کی قیمتوں میں اضافے اور چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ کے اچانک منظر عام پر آنے سے حیران اور مایوس ہیں۔
انھوں نے انکوائری کمیٹی کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ میں بے نامی ذرائع سے ٹیکس چوری اور بک سیلز جیسے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی سختی سے تردید کی۔
اربوں روپے کی چینی بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے فروخت کیے جانے کا انکشاف
چینی، آٹے کا مصنوعی بحران، وزیراعظم کا تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد کارروائی کا اعلان
جہانگیر ترین کا عمران خان سے تعلقات میں رخنہ آ جانے کا اعتراف
انھوں نے کہا کہ گزشتہ کئی کرشنگ سیزنز کے دوران ایف آئی اے اپنے افسران کو آڈٹ کا مشاہدہ کرنے کے لیے شوگر ملز میں تعینات کرتا رہا ہے۔
فرانزک آڈٹ کے معاملے پر پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ جائز اور قانونِ کی پاسداری کرنے والے کاروباری اداروں کا امتیازی اور من مانی بنیادوں پرفرانزک آڈٹ کرانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
پی ایس ایم اے نے موقف اختیار کیا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں شوگر ملوں کے مابین سخت مقابلے کی صورتحال کا اعتراف کیا گیا ہے، اسی طرح اگر ملوں کے درمیان کارٹلائیزیشن ہوتی تو انھیں کبھی بھی چینی کو کم قیمت پر بیچنے کی ضرورت نہ پڑتی اور گنے کی زیادہ اسپورٹ پرائس بھی ادا نہ کرتے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شوگر ملوں میں نہ تو بیچنے والوں کا کوئی کارٹل موجود ہے اور نہ ہی خریدنے والوں کا۔
اس رپورٹ کے مطابق کوئی بھی شوگر مل یا گروپ 40 فیصد سے زیادہ مارکیٹ شیئر کا مالک نہیں ہے بلکہ سب سے بڑے گروپ کا مارکیٹ شیئر 20 فیصد سے بھی کم ہے۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی صرف کرمنل انویسٹیگیشن افسران پر مشتمل تھی جن کا معاشی اور کمرشل معاملات سے متعلق بیک راؤنڈ نہیں ہے جس کی وجہ سے رپورٹ غلط تجزیے اور نتائج پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر معیشت اور تجارت سے وابستہ پروفیشنلز اس تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ہوتے اور انکوائری رپورٹ کو جاری کرنے سے پہلے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کو اس میں اٹھائے گئے سوالات، خدشات اور کنفیوژن کو دور کرنے کا موقع دیا جاتا۔
