نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے کہا ہے کہ نائجیریا کی فوج نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن کے دوران 18 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
افریقہ کے سب سے زیادہ آبادی والے اور سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک نائیجیریا میں کورونا کے 407 تصدیق شدہ کیس سامنے آئے ہیں جبکہ اب تک اس وبا سے 12 اموات ہو چکی ہیں۔
نائیجیریا کے زیادہ تر شہروں میں 30 مارچ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے، 14 اپریل کو اس کی مدت میں 2 ہفتے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
سویڈن میں حکومت کا لاک ڈاؤن سے انکار زندگیاں نگلنے لگا
بھارت میں لاک ڈاؤن کے نتائج، بھوک نے انسان اور جانور ایک برابر کر دیے
عالمی تنظیم این آئی آر سی نے 15 اپریل کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ نائیجیریا کی پولیس اور فوج نے لاک ڈاؤن کے دوران 18 افراد کا ماورائے عدالت قتل کیا ہے جس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔
نائیجیریا کے حکام نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ تشدد کے واقعہ میں 4 قیدی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جیل کے عملہ کے متعدد افراد اور قیدی اسپتال میں زخمی حالت میں ہیں۔
عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق نائجیریا کی پولیس اور فوج نے این آئی آر ایس کا موقف لینے کے لیے کی گئی فون کال کا جواب نہیں دیا، این آئی آر ایس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کی آڑ میں 18 افراد کو بلاجواز ہلاک کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ لاک ڈاؤن کے عرصے میں نائجیریا کی پولیس اور فوج نے طاقت کا ناجائز استعمال اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔
این آئی آر سی کے مطابق 14 دن کے لاک ڈاؤن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی 105 شکایات موصول ہوئی ہیں۔
نائیجیریا کی پولیس اور فوج پر کافی بار طاقت کے غیرضروری استعمال کا الزام لگا ہے لیکن وہ اس الزام کو تسلیم نہیں کرتے۔
گذشتہ سال بھی اقوام متحدہ کی خصوصی عدالت نے نائیجیریا کی سیکورٹی فورسز پر ماورائے عدالت قتل کا الزام عائد کیا تھا۔
