کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ساڑھے 26 کروڑ سے زائد لوگوں کے بھوک کے شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
اقوام ِمتحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو کورونا وائرس سے دنیا بھر میں بھوکے افراد کی تعداد میں دگنا اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سال کے اختتام تک ساڑھے 26 کروڑ لوگ بھوک کا شکار ہوسکتے ہیں۔
اقوام ِمتحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام میں بطور چیف اکانومسٹ کام کرنیوالے ڈاکٹر عارف حسین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس ان افراد کیلئے تباہی ہے جو صرف دن کو کام کر کے کھانے کے قابل ہوتے ہیں۔
بھارت میں لاک ڈاؤن کے نتائج، بھوک نے انسان اور جانور ایک برابر کر دیے
بھارت میں لاک ڈاؤن سے جڑا ایک اور المیہ، 12 سالہ بچی پیدل چلتے چلتے دم توڑ گئی
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر 14 اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں عالمی بھوک کو کورونا وبا کے بڑے اثرات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا سے خوران کی رسد کا سلسلہ متاثر ہونے کا امکان ہے جس سے بھوک بڑھ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لوگوں کے بیمار ہونے سے مزدروں کی کمی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جس سے خوراک کی پیداوار مزید کم ہونے کا ڈر ہے۔ اسی طرح کچھ ممالک خوراک بیرون ملک فروخت کرنے سے گریز کر سکتے ہیں جس سے بھوک میں مزید اضافہ کا امکان ہوگا۔
ایک اور پہلو یہ بتایا گیا ہے کہ کورونا سے بڑھتی بیروزگاری لوگوں کی قوت خریداری کم کرے گی جس سے وہ بھوک کا شکار ہوسکتے ہیں، کورونا وبا کی روک تھام کیلئے لگائی گئی پابندیوں سے دنیا بھر میں خوراک کی تقسیم بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کچھ غریب ممالک کی جانب سے لوگوں کو کورونا وائرس سے بچانے کے اقدامات انہیں بھوک سے مار سکتے ہیں۔
اقوام ِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیتریس کا کہنا ہے کہ کورونا وبا سے مچی ہلچل سے کئی خاندان اور کمیونٹیاں تکلیف کا شکار ہوسکتی ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں ہمیں بھوک اور خوراک کی کمی کے کیلئے کوششوں کو دگنا کرنے کی ضرورت ہے۔
کورونا وائرس: گاہک نہ ملنے پر امریکی کسان اربوں ڈالرز کی اشیاء ضائع کرنے لگے
کورونا وبا نے فوڈ انڈسٹری کو کس طرح متاثر کیا ہے؟
گزشتہ برس دنیا بھر میں 13 کروڑ افراد کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا تھا جن میں پونے8 کروڑ افراد کا تعلق تنازعات میں گھرے ممالک میں سے تھا۔ گزشتہ برس موسمیاتی تبدیلی کے باعث ساڑھے 3 کروڑ لوگوں کو خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ معاشی بحران کے باعث خوراک کی کمی کا سامنا کرنیوالے افراد کی تعداد ڈھائی کروڑ تھی۔
دی گارڈین کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوبل انعام یافتہ معاشی ماہرین کی جانب سے دنیا کے امیر ممالک کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ غریب ممالک کو فنڈ دیں وگرنہ ان ممالک میں وائرس کی موجودگی سے امیر ممالک کو وبا پھوٹنے کا مسلسل خطرہ رہے گا۔
اس انتباہ کے باوجود دنیا کے امیر ممالک کے اقدامات دنیا میں خوراک کی کمی کے خطرات کو بڑھاوا دے رہے ہیں، امریکہ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنا اس کی مثال ہے۔