کورونا وائرس کے متعلق تازہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اب تک اس کے شکار افراد کی ایک بڑی تعداد کوئی علامات ظاہر کئے بغیر صحت یاب ہو گئی ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ یہ وبا شاید اتنی مہلک نہ ہو جتنا اسے آغاز میں سمجھا گیا تھا۔
تحقیق میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ بغیر علامات والے مریضوں کی موجودگی بڑے پیمانے پر نئے افراد میں بیماری کی منتقلی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے جو شاید ان کیلئے خطرناک ثابت ہو۔
بہت سے یورپی ممالک، امریکہ اور پاکستان میں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ کئی افراد میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور وہ خودبخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
دنیا کے کچھ ممالک میں کورونا سے اموات کی تعداد زیادہ کیوں ہے؟
کورونا وبا کے دوران پاکستانیوں نے گوگل پر کیا سرچ کیا؟
نئے سروے میں آدھے پاکستانی کورونا وائرس کے خطرات سے لاعلم نکلے
امریکی مرکز برائے ڈیزیز کنٹرول و روک تھام کے سربراہ کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ وائرس سے متاثرہ 25 فیصد لوگوں میں کوئی علامت ظاہر ہی نہ ہو۔ امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے وائس چیئرمین جنرل جان ہائیتن کے خیال میں کورونا کا شکار ہونے والے 60 سے 70 فیصد فوجیوں میں اس بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
نیویارک میں ایک اسپتال کی جانب سے تمام حاملہ خواتین کے ٹیسٹ کئے گئے تو اسپتال آنیوالی 14 فیصد خواتین کورونا وائرس کا شکار نکلیں جبکہ ان میں اس کی کوئی علامات موجود نہیں تھیں۔
اسی طرح ڈائمنڈ کروز شپ پر موجود جہاز کے عملہ اور مسافروں کے ٹیسٹ کئے گئے تو کورونا کے شکار آدھے لوگ ایسے تھے جن میں ٹیسٹ کے وقت کورونا کی کوئی علامات نہ تھیں۔
ریسرچرزکا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ 18 فیصد لوگوں میں وائرس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتیں۔
تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کسی فرد میں ٹیسٹ کے وقت کورونا کی کوئی علامات نہ ہوں تو بعد میں اس میں علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ جاپان میں کی گئی ایک اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی کہ کورونا سے متاثرہ آدھے افراد جن میں ٹیسٹ کے وقت کوئی علامات نہ تھیں وہ بعد میں بیمار ہوگئے۔
ہارورڈ کے اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ڈاکٹر مائکل مینا کا کہنا ہے کہ بغیر علامات مریضوں کے اعداوشمار پر پوری طرح اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے خیال میں ان اعدادوشمار کا انحصار ناقص اور ناکافی ٹیسٹوں پر ہے۔
دنیا کے وہ ممالک جہاں کورونا کا ایک بھی مریض سامنے نہیں آیا
کورونا وبا: دنیا نے مصافحہ کے بجائے کئی متبادل طریقے اختیار کر لیے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کورونا وبا سے بڑی تعداد میں متاثرہ لوگ بغیر علامات یا معمولی علامات دکھائے صحت یاب ہوگئے ہوں تو اس بات کا امکان ہے کہ اس وائرس کے خلاف بہت سے لوگوں نے مدافعت پیدا کر لی ہو۔
ماہرین کے مطابق اس امکان کی صورت میں ’ہرڈ امیونٹی‘کے تصور سے وبا کا مزید پھیلاؤ رک جائے گا مگر وہ یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ابھی اس بارے بہت کچھ سیکھنا رہتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا علم نہیں کہ معمولی بیماری کس حد تک مدافعت پیدا کرتی ہے اور مدافعت کا یہ عمل کب تک رہتا ہے۔