اٹارنی جنرل آف پاکستان کی طرف سے ایل این جی معاہدوں کو ختم کرنے کی مخالفت کے بعد حکومت پاکستان نے اس کی فکس پرائس کو ڈی ای ایس قیمت 4.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک لانے کیلئے میسرز اینی(M/S Eni) اور میسرز گنور (M/S Gunvor) کے ساتھ بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ اس خدشہ کے پیش نظر کیا گیا کہ اگر معاہدوں کو منسوخ کر دیا گیا تو اس کے نتیجے میں حکومت پاکستان کے خلاف لاکھوں ڈالرز کے ہرجانے کے دعوے دائر ہو جائیں گے۔
بجلی کی لاگت کم کرنے کے لیے حکومت کے کمپنیوں سے مذاکرات کل سے شروع
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت آئندہ چھ ماہ میں متوقع مانگ کی بنیاد پر کچھ کارگوز کو ری شیڈول کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت قطر پیٹرولیم کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مذاکرات جاری رکھے گی اور کسی بھی حتمی انتظامات کو منظوری کے لیے کابینہ کے پاس واپس لایا جائے گا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں ایل این جی کے شعبے میں نئی liquefaction facilities کی وجہ سے ایل این جی کی پیدوار میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں طلب کے مقابلے میں سپلائی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس صورتحال کو کورونا وائرس جیسی وبائی بیماری نے مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ نتیجتاً ایل این جی کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس وقت پی ایس او اور پی ایل ایل، ایل این جی کی درآمد میں مصروف ہیں۔ پورٹ قاسم کراچی میں قائم کردہ دو ایل این جی ٹرمینلز اس کو ہینڈل کر رہے ہیں۔
پی ایس او نے قطر گیس اور میسرز گنور کے ساتھ دو طویل مدتی معاہدے کئے ہیں جبکہ پی ایل ایل نے بھی میسرز گنور اور میسرز اینی کے ساتھ دو طویل مدتی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ قطر کے ساتھ معاہدہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ جبکہ 3 معاہدوں کو مسابقتی بولی کے تحت عمل میں لایا گیا۔
پٹرولیم ڈویژن نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان معاہدوں کے نفاذ کے بعد سے بین الاقوامی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سپاٹ پرائس میں بھی کافی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔
اسی دوران کوڈ 19 کی وجہ سے صورتحال میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایل این جی کی طلب میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور ممکنہ طور پر یہ سلسلہ اس سال اور آئندہ سال بھی جاری رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
حکومت چاہتی تھی کہ وہ force majeure کے ذریعے ایل این جی کی قیمتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرے لیکن اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اس طرح کے ایکشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان باہمی مشاورت کے ذریعے ہی کوئی ریلیف حاصل کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان کو بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ معاہدوں کو منسوخ کرنے کی بجائے ان میں موجود مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔
جہاں تک قطر پیٹرولیم کی بات ہے تو 2025 تک موجودہ قیمتوں میں تبدیلی ممکن نہیں اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے سربراہان اس معاملے میں ممکنات پر بات کر چکے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن چاہتی ہے کہ PSO/PLL اگلے 6 سے 12 مہینوں کے لیے ایل این جی کی فراہمی کو مقررہ قیمت پر یقینی بنانے کے لیے اینی میسرز اور گنور میسرز سے بات چیت کرے۔