کورونا وبا نے دنیا کے محفوظ ترین اور خطرناک ترین ممالک کی درجہ بندیاں بدل دی ہیں اور اس وبا کے دوران الٹی گنگا بہنا شروع ہوگئی ہے، ترقی یافتہ دنیا کے شہری جن ممالک کو ماضی میں غیر محفوظ سمجھتے تھے اب انکو محفوظ قرار دیکر واپس جانے سے انکاری ہیں۔
امریکی شہریوں نے لبنان کو سپرپاور امریکہ سے زیادہ محفوظ قرار دیتے ہوئے وطن واپس جانے سے انکار کر دیا ہے جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شامل ایک اور ملک اٹلی کے شہریوں نے غریب ترین ملک ایتھوپیا سے واپس لوٹنے سے انکار کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں کی جانب سے کورونا وبا سے بچنے کیلیے غریب ممالک میں رہنے کو ترجیح دی گئی ہے۔ اٹلی اور امریکہ میں کورونا وائرس سے وسیع پیمانے پر اموات کے بعد ان ممالک کے شہریوں نے غریب ممالک کو محفوظ تصور کرتے ہوئے اپنے ملکوں میں لوٹنے سے انکار کیا ہے۔
امریکہ کیوں جاؤں؟
سی این این کی ایک خبر کے مطابق لبنان کے شہر بیروت میں موجود امریکی شہریوں کی جانب سے امریکی حکام کی وطن واپسی کی درخواست کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ کی جانب سے دیگر ملکوں میں موجود اپنے شہریوں کو چارٹرڈ پروازوں کے ذریعہ وطن واپس لانے کا اعلان کیا گیا تو لبنان میں موجود امریکی شہریوں نے ٹویٹر کا سہارا لیا اور کہا کہ وہ امریکہ کی نسبت لبنان میں خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
سال2017ء میں ’دی انڈیپینڈینٹ‘ کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ لبنان دنیا کے خطرناک ترین 20 ممالک کی فہرست میں 12 ویں نمبر پر ہے۔ اس خبر میں عالمی معاشی فورم کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا گیا تھا کہ لبنان میں کئی شدت پسند گروہ سرگرم ہیں اور دہشت گردانہ حملے کثرت سے ہوتے ہیں جس کے باعث یہ دنیا کے غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے۔
مگر کورونا وبا نے ساری درجہ بندیاں گھما کے رکھ دی ہیں۔ اب امریکی شہری لبنان کو امریکہ سے زیادہ محفوظ قرار دے رہے ہیں۔
دو ماہ قبل لبنان کی جانب سے امریکہ کے ایک شہری کو حراست میں رکھا گیا تھا جس کے بعد امریکہ کے ایک سینیٹر کی جانب سے لبنان پر پابندیاں عائد کرنے کا بل بھی لایا گیا تھا۔ امریکہ کی جانب سے اپنے شہری کی لبنان کی جانب سے حراست کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
فوکس نیوز کے مطابق لبنان امریکہ کی امداد لینے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے جسے 2005ء سے اب تک 2 ارب 29 کروڑ ڈالر کی امداد دی گئی ہے۔ اب حالات کی ستم ظریفی نے امریکی فوجی امداد لینے والے ملک کو امریکی شہریوں کے لیے امریکہ سے بھی زیادہ محفوظ بنا دیا ہے۔
لبنان میں موجود سیول نامی شہری کی جانب سے سی این این کو بتایا گیا ہے کہ وہ امریکہ واپس نہیں جا رہیں کیونکہ کورونا وبا کے باعث امریکہ میں حالات بہت خراب ہیں اور وہاں کا صحت کا نظام کورونا کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔
سی این این کے مطابق لبنان میں ہزاروں امریکی قیام پذیر ہیں جن میں سے امریکی سفارتخانہ 95 امریکیوں کو واپس لے جا چکا ہے۔
لبنان کے شہر بیروت میں موجود امریکی شہری ڈیرن ہاؤلینڈ نے سی این این کا بتایا ہے کہ انہیں زندگی میں پہلی بار لگا ہے کہ لبنان میں رہنا امریکہ کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے تمام امریکی دوستوں نے اپنے ملک جانے کی بجائے لبنان میں قیام کو ترجیح دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی حکومت نے کورونا وبا کے خلاف اچھے اقدامات کئے ہیں جس وجہ سے کورونا وبا قابو میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بحران زدہ ملک لبنان کے کورونا کے خلاف اقدامات امریکی حکومت سے بہتر ہیں۔
لبنان میں کورونا وائرس کے 677 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ اس وبا سے اب تک 21 اموات ہوئی ہیں جبکہ امریکہ میں اب تک کورونا وائرس کے 8 لاکھ سےزائد کیسز سامنے آ چکے ہیں اور اموات کی تعداد 45 ہزار سے اوپر جا سکی ہے۔
اٹلی نہیں جانا
کورونا وبا سے بری طرح متاثرہ ایک اور ترقی یافتہ ملک اٹلی تک پہنچنے کے لیے غریب ممالک کے لوگ جان پر کھیل جاتے تھے مگر اب وبا کے دنوں میں اٹلی کے اپنے شہریوں نے واپس جانے کی بجائے ایتھوپیا میں رہنے کو زیادہ محفوظ سمجھا ہے۔
یوگنڈا کے ایک اخبار پی ایم ایل ڈیلی میں شائع ہونیولی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ایتھوپیا میں اٹلی سے آئے 35 سیاحوں نے ویزے ختم ہوجانے کے باوجود اٹلی واپس لوٹنے سے انکار کر دیا ہے۔
ٹویٹر پر ڈان شاوی کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ کورونا وبا کے دوران یورپی مہاجرین نے افریقہ آنا شروع کر دیا ہے۔ اسی طرح نان اسٹیٹ ایکٹر نامی ٹویٹر اکاؤنٹ نے اس پر اپنے تبصرہ میں کہا ہے کہ تاریخ ستم ظریفیوں سے بھری پڑی ہے، بالآخر غیر قانونی یورپ مہاجرین نے افریقہ آنا شروع کردیا ہے۔
افریقی ملک ایتھوپیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 114 ہے اور اب تک اس وائرس سے 3 اموات ہوچکی ہیں۔ دوسری طرف اٹلی میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 183,957 ہے اور اس سے اب تک 24,648 اموات ہوچکی ہیں۔