عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی کی 15 اپریل کو وزیراعظم سے ملاقات ہوئی تاہم بعد ازاں ان میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد یہ سوال سامنے آیا ہے کہ عمران خان کا اس ملاقات کے بعد کن افراد سے رابطہ ہوا ہے اور کون سے اہم لوگ ہیں جنہیں اپنا ٹیسٹ کرانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق فیصل ایدھی سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم عمران خان 15 اپریل ہی کو عامر محمود کیانی سے ملے جنہوں نے 16 تاریخ کو وفاقی وزراء سید فخر امام اور میاں اسلم سمیت ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ناصر محمود قصوری اور وزیر اعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کی۔
وزیراعظم عمران خان اپنا کورونا ٹیسٹ کرائیں گے
فیصل ایدھی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے 19 اپریل کو موبائل نیٹ ورک کمپنی جاز کے سی ای او عامر ابراہیم سے ملاقات کی جس میں انہوں نے کورونا ریلیف کے لیے عطیہ وصول کیا۔
اسی طرح بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نے 20 اپریل کو 30 سے زائد وی آئی پی افراد سے ملاقات کی۔
ان افراد میں صدر عارف علوی، ٹیلی نار کے سی ای او عرفان وہاب، وزیر اعظم کے دیرینہ ساتھی و مشیر سید زلفی بخاری، سینیٹر فیصل جاوید، وزیر برائے صنعت حماد اظہر، عبدالحفیظ شیخ اور وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر شامل ہیں۔
اسی طرح وزیراعظم نے پیر امین الحسنات شاہ، پیر شمس الامین، پیر نقیب الرحمان، مولانا محمد حفیظ جالندھری، مولانا طاہر محمود اشرفی، مولانا حمید الحق حقانی اور حافظ غلام محمد سیالوی سے ملاقات کی۔
اس دوران انہوں نے علامہ راجہ ناصر عباس، صاحبزادہ پیر سلطان فیاض حسین، مولانا سید چراغ دین شاہ، مولانا ضیااللہ شاہ، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود، مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، این ڈی ایم اے کے چییرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل، وفاقی وزیر خسرو بختیار اور مشیر معید یوسف سے بھی ملاقات کی ہے۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان نے ٹیلی تھون میں بھی حصہ لیا اور کابینہ اجلاس کی سربراہی بھی کی، وزیر اعظم کا کورونا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ تو ہو گیا ہے تاہم وہ ابھی تک اپنی مصروفیات جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ انہیں بغیر ماسک اور دستانوں کے بھی دیکھا گیا ہے۔
اسی طرح وزیر اعظم کی جانب سے خود کو الگ تھلگ رکھنے کا اعلان بھی نہیں کیا گیا، ذرائع کے مطابق زلفی بخاری نے اپنے کورونا ٹیسٹ کے لیے این آئی ایچ میں سیمپل دے دیا ہے جسکی رپورٹ آنا باقی ہے۔