• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, اپریل 20, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home کالم

کرکٹ اور صوبائی مخاصمت

by sohail
اپریل 22, 2020
in کالم
1
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

(ڈاکٹر ظفر الطاف سے سنی سنائی باتیں)

ہماری اماں جی اور ہمارے اینکروں کے سنجے لیلا بھنسالی ہمارے ڈکٹیٹر ایڈیٹر رؤف کلاسرا کی ایک ہی خواہش ہے کہ ہم بڑا آدمی بن جائیں۔ کلاسرا جی کو بھی (ان کی طرح کیا کیا برتنے کا شوق  نہیں ہے وی لاگ، ٹوئیٹر، کالم، کتاب اور فیس بک) اب آپ سنجے لیلا بھنسالی کی جسارت تو دیکھیں باجی راؤ مستانی میں دیپکا کو ناچ کے اسٹیپ بھی کرکے سمجھا رہے تھے)۔

اماں جی کی خواہش تھی کہ دادا جوناگڑھ کے پولیس چیف تھے۔ ہم کم از کم پاکستان کی آئی ایس آئی  کے پہلے سوئیلین چیف  بنیں۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ پاکستان میں خرگوش ریس کے دوران سو بھی جائے تو کچھوے نے نہیں جیتنا۔ ان کو دکھ تھا کہ ہم چونکہ میمن ہیں اس لیے ایسا نہیں ہو پا رہا۔ ہم نے سمجھایا  ایسا نہیں۔ اماں جی ہم چکوال کے ہوتے تب بھی یہ سب کچھ نہیں ہونا تھا۔ ہمارے میں Organizational error   ہے۔ وہی 404 -page not found والا  error ہے۔ فوج میں فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں۔ میمنوں کو تو انہوں نے Special Service Group  جیسا اہم عسکری ونگ بنانے کا کام سونپ دیا تھا۔ جنرل ابوبکر عثمان مٹھا نے اس یونٹ بٹالین کی تعمیر و تربیت کی۔

ہمارے مرحوم کزن مشہور پینٹر رحیم ناگوری اکثر مذاق کرتے کہ خالہ اماں بلاوجہ پاکستان ہجرت کی۔ وہاں ہندوستان میں ہی رہتے  تو اس نے آپ کے ارمان پورے کرنے کے لیے  RAW کا چیف بن جانا تھا۔ اس پر پڑوسن  نفیسہ جو ہم  پر حریص ازدواجی نگاہ رکھتی تھی، ہمیں اور اماں جی کو رجھانے کے لیے   میمنی میں کہتی کہ یہ لگ بھی جاتا تھا تو ریکھا سمیت پاکستان  DEFECT (دھوکہ دے کر ترک سکونت کرنا) کر جاتا۔

کلاسرا صاحب کو اس بات کی بہت چنتا رہتی ہے کہ ہم مزید اچھا، مختصر لکھیں تاکہ ہماری  اگلی کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ اور کالمز کا مجموعہ جب لانچ ہو تو جیکی رولنگ ہیری پورٹر کی مصنفہ کی طرح اپنے یوم اجرا سے پہلے انہیں ایمزون کے دو ہزار ٹرک سارے امریکہ میں اسے رائتے کی طرح پھیلا دیں۔ ہمارا آٹو گراف بھی تین ہزار ڈالر کا فروخت ہو۔

یہ سب ہوتے ہوتے وہ دن بھی جلدی سے آئے کہ عمران خان ایون فیلڈ والے اپارٹمنٹ نواز شریف سے چھین لے۔ اس عالم میں لٹے پٹے نواز شریف ہائیڈ پارک کی  کسی بینچ پر ڈاکٹر عدنان کی مدد سے  ریزگاری کی طرح  اپنے  پلیٹ لیٹس گنتے ہوں تو وہ بکواسیا ارناب گوسوامی ان سے پوچھے کہ نیب اور عمران نے سب لے لیا تو آپس کے پاس کیا بچا ہے؟ ایسے میں سابق پردھان منتری   جیدی کی طرح  اپنا کوٹ سمیٹ کر کھڑے ہوجائیں اور اس سے کہیں اے لو بوائز سے پوچھتے ہیں میرے پاس کیا بچا ہے۔ ابے  میرے پاس ماں ہے، ڈاکٹر عدنان ہے اور سب سے بڑھ کر اقبال دیوان کے تین آٹوگرافس ہیں جو پانچ ہزار پاؤنڈ فی کتاب بکیں گے۔ اللہ ہم  شریف لوگوں کو ایسے ہی تو نواز تا ہے۔

آپ نے دیکھا  بیوروکریٹس کتنے چالاک  ہوتے ہیں۔ ابھی تک مطلب کی بات شروع نہیں کی۔ کلاسرا صاحب کا ایڈیٹر الفاظ گن کر بتا رہا ہوگا کہ سر جی وہ دیکھیں چار سو الفاظ ہو گئے اور ابھی تک نہ کرکٹ، نہ پنجابی، نہ ڈاکٹر ظفر الطاف۔ Sirjee we are a bunch of professionals at Naqar Khana. These bloody bureaucrats can not tell  us what is quality media.

کلاسرا صاحب کہیں گے یار دیکھ آگے کہیں میرا نام ہوگا کوئی کرکٹ کا ضرور بیان ہوگا۔ کچھ دھیرج بھی رکھو۔ A good story is like a  silk saree. It takes time to wrap around.

ساڑھی اور فال کے چکر میں ایڈیٹر صاحب کو  Dirty Picture  میں Silk Samitha  کے روپ میں ودیا بالن یاد آجائے اور وہ ان میں کھوکر پھر سے ہمارے مضمون کی شئرینگ  صلاحیت کو تولنے میں لگ جا ئیں۔

دن گزرے کہ اماں جی کی طرح کلاسرا صاحب کو لگا کہ وہ کچھ بھی کرلیں ہمارے جیسا کچھوا درخت پر چڑھنا  نہیں سیکھے گا۔ یہ وہ کانٹا ہے جسے مرجھانے کا خوف نہیں۔ سو کہنے لگے۔ اچھا مزید وقت ضائع کیے بغیر یہ باسط علی نے جو کہا  ہے کہ جاوید کو کپتانی سے ہٹانے میں عمران خان  کا  ہاتھ تھا

اس پر  ہی کچھ لکھ دیں۔ ڈاکٹر صاحب سے پنتیس برس کا ساتھ تھا۔ بہت سی باتیں کی ہوں گی۔ کراچی گروپ اور کرکٹ کے لاہوری گروپ کے بارے میں  اس کا کوئی ایک آدھ قصہ۔

ڈاکٹر ظفر الطاف کو علم تھا کہ ہم کرکٹ سے شدید نفرت کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ہمیں سمجھاتے تھے کہ کرکٹ بہت عظیم فلسفیانہ کھیل ہے۔ ہم چھیڑتے کہ بس سقراط، ارسطو،میکاولی اور ابوریحان البیرونی نے نہیں کھیلا۔ کہتے تھے نہیں تم نہیں سمجھو گے یہ وہ واحد کھیل ہے جس میں ایک کھلاڑی بہ یک وقت گیارہ کھلاڑیوں کا مقابلہ کرتا ہے۔

جن دنوں کراچی ایم کیو ایم کی کامل گرفت میں تھا۔ کراچی کے گلشن میں صرف لاشوں کا کاروبار چلتا تھا۔ ایک رات گیارہ بجے لینڈ لائن پر ڈاکٹر صاحب کا فون آیا کہ کیڈبری کون ہے؟ ہم نے کہا ”حنیف کیڈبری“  جی۔ تم کو پتہ ہے۔ ہم چپ رہے تو پوچھا ”پتہ کرو یہ اس وقت کہاں ہے؟“ حنیف کراچی کے بڑے بکیز میں تھا۔ بچپن سے چاکلیٹ کی مشہور برانڈ کا رسیا تھا  لہذا اس کی شناخت ہی کیڈبری بن گئی۔ میمنوں میں ایسی شناخت مروج  ہے۔ تانبے کے ایک بیوپاری کو اس کی بیوی بھی عزیز تانبا ہی کہہ کر پکارتی تھی۔ ہماری خاموشی کو بھانپ گئے  Something Wrong ہم نے بتایا کہ اس کی لاش جنوبی افریقہ سے تابوت میں بند ہوکر آئی تھی۔غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق اس میں کیڈبری کے  کچھ پیکٹ بھی ڈالے ہوئے تھے۔ لاش کو بجلی کے آرے سے  بھی کاٹا گیا تھا۔اس نے جوئے میں بہت گڑبڑ کی تھی۔ ایسی بے ایمانی  کالے دھندے میں نہیں چلتی۔You win with a smile, you pay with your life

ڈاکٹر صاحب برملا دوستوں کی محفل میں بتاتے تھے کہ جوئے میں پاکستان ٹیم کو ملوث کرانے کا سہرا کپتان آصف اقبال رضوی کے سر تھا۔ آصف اقبال بھارت کی ٹینس اسٹار  ثانیا مرزا کے رشتہ دار ہیں۔ سن تھا1979-1980,۔الزام لگ رہا تھا کہ وہ اور گاؤسکر ممبئی کے بکیز کے رابطے میں تھے۔ حیدرآباد دکن میں کوئی ٹیسٹ میچ ہوا تھا۔ ٹیسٹ کا ٹاس پاکستان جیت گیا تھا جس پر آصف اقبال نے  بطور کپتان ضد کی کہ نہیں ٹاس انڈیا جیتا ہے۔ یہ بکیز کی اصطلاح میں کٹنگ کہلاتی ہے۔ ایک بال اور رمز پر بھاؤ کھل رہا ہوتا ہے۔ اصل مال کٹنگ  اور سائیڈ بیٹنگ میں بنتا ہے۔ شاید ٹاس جیتنا پاکستان کے حق میں تھا مگر بکیز کو مار پڑرہی تھی سو گیم یوں بنایا گیا۔

 سن 1999 ایک مرتبہ پھر ورلڈ کپ کا مرحلہ درپیش تھا۔ ڈاکٹر صاحب اور ہم جہلم میں ایک بہت بڑی بزرگ شخصیت  کرنل محمد اختر رضوانی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب کو  بطور منیجر ورلڈ کپ کے لیے ٹیم لے کر برطانیہ جانا تھا۔ پریشان تھے۔ بزرگ کہنے لگے تمہارا کپتان زیادہ اچھا آدمی  نہیں ہے۔ زرا دھیان رکھیے گا کہیں پیسوں کے چکر میں میچ نہ ہار جائیں۔

 ٹیم میں سب سے نیک شعیب اختر ہے اس سے نماز کی پابندی کرانا۔ کپ آپ کا نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو بات کچھ جچی نہیں۔

سیریز جاری تھی اور اگلا میچ بنگلہ دیش سے۔ ٹھیک سے کھیلتے تو یہ ایک واک اوور میچ تھا۔ ان دنوں ان کی ٹیم ماٹھی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو سفارت خانے میں موجود کسی افسر نے بتایا کہ سب پاکستانی، حتی کے ہماری ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں نے بھی انگلستان میں دوستوں سے رقم لے کر بنگلہ دیش پر بھاؤ لگایا ہے بلکہ چند ایک  لیڈر بھی بنگلہ دیش  پر داؤ لگا رہے ہیں۔ یہ سن کر  ڈاکٹر صاحب کا ماتھا ٹھنکا۔ انہوں نے فون کیا کہ ان بزرگ سے پوچھو اور جواب لے کر پہلی فلائیٹ سے  لندن آجاؤ۔ ہم نے فون پر معلومات حاصل کیں تو کپتان کے حوالے سے بزرگ ناخوش لگے۔ ہم بھی نہیں گئے۔ ڈاکٹر صاحب پہلے ہی دل گزیدہ تھے۔

اب آپ پوچھیں گے یہ دل گزیدگی کیسی۔

میاں داد بہت دل چسپ اور اپنے مزاج کے آدمی ہیں۔ ان میں کپتان میں ایک بات مشترک ہے کہ دونوں  Team Man  نہیں۔ دونوں میں خود پسندی بہت ہے۔

 میاں داد اسی  1999  والی ورلڈ کپ  والی ٹیم   کے انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کے کوچ تھے۔ اپنے ماتحت کھلاڑیوں سے بے تکلفی بہت تھی۔ کچھ دن پہلے تک تو خود بھی کھیلتے تھے۔ زود رنج ہیں۔ چھ سات کھلاڑیوں سے کسی محفل میں شدید ناراضگی ہوگئی۔ بضد تھے کہ وقار  یونس، سلیم ملک، محمد یوسف، اظہر محمود، مشتاق احمد، اعجاز احمد  کو باہر کردیا جائے۔۔ پی سی بی کے سربراہ خالد محمود  بورڈ کے چیرمین تھے۔ انہیں پریشانی ہوئی۔ سیلکٹررز سے مل کرطے ہوا کہ جاوید میاں داد کو باہر کردیں۔ صلو میاں سے مشورہ ہوا  اور سابق کپتان مشتاق محمد کو کوچ بنانے پر اتفاق ہوگیا۔ وہ انگلینڈ میں تھے۔ مقامی معاملات سے بخوبی واقف۔ فیصلہ ہوا کہ ڈاکٹر ظفر الطاف صاحب  کو منایا جائے کہ وہ ٹیم کے مینجر بن جائیں۔

ڈاکٹر صاحب کو حنیف برادران سے شدید چڑ تھی۔ حنیف محمد نے انہیں آخری ٹیسٹ میں ممبئی میں سن 1960–61 میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے چانس سے محروم کردیا تھا اور اپنے بھائی وزیر محمد کو ضد کرکے  بطور اوپنر لے آئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب  کو باہر کرکے ان کی خود کوجگہ پانچویں نمبر پر مڈل آرڈر بیٹسمن شامل کرلیا تھا۔ اس وقت ان کی بات رکھی گئی۔  دھمکی تھی کہ بھائی کو اوپنر نہیں لیا تو ہماری طرف سے انکار سمجھو۔ حنیف محمد سے بڑا بیٹسمن اور فضل محمود سے بڑا  بالر ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی نہ تھا۔

خیرخالد محمود صاحب نے صلو میاں کو ڈاکٹر صاحب کو سمجھانے اور کراچی کا میڈیا سنبھالنے کا ٹاسک دے دیا۔ صلو میاں بہت اعلی اردو اسپکینگ خانوادے سے تعلق رکھتے  ہیں۔ ان کی کراچی  سے وابستہ  کرکٹ کے حلقوں میں بہت عزت ہے۔ دبے دبے الفاظ میں یہ بھی کہہ دیا گیا کہ معاوضہ پچیس ہزار پونڈ سے زیادہ نہ ہو۔ مشتاق محمد سے رابطہ ہوا تو فوراً راضی ہوگئے اور وہ بھی کل چار ہزار پونڈ اور ہر شام  مشروب کی ایک بوتل  پر۔

اب یہ سوال کہ کیا کرکٹ بورڈ پر صوبائیت غالب ہے

 جی بالکل ہے بلاشبہ، روز  اول سے۔

کرکٹ کے چئیرمین صاحبان کے رول آف آنر پر نگاہ دوڑائیں تو  بورڈ کا  قیام         یعنی لاہور جم خانہ  کے کمیٹی روم میں ا یک پرائیوٹ  میٹنگ میں جو مئی 1949 کو منعقد ہوئی عمل میں آیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم کو ایک مرکزی باڈی کی تشکیل  کے بارے میں پوچھا تک نہ گیا تھا۔ اجلاس بھی لاہور کے ایک نیم سرکاری ادارے میں گورنر افتخار ممدوٹ کی سربراہی میں ہوا۔ کراچی سے کوئی مدعو نہ تھا۔ اس کے تین وائس چئرمین صاحبان جسٹس کارنیلیس سمیت   تینوں کا تعلق  پنجاب  سے تھا کسی اور صوبے کو بشمول  مشرقی پاکستان سے کوئی نمائندہ اس میں شامل نہ تھا۔آپ کو حیرت ہوگی کہ اس کہ وائس چیرمن میں ایک دفعہ ایوب خان بھی شامل تھے۔ آج تک اس عہدے پر فائز ہونے والے  سربراہان میں جن کی کل تعداد  35کے قریب بنتی ہے۔ یہ عہدہ اہل سندھ کے پاس کل دو مرتبہ رہا ہے  یعنی  ایک مرتبہ ایک سندھی پیر زادہ عبدالستار ایک دفعہ ایک اردو اسپیکنگ پرنس شہریار خان آف بھوپال  کے پاس۔ ایک مرتبہ وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کو بھی  اس عہدے پر متمکن ہونے کا شرف حاصل ہوا مگر وہ بنگالی ہونے کے علاوہ ملک کے وزیر اعظم بھی تھے۔ باقی بتیس سربراہان کا تعلق پنجاب سے تھا۔

ایک دفعہ ایک چیف جسٹس نسیم حسن شاہ بھی اس اس کے سربراہ رہے جنہوں   نے بھٹو کو پھانسی پر  لٹکانے کا  ایک معاوضہ یہ بھی طلب کیا تھا ایئر مارشل نورخان کی پی سی بی سے چھٹی کرا دی۔ جنرل ضیا الحق کی رضا سے خود پی سی بی کے چئیرمین بن گئے تھے۔  نور خان  کاردار صاحب اور ڈاکٹر صاحب ان کے چھوٹے قد کی وجہ سے مذاق کرتے تھے کہ یہ اسپن بالنگ میں  بھی باؤنسر  والا رول لانے کے چکر میں تھے۔

پاکستان میں کرکٹ کا جائزہ لیں سندھ کچھ ایسا ماٹھا بھی نہ تھا۔ یہ پنجاب اور باقی صوبوں پر فوقیت رکھتا تھا، سندھ کے پاس  سن  1935 میں اپنی کرکٹ ٹیم تھی اور اس ٹیم سے کراچی میں  آسٹریلیا   کرکٹ ٹیم  میچ کھیلنے آئی تھی۔

پاکستان میں کرکٹ ٹیم سے ابتدا میں جڑے اہم   بڑے  ناموں کا جائزہ لیں اس میں امیر الہی، انور حسین، عبدالحفیظ کاردار،خان محمد،فضل محمود، مقصود احمد، اسرار علی، نذر محمد وقار حسن، محمود حسین، ذوالفقار احمد، خالد وزیر، شجاع الدین، میراں محمد، اسلم کھوکھر اعجاز بٹ آغا سعاد ت، انتخاب عالم  اور  سعید احمد، کا تعلق پنجاب سے تھا۔ علیم الدین، حنیف، مشتاق  محمد مناف، فاروق، رئیس محمد، نسیم الغنی، والئس متھائیس، انتاؤ ڈی سوزا، حسیب الحسن کا تعلق کراچی سے تھا۔ ان میں سے بھی کراچی میں کاٹھیاواڑ سے تعلق رکھنے والے پانچ کھلاڑی، حنیف محمد، مشتاق  محمد  رئیس محمد،   تین بھائی،محمد مناف، فاروق، ہوا کرتے تھے۔ اس تناظر میں ٹیم میں پنجاب رنگ ہمیشہ سے غالب تھا۔

 دار الحکومت جب کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوا تو پاکستان کی طاقتور بیورو کریسی بھی دو واضح دھڑوں  بٹ گئی۔ اردو اسپیکنگ بیوروکریسی نے رفتہ رفتہ اپنا دامن  تہہ کر  پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف موڑ لیا۔ سول سروس میں اسے کوئی خاص کشش نظر نہ آئی۔ بھٹو کے کوٹہ سسٹم نے  سول سروس سے جڑے تفاخر کو اور بھی پامال کیا۔ یہ اوسط سے نچلے درجے کے بے اصول  نوجوانوں کی چراگاہ بن گئی۔

ڈاکٹر صاحب سے ہم نے جب بھی پوچھا تو وہ کہتے تھے مظفر حسین صاحب اور سعید جعفری جیسے کراچی پرور آئی سی ایس افسران سول سروس سے رخصت ہوئے تو کرکٹ کے میدان میں بھی ایک خلا ہوگیا۔ اس خلا کو پر کرنے کراچی کی کرکٹ پر سراج الاسلام بخاری، عیسی جعفر اور منیر حسین جیسے غیر متعلقہ مگر  ریشہ دوانیوں کے ماہر افراد کا  قبضہ ہوگیا۔ جنہیں کرکٹ سے زیادہ مشرقی پاکستان سے بندر باہر ایکسپورٹ کرنے میں دل چسپی تھی۔ کرکٹ  ایسوسی ایشن کی آڑ میں یہ دھندہ آسان ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کو یہ سب یوں ناپسند تھے کہ پسندیدہ کھلاڑیوں کی اسکورنگ کا ایوریج  اوپر لانے کے لیے  اپنی  مرضی کے ایمپائر   لگاتے تھے۔ انہیں لالچ اور خوف میں مبتلا رکھتے تھے  اور سمینٹ کی وکٹوں پراچھے کھلاڑی   پیدا ہونا  بند ہوگئے۔ اس کے علاوہ حنیف محمد  بھی سازشوں سے بعض نہ آتے تھے ان کے ساتھ حسیب ا لحسن جو  ٹیسٹ ٹیم میں اسپنر تھے شامل ہوگئے تھے۔ دونوں گہرے دوستوں کی ضد ہوتی تھی کہ ہر قیمت پر صادق اور حینف محمد کے بیٹے شعیب کو کھلایا جائے۔ ڈاکٹر صاحب اس سے بہت زچ ہوتے اسی طرح   کراچی کے کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ایم کیو ایم کے سہارے بھی ٹیم میں آنا چاہتی تھی۔ کاردار صاحب اور ڈاکٹر صاحب  پہلے کسی کا دباؤ لینے والے نہ تھے۔

یہ کاردار صاحب ہی تھے جو بقول ڈاکٹر صاحب میاں داد کو دیکھنے خاص طور پر کراچی سے میرپور خاص  گئے تھے۔ اس وقت میاں داد کا لباس بھی غریبانہ تھا۔ وہ ان کی اپ کیپ کی خاطر ڈاکٹر صاحب  جو بورڈ کے آنریری سیکرٹری تھے انہیں دو ٹکٹوں کا کیش دلوایا کرتے تھے۔ ہم نے کاردار صاحب اور ڈاکٹر صاحب میں صوبائی تعصب کی ہلکی سی بھی رمق نہیں دیکھی۔ دونوں بہت اصول پرست تھے۔ زندگی کا کونسا راز تھا وہ جو ہم سے شئیر نہ کرتے مگر کئی دفعہ ہمیں ٹیم سلیکشن کے وقت باہر بھیج دیا جاتا جہاں کبھی صلو میاں تو کبھی عارف عباسی صاحب کے اسٹاف کے ساتھ ہماری گپ لگتی تھی۔ ہم سے ٹیم کا سیلکشن ایک دفعہ بھی ڈسکس نہ ہوا تھا۔ جب ایک کھلاڑی نے اپنے چھوٹے بھائی کو شامل کرنے کے لیے ہم پر دباؤ ڈالا اور ہم نے ڈاکٹر صاحب کی نبض ٹٹولی تو کہنے لگے جب وہ ٹیم میں شامل ہوا تو اس نے پاجامہ پہن رکھا تھا۔ اس کا سلیکشن میرٹ پر ہوا تھا اس سے کہو  وہ میرٹ پر ہوگا تو آ جائے گا۔ ہم نے یہ جواب پہنچایا تو کہنے لگے”تھالے یہ پنجابی اپن میمن لوگ کی بات کبھی نہیں مانیں گے“۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم1979–1980  آصف اقبال کی سربراہی میں جب  بھارت کی سیریز ہار کر پاکستان واپس آئی تو کراچی کے تاجروں سے یہ بات باہر نکل گئی کہ  آصف اقبال پاکستان کی طرف سے سوداگروں کی جیب میں تھے۔  کرکٹ میں ہار جیت کے فیصلے ممبئی اور دوبئی کے بکی کیز  میدان کے باہر بیٹھ کر کرنے  لگے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا  خیال تھا کہ ایئر مارشل نور خان پر  میاں داد کو کپتان بنانے کے لیے بہت دباؤ تھا۔ وہ  جنرل ضیا الحق کے پسندیدہ کھلاڑیوں میں سے تھے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بہت باکمال بیٹسمن تھے۔ جاوید میاں داد کا کپتان بننا یوں بہت غیر معمولی تھا کہ وہ محض بائیس برس کے تھے۔

جاوید میاں داد کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان دنوں ٹیم میں بڑے ناموں کی بھرمار تھی۔ منظر نامے میں عمران خان، وسیم باری، وسیم حسن راجہ، سرفراز نواز،اقبال قاسم، ماجد خان، ظہیر عباس موجود تھے۔ ان کھلاڑیوں میں اقبال قاسم کے علاوہ ہر شخص خود کو کپتان کے روپ میں دیکھتا تھا۔ ان ہی میں عمران خان تھے جنہیں سن 1982 میں نور خان نے جاوید میاں داد کی جگہ کپتان بنا دیا۔

میاں داد کی کپتانی ہمیشہ سے الجھنوں کا شکار رہی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کی  قومی کرکٹ ٹیم میں بہت اہم کھلاڑی شامل تھے۔

پاکستان میں کپتانی کا دورانیہ دیکھیں تو کوئی خاصا طویل نہیں۔ پہلی دفعہ جب عمران خان سن بیاسی میں کپتان بنے تو ان کو ہٹا کر ظہیر عباس کو کپتان بنادیا گیا تھا۔ وہ کل دو سال کپتان رہے جب کہ میاں داد اور عمران پاکستان کے کپتان طویل ترین عرصے کے لیے رہے یعنی کل بارہ برس۔ سو باسط میاں کی بات میں وزن نہیں۔

(اس مضمون کی تیاری میں سال کرکٹ سے جڑے دو پیرانہ سال افراد حال سکنہ برطانیہ اور کراچی کی مدد لی گئی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد اقبال  دیوان چار عدد کتب کے مصنف ہیں جسے رات لے اڑی ہوا، وہ ورق تھا دل کی کتاب کا، پندرہ جھوٹ اور تنہائی کی دھوپ، دیوار گریہ کے آس پاس۔ پانچویں کتاب ”چارہ گر ہیں بے اثر“ ان دنوں ادارہ قوسین کے ہاں زیرطبع ہے۔ آپ کے کالمز وجود، دلیل،دیدبان اور مکالمہ پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ سابق بیورکریٹ ہیں۔

sohail

sohail

Next Post

اسلام کا مذاق اڑانے پر دبئی نے بھارتی شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا

حکومت سابقہ دور کے ایل این جی معاہدے منسوخ کرنے سے پیچھے ہٹ گئی

الٹی گنگا

شہباز شریف کے ستارے گردش میں ہیں، تراویح پر جاتے ہوئے گرفتار ہو جائیں گے، شیخ رشید

شاہد آفریدی نے برائن لارا کو دنیا کا مشکل ترین بلے باز قرار دے دیا

Comments 1

  1. Rafat Ali Khan says:
    6 سال ago

    تاریخی مضمون؛ وہ جو کچھ نہ لکھا (غالباً جگہ کی کمی کی وجہ سے) وہ بھی کسی قسط میں ہو جائے، تو بات بن جائے؛ باسط علی سے میں بھی مطمئن نہیں؛ یہ بات اگر وہ کہیں، یا کہتے، کہ کراچی کے علاوہ، عمران خان جن کھلاڑیوں کو برسوں ٹیم میں کھلاتے رہے، اور وہ کبھی اپنی سلیکشن پر پورے نہیں اُترے، تو ایک لمبی لائن ہے ایسے کھلاڑیوں کی۔ ویسے، ایسی لائن میں بہتیرے ایسے کھلاڑی ہیں، جو ٹیلنٹ، ٹیلنٹ، کے کمنٹس پر ہی ٹیم میں کھیلتے رہے، میدان میں ہمیشہ منہ کی کھاتے رہے؛

    جواب دیں

Rafat Ali Khan کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In