برٹر ینڈ رسل نے کہا تھا ”وہ لوگ بھی دائیں بائیں دیکھ کر سڑک کراس کرتے ہیں جن کا پختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ موت کا اک دن معین ہے”
اکھیں رستہ بنٹریاں!
مجھے سفلی علم اور کالے جادو کی کاٹ کے ماہر ان بنگالی بابوؤ ں کا شدت سے انتظار ہےجو پلک چھپکتے میں، محبوب آپ کے قدموں پر، اولاد کا نا ہونا یا ہو کر مر جانا، لاعلاج بیماری، دل کی بند شریانیں اور قد جتنا مرضی چاہیں، جن کے مؤکل کوہ قاف کے پہاڑوں سے چشم زدن میں آ کر، تمام لاینحل مسائل ایک چٹکی میں حل کر دیتے ہیں۔
تم کس ہنر میں یکتا ہو؟
سنڈے میگزین کے مستقل ذریعہ آمدن وہ اطباء اور طبیب حاذق کہاں ہیں جو ایک تنکا بھر سفوف سے ہر مرض کا شافی و کافی علاج کرتے ہیں؟ جب دنیا بھر کے مائیکرو بائیولوجسٹ، وائرولوجسٹ، سیل تھیوری اور جینیات کے بڑے بڑے سائنسدان اور ڈاکٹرز کورونا کی ویکسین اور علاج کی دریافت میں مایوس اور ناکام و نامراد ہو کر باؤلے ہوئے پھرتے ہیں۔
حکیم لقمان کی مثل وہ طبیب کہاں ہیں، جن کا دیا ہوا ایک تنکا بھر سفوف کھا کر کورونا کے مریض اپنے ہاتھوں سے وینٹی لیٹر نوچ کر اتار پھینکیں گے اور اسپتال کے وارڈوں میں کدکڑے لگاتے پھریں گے۔
ناسٹلجیا کے سحر میں جکٹری معجزے کی منتظر ایک نسل
اب بھی اکثر بلکہ بیشتر پڑھے لکھے افراد تہہ دل سے اس بات کے قائل ہیں کہ کہاں ہے کورونا؟ ہمیں کچھ نہیں کہتا کورونا، ہم خود کورونا سے بڑی بلا ہیں؟ کچھ لوگ کرمی سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ دیکھنا جب بھی تھوڑی سی گرمی پڑی، یہ کورونا ورونا سب غائب ہو جائے گا۔ جب انھیں بتایا جائے کہ نیو یارک اور نیو جرسی کے کچھ علاقوں میں یہاں سے زیادہ گرمی پڑ رہی ہے تو وہ اس بات سے دل کو بہلا لیتے ہیں کہ وہ یہود، ہنود اور مسیح موعود کے ماننے والوں کے علاقے ہیں یہاں اور وہاں کی اور بات ہے۔ برصغیر اور خاص کر عالم اسلام پر شاید ”دین پناہ” کا دائرہ پھونک دیا گیا ہے ۔ جس سے ۔۔
؎ کوئی آفت ادھر نہیں آتی
مذہبی علماء کا شاہ رخ خان اور صحافیوں کا نائسٹروڈامس
کچھ لوگ رات کو اذانیں دے کر کورونا کے لیے صور پھونک رہے ہیں۔ راسخ العقیدہ مسلمانوں کا خیال ہے کہ ماہ رمضان کی برکت سے کورونا کا نام ونشان تک مٹ جائے گا۔ بہ شرط کہ پورا عالم اسلام روزے رکھے ، پنج وقتہ نماز مع تراویح پڑھے، اللہ کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور توبہ کرے۔
ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا تھا 15 شعبان معافی اور مغفرت کی رات ہے۔ یہ رات کورونا کی آخری رات ثابت ہو گی، کورونا کی نسل کْشی /کَشی ہو جائے گی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ کورونا کا آنا آثارِ قیامت ہیں جس کی میں پہلے ہی پیش گوئی کر چکا ہوں۔ علم الاعداد کے ماہرین کے مابین 10 مئی اور یکم جون کی تاریخوں کا اختلاف چل رہا ہے واللہ اعلم ۔۔۔۔۔۔
”وہ وقت قریب آ پہنچا ہے ” کے دو اسکول آف تھاٹ
1۔ قبل از کورونا:- جوں جوں جون قریب آتا جا رہا ہے، عوام پریشان ہوتی جا رہی ہےکہ دو ماہ کے کھانچے کہاں سے بھریں گے؟ دو ماہ دکان، مکان کا کرایہ، بچوں کی فیسیں، بجلی اور گیس کے بل، سفر حضر کے کرایے بھاڑے، گھر دفتر کے اخراجات کہاں سے آئیں گے ؟
دفتر، اسکول، کالج، یونیورسٹیاں کھل جائیں گی۔ بسیں اور کاریں پھر سے فرناٹے بھرنا شروع کر دیں گی۔ ریل کا پہیہ رواں دواں ہو جائے گا۔ مارکیٹیں، پلازے اور ہوٹلز آہستہ آہستہ، چپکے چپکے کورونا سے نظر بچا کر کھلنا شروع ہو جائیں گے۔ الغرض کارروبارحیات کا دھاگا فروری میں جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے جڑ جائے گا۔
2۔ ومابعد کورونا:- لگتا ہے کورونا کا عذاب، صدیوں کی غیر متوازن حیات، شب ہائے ظلمات کا یومِ حساب ہے۔ کورونا قوانین ِقدرت کی خلاف ورزیوں کا وہ کوڑا ہے جو ہر معصوم اور عصیاں کی پیٹھ پر پڑنے والا ہے۔ دنیا عالمگیریت سے کیمون ازم کی طرف بڑھتی جا رھی ہے۔ قریہ بہ قریہ، شہروں اور ملکوں ملکوں گھومنے کا وہ دور گیا جب اور جہاں چاہا منھ اٹھا کر چل دیے۔ خوراک، ادویات، صحت، تعلیم اور دیگر ضروریات زندگی آپ کے گھر پر آئیں گی۔ کیسے آئیں گی اور کہاں سے آئیں گی ؟ یہ سوچنا آپ کا نہیں،ریاست کا کام ہے۔
نیویارک کی وال اسٹریٹ سے لیہ کی ویلتھ اسٹریٹ تک
نیویارک کی وال سٹریٹ میں نے نہیں دیکھی البتہ لیہ کی ویلتھ اسٹریٹ دیکھی ہے۔ آپ بھی دیکھیں۔ یہ میرے شہر کی تاریخی گلی ہے۔ قیام ِ پاکستان سے بھی قبل نا معلوم کب سے قائم و دائم ہے۔ بہت طویل اور چورڑی گلی ہے۔ اول تا آخر ، دائیں سے بائیں تک گٹروں سے ابلتے ہوئے گندے پانی، کیچٹر اور گندگی سے بھری پڑی ہے۔ گلی کے کنارے کھڑے نوجوان ماسک پہنے ہوئے ہیں۔ ہاتھوں پر سینی ٹائزر لگا رکھا ہے۔ میر ے دوست شیخ یاسر بتاتے ہیں یہ لیہ کے ارب پتیوں کی گلی ہے۔ ان شیوخ کے گھر اندر سے محل ہیں۔ میر ے دوست شیخ بدر منیر کا گھر بھی اسی گلی میں ہے۔ ان پر ارب پتی ہونے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ دودھ پتی پلانے کے منصبِ جلیلہ پر مسند افروز ہیں۔
روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر
عوام کورونا سے مرنا قبول کر لیں گے لیکن بھوک اور پیاس سے ہرگز نہیں۔ انسان بھوک اور پیاس سے جاں بہ لب کیوں نا ہو، دریائے کے کنارے آنا ہی پڑتا ہے۔ خواہ بعد میں جان ہی کیوں نا چلی جائے؟ گھر کی قید میں رہنا قبول نہیں خواہ جسم کی قید سے رہائی مل جائے۔
مریض کو بروقت پیناڈول دی جائے تو وہ شاید سنبھل سکتا ہے ۔ بعد میں اس کے منھ میں آبِ حیات بھی چویا جائے تو وہ بھی اس کے منھ سے ادھر ادھر بہہ جاتا ہے۔ ہر وقت بروقت نہیں ہوتا۔
قرآنِ کریم کا ارشاد ہے کہ اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
قہر بن جاتے ہیں یہ گلیوں میں بھٹکنے والے
عوام بھوک سے مجبور ہو کر باہر آ گئے تو یہ بہر طور جیتے جی مر کر، سسک کر، کسی نا کسی طرح کما کھائیں گے۔ بھوک کے بجائے کورونا سے مرنا قبول کر لیں گے لیکن عوام تو حکمرانوں، طاقتوروں اور خوشحالوں کی فصیلیں ہیں۔ عوام کی یہ ڈھال جب کورونا سے گر جائے گی تو مضبوط فصیل کے اندر بیٹھے مٹھی بھر حکمران آخر کب تک، کہاں تک بچ پائیں گے؟ محفوظ رہ پائیں گے؟ آج عمران خان کا کورونا ٹیسٹ نیگیٹیو آ گیا ہے تو کل کسی اور بڑے کا کورونا ٹیسٹ پازیٹیو بھی آ سکتا ہے۔
بہترین کالم