متحدہ عرب امارات میں بھارتی سفیر کی تنبیہ کے باوجود کئی ہندو اسلام کے متعلق نازیبا باتوں سے باز نہیں آ رہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف قانون حرکت میں آ رہا ہے۔
ہفتے کے روز سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اسلام کے خلاف پوسٹیں کرنے والے کم از کم تین ہندوؤں کی نشاندہی کی گئی جو یو اے ای میں کام کر رہے ہیں، ان تینوں کو یا تو نوکری سے نکال دیا گیا ہے یا انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔
یو اے ای کی شہزادی جس کی دھمکی کے بعد بھارتی حکمرانوں کا لہجہ بدل گیا
سوشل میڈیا پر اسلام مخالف پوسٹیں، متحدہ عرب امارات میں دو بھارتی شہری مشکل میں پھنس گئے
اب تک تقریباً چھ ہندو سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹوں کے باعث مشکلات میں گھر چکے ہیں، اس فہرست میں تازہ ترین اضافہ ایک ریستوران کے شیف راوت روہت اور سٹورکیپر سچن کنی گولی ہیں جبکہ تیسرے کا نام اس کی فرم نے ابھی تک نہیں بتایا۔
گلف نیوز کے مطابق اٹیلین ریسٹورانٹس کی چین آزادیہ گروپ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اپنے ہاں ملازمت کرنے والے شیف راوت روہت کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اسی طرح شارجہ کی نیومکس آٹومیشن نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے اپنے سٹورکیپر سچن کنی گولی کو اگلے نوٹس تک معطل کر دیا ہے۔
فرم کے مالک کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کی تنخواہ روک لی ہے اور اسے کہہ دیا ہے کہ وہ کام پر نہ آئے، معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے میں ہماری پالسی صفر برداشت کی ہے، کوئی بھی شخص جو کسی مذہب کی تحقیر یا توہین کا مرتکب ہو گا اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی طرح دبئی کے ٹرانس گارڈ گروپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک ملازم کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے جس نے وشال ٹھاکر کے نام سے اپنے فیس بک پیج پر اسلام مخالف پیغامات لکھے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے تحقیق کے بعد اس شخص کی شناخت کی ہے اور اسے ملازمت سے نکالنے کے بعد کمپنی کی پالیسی اور یو اے ای کے سائبر کرائم قانون کے تحت اسے متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیا ہے، اب وہ دبئی پولیس کی حراست میں ہے۔
فرم کے ترجمان نے بتایا کہ کمپنی یو اے ای کے سائبر کرائم قواعد کی پابند ہے اور نگرانی، تحقیق اور اگر ضروری ہو تو تادیبی کارروائی کرتی ہے جس میں جرمانے، نوکری سے برخواستگی اور ملک سے نکال دینا شامل ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بھارتی سفیر نے اپنے ملک کے شہریوں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ نفرت انگیز تحریروں کے خلاف یو اے ای کے سخت قوانین کے مدنظر محتاط رہیں۔
بھارت کا اپنے شہریوں کو لے جانے سے انکار یو اے ای سے تعلقات خراب کر سکتا ہے
اسلام کا مذاق اڑانے پر دبئی نے بھارتی شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا
حال ہی میں خلیجی ممالک میں کام کرنے والے بھارتیوں کی جانب سے گستاخانہ اور اسلام مخالف پوسٹ کرنے والوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ دیکھا گیا۔
ان میں سے کئی اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ سوشل میڈیا صارفین کی نشاندہی کے بعد بہت سوں نے جلدی سے اپنی پوسٹیں ہٹا دی ہیں یا اپنے اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ کر دیے ہیں۔
اس معاملے نے اس وقت اہمیت اختیار کر لی جب خلیجی ممالک کے شہری اس بحث میں شامل ہوئے اور انہوں نے آن لائن تعصب کے خلاف آواز بلند کی۔
زیادہ تر بدزبانی کے پیچھے مسلمانوں کے متعلق نفرت کارفرما ہے جس میں وہ بھارت میں کورونا وائرس پھیلانے کے مجرم قرار دیے جا رہے ہیں۔