بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کورونا وباء کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن سے جہاں لاکھوں مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہیں شراب کے عادی افراد بھی بری طرح متاثر ہوئے کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے شراب کی فراہمی والی دکانیں بند کر دی گئیں۔
اب لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے بھارتی ریاست کرناٹک میں جب شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی تو اس کی خریداری کرنیوالوں کی لائنیں لگ گئیں۔
بھارت میں بھوک سے بچنے کیلئے گھروں کو جانیوالے 14 مزدور ٹرین نیچے کے نیچے آ گئے
بھارت میں لاک ڈاؤن سے جڑا ایک اور المیہ، 12 سالہ بچی پیدل چلتے چلتے دم توڑ گئی
اسی حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کرناٹک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے چوتھے روز 165 کروڑ کی شراب فروخت کی گئی۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے پہلے روز کرناٹک میں 45 کروڑ روپے کی شراب فروخت کی گئی تھی۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے مطابق تقریباً ایک ماہ کی بندش کے بعد شراب فروخت کرنیوالی دکانوں پر پہلے روز 3 لاکھ 90 ہزار لیٹر بیئر جبکہ 8 لاکھ 50 ہزار لیٹر بھارتی دیسی ساختہ شراب کی فروخت ریکارڈ کی گئی ہے۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کے دوسرے روز کرناٹک میں 7 لاکھ 2 ہزار لیٹر بیئر جبکہ 36 لاکھ 37 ہزار لیٹر دیسی شراب فروخت کی گئی جس کی مالیت 197 کروڑ روپے بنتی ہے۔
بھارت میں لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے میں شراب فروخت کرنیوالے دکانوں کو شام 7 بجے تک کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں کرناٹک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث شراب کے نشے میں دھت موٹر سائیکل سوار نے راستے میں سانپ کے آنے سے اس کے ساتھ جھگڑا شروع کردیا تھا جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔