تنزانیہ کے شکی صدر نے خفیہ طور پرجانوروں اور پھلوں کے نمونے ملک کی سب سے بڑی لیبارٹری میں بھیج کر ان کا کورونا ٹیسٹ کرایا تو لیبارٹری نے بکری، بٹیر اور پپیتے میں کورونا وائرس کی تصدیق کر دی۔
تنزانیہ کے صدر جان مگوفلی نے جانوروں اور پھلوں کے نمونے لیکر انہیں فرضی انسانی نام دیے اور ان کے ساتھ دیگر انسانی معلومات منسلک کر دیں۔ لیبارٹری کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ نمونے غیر انسانی ہیں۔
لیبارٹری کی جانب سے بکری، بٹیر اور پپیتے میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد تنزانیہ کے صدر کو اس بات پر یقین ہو گیا ہے کہ بڑھتے کورونا وائرس کیسز کی وجہ کورونا نہیں بلکہ ناقص ٹیسٹ کٹس یا ناقص ٹیسٹ ہیں۔
کورونا مریضوں کی بڑی تعداد میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، نئی تحقیق میں انکشاف
کورونا سے متعلق بنائی گئی رابطہ ٹریسنگ ایپ سے برطانوی شہریوں کی رازداری خطرے میں
ان کی جانب سے ٹیسٹ کٹس کو ناقص قرار دیا گیا ہے، تنزانیہ کے صدر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی ٹیسٹ کٹس میں تکنیکی خرابیاں ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ٹیسٹ کٹس بیرون ملک سے منگوائی گئی ہیں۔
جانوروں اور پھلوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد تنزانیہ کے صدر نے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی یہ بات کر چکے ہیں کہ ملک کیلئے ہر امداد ٹھیک نہیں، انہوں نے کہا کہ کٹس کی تحقیقات ہونا چاہیے۔
تنزانیہ کی حکومت نے ناقص ٹیسٹ نتائج کے بعد ملک کی قومی لیبارٹری کے سربراہ کو فارغ کر دیا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے ٹیسٹ کرنے والے سائنسدانوں کا ساتھ دیتے ہوئے صدر کے تجربے کو تیکنیکی معاملات میں سیاست کا تڑکا لگانا قرار دیا ہے۔
جان میگوفولی نے اگرچہ تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں لیکن مارکیٹیں، بس اسٹاپ اور دکانیں کھلی ہیں، صدر نے لوگوں کو کہا ہے کہ وہ خوب محنت سے کام کریں اور چرچ اور مساجد میں جانا نہ چھوڑیں۔
کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے ناقص حکومتی اقدامات پر تنزانیہ کے صدر تنقید کا ہدف رہ چکے ہیں، تنزانیہ میں سماجی فاصلوں پر بہت کم عمل کیا جا رہا ہے، مساجد اور چرچ بھی بند نہیں کئے گئے۔
دوسری طرف عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تنزانیہ کے صدر کے کورونا وائرس ٹیسٹ کے متعلق دعوؤں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
تنزانیہ میں اب تک کورونا وائرس کے 480 کیسز سامنے آئے ہیں اور وائرس سے اب تک 16 اموات ہوچکی ہیں۔
جان مگوفلی نے اب کورونا کے علاج کے لیے ان جڑی بوٹیوں کو درست قرار دیا ہے جو مڈگاسکر کے صدر نے تجویز کی ہیں تاہم عالمی ادارہ صحت نے تنبیہ کی ہے کہ ابھی تک اس وبا کا کوئی علاج سامنے نہیں آیا۔
صدر مگوفلی نے کہا ہے کہ وہ ایک جہاز مڈگاسکر بھیج کر جڑی بوٹیوں سے بنی ادویات منگوا رہے ہیں تاکہ تنزانیہ کے عوام بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
دو مزید افریقی ممالک ری پبلک آف کانگو اور گنی بساؤ بھی اسی علاج کو درآمد کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
جب صدر مگوفلی اقتدار میں آئے تھے تو ان کی جارحانہ شخصیت کو ملک میں بہت پسند کیا گیا تھا اور ٹویٹر پر ان کی تعریف میں ٹرینڈ بھی چلائے گئے تھے، انہوں نے حکومت سنبھالتے ہیں بدعنوانی کےخلاف مہم کا اعلان کرتے ہوئے کئی اعلیٰ عہدیداروں کو برطرف کر دیا تھا جس کے بعد دیگر ہمسائیہ ممالک نے بھی ان کی نقل شروع کر دی تھی۔
لیکن ہنی مون پیریڈ گزرنے کے بعد ان کی مقبولیت میں فرق پڑا ہے، انہوں نے میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں جبکہ حاملہ لڑکیوں کے سکول میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔
ملک میں رواں برس انتخابات ہونے ہیں جس میں مگوفلی کے بھی حصہ لینے کا غالب امکان ہے۔