گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی حقوق یقینی بنانے کے لیے گلگت بلتستان گورننس ریفارمز آرڈر 2019 پر مشتمل سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد میں تاخیر پر عدالت عظمیٰ نے کیس عید الفطر کے بعد سماعت کے لیے لگانے کا حکم دے دیا۔
تحریری حکمنانہ جسٹس اعجاز الاحسن نے لکھا ہے جس میں وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان میں حالیہ حکومت کی مدت ختم ہونے پر وہاں نگران حکومت قائم کرنے اور پاکستان کے الیکشن ایکٹ کے تحت انتخابات کرانے کے لیے صدارتی آرڈر جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
7 صفحاتی تحریری حکمنامے میں بنیادی کیس کو سماعت کے لیے فکس کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس میں اٹارنی جنرل کو احکامات دیے گئے ہیں کہ وہ فیصلے پر حقیقی عملدرآمد کے لیے گلگت بلتستان کے حوالے سے صدارتی آرڈرز سپریم کورٹ میں پیش کریں۔
سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ وفاقی حکومت کی ایک متفرق درخواست پر دیا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ گلگت بلتستان میں موجودہ حکومت کی مدت رواں سال کے جون میں ختم ہو رہی ہے اور شفاف انتخابات کرانے کے لیے قائم مقام حکومت کی تشکیل کی اجازت دی جائے۔
وفاقی حکومت کو درخواست دینے کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ سپریم کورٹ نے مین کیس میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کے اقدام سے قبل سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا جبکہ وفاقی حکومت ریفارمز آرڈر کی منظوری دے۔
اس سے قبل چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے متفرق درخواست کی سماعت کی تھی۔
تحریری حکمنامے کے مطابق وفاقی حکومت نے موقف اپنا رکھا ہے کہ ریفارمز آرڈر 2019 کی منظوری کابینہ سے لینی تھی تاہم گلگت بلتستان کے عوام کی دیرینہ خواہش ہے کہ آرڈر کو باقاعدہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ کیا جائے جس کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کیا گیا ہے۔
عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے مفادات اور جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے ایک غیر جانبدار نگران حکومت کے تحت شفاف اور وہاں کی عوامی امنگوں کے مطابق انتخابات مقررہ وقت پر ہونے چاہیے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ مقررہ وقت پر انتخابات مفاد عامہ کا معاملہ ہے اور عدالت اس نکتہ پر واضح موقف رکھتی ہے کہ اس کے پاس آئینی بحران کو ختم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت اختیارات موجود ہیں۔
عدالت نے تحریری حکمنامے میں مزید قرار دیا ہے کہ عدالت کے پاس یہ اختیار بھی موجود ہے کہ وہ اس کیس میں مناسب فیصلہ دے کر اسے گزشتہ فیصلے کا حصہ بنا دے۔
