• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home پاکستان

گلگت بلتستان میں گورننس ریفارمز آرڈر 2019 کے نفاذ میں تاخیر، سپریم کورٹ کا عید کے بعد سماعت کا فیصلہ

by sohail
مئی 9, 2020
in پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی حقوق یقینی بنانے کے لیے گلگت بلتستان گورننس ریفارمز آرڈر 2019 پر مشتمل سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد میں تاخیر پر عدالت عظمیٰ نے کیس عید الفطر کے بعد سماعت کے لیے لگانے کا حکم دے دیا۔

تحریری حکمنانہ جسٹس اعجاز الاحسن نے لکھا ہے جس میں وفاقی حکومت کو  گلگت بلتستان میں حالیہ حکومت کی مدت ختم ہونے پر وہاں نگران حکومت قائم کرنے اور پاکستان کے الیکشن ایکٹ کے تحت انتخابات کرانے کے لیے صدارتی آرڈر جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

7 صفحاتی تحریری حکمنامے میں بنیادی کیس کو سماعت کے لیے فکس کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس میں اٹارنی جنرل کو احکامات دیے گئے ہیں کہ وہ فیصلے پر حقیقی عملدرآمد کے لیے گلگت بلتستان کے حوالے سے صدارتی آرڈرز سپریم کورٹ میں پیش کریں۔

سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ وفاقی حکومت کی ایک متفرق درخواست پر دیا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ گلگت بلتستان میں موجودہ حکومت کی مدت رواں سال کے جون میں ختم ہو رہی ہے اور شفاف انتخابات کرانے کے لیے قائم مقام حکومت کی تشکیل کی اجازت دی جائے۔

وفاقی حکومت کو درخواست دینے کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ سپریم کورٹ نے مین کیس میں فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کے اقدام سے قبل سپریم  کورٹ سے رجوع کیا جائے گا جبکہ وفاقی حکومت ریفارمز آرڈر کی منظوری دے۔

اس سے قبل چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے متفرق درخواست کی سماعت کی تھی۔

تحریری حکمنامے کے مطابق وفاقی حکومت نے موقف اپنا رکھا ہے کہ ریفارمز آرڈر 2019 کی منظوری کابینہ سے لینی تھی تاہم گلگت بلتستان کے عوام کی دیرینہ خواہش ہے کہ آرڈر کو باقاعدہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ کیا جائے جس کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کیا گیا ہے۔

عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے مفادات اور جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے ایک غیر جانبدار نگران حکومت کے تحت شفاف اور وہاں کی عوامی امنگوں کے مطابق انتخابات مقررہ وقت پر ہونے چاہیے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ مقررہ وقت پر انتخابات مفاد عامہ کا معاملہ ہے اور عدالت اس نکتہ پر واضح موقف رکھتی ہے کہ اس کے پاس آئینی بحران کو ختم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے تحریری حکمنامے میں مزید قرار دیا ہے کہ عدالت کے پاس یہ اختیار بھی موجود ہے کہ وہ اس کیس میں مناسب فیصلہ دے کر اسے گزشتہ فیصلے کا حصہ بنا دے۔

Tags: گلگت بلتستان
sohail

sohail

Next Post

مردوں کے مادہ تولید میں کورونا وائرس کی موجودگی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

مودی حکومت کو گنگا کے پانی سے کورونا کے علاج کی امید، سائنسدانوں نے تجویز رد کر دی

بھارتی شہر ناگ پور میں پھنسے 193 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے

شوگر ملز کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں کو لوٹنے کا انکشاف

کورونا وائرس کی بھارتی دفاعی بجٹ پر ضرب، فوج کی ہزاروں پوسٹیں ختم

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In