چینی محققین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس متاثرہ مردوں کے تندرست ہونے کے بعد بھی ان کے مادہ تولید میں رہ سکتا ہے ، مذکورہ نتیجے نے اس امکان کو بڑھا دیا ہے کہ وائرس جنسی طور پر منتقل ہو سکتا ہے۔
شنگھائی میونسپل ہسپتال میں ایک ٹیم نے 38 مرد مریضوں کے ٹیسٹ کیے جو اپنا علاج اس وقت کرا چکے تھے جب یہ وبا چین میں جنوری اور فروری کے مہینوں میں اپنے عروج پر تھی۔
سی این این کے مطابق اس ٹیم نے جے اے ایم اے اوپن نیٹ ورک جرنل میں رپورٹ کیا کہ ان افراد میں سے تقریباً 16 فیصد کے مادہ تولید میں کورونا وائرس کی موجودگی کا ثبوت ملا، ان میں سے ایک چوتھائی انتہائی شدید انفیکشن کی اسٹیج میں تھے اور تقریبا 9 فیصد صحتیاب ہو رہے تھے.
بیجنگ کے ڈیانجنگ لی آف چائینیز پیپلزلبریشن آرمی جنرل اسپتال کے ساتھیوں کے مطابق انہوں نے دیکھا کہ کووڈ 19 کے مریضوں کے تولیدی مادہ میں کورونا وائرس موجود ہوسکتا ہے، اسی طرح صحتیاب ہونے والے افراد کے مادہ تولید میں بھی مل سکتا ہے۔ چاہے یہ وائرس ٹیسٹیز کے ممکنہ طور پر مضبوط امیون سسٹم کے باعث مردانہ تولیدی نظام میں افزائش نہیں کرسکتا تاہم یہ برقرار رہ سکتا ہے۔
ٹیم نے لکھا کہ ان نتائج میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، بہت سے وائرس مردانہ تولیدی راستے میں رہ سکتے ہیں، ایبولا اور زیکا وائرس دونوں جنسی مادے میں پھیلتے پائے گئے، بعض اوقات مرد مریض کے ٹھیک ہونے کے کئی ماہ بعد بھی ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کیا کورونا وائرس اس طرح پھیل سکتا ہے۔ وائرس کے شواہد ملنے کا مطلب ضروری نہیں کہ یہ متعدی بیماری ہو۔
ٹیم نے مزید لکھا کہ اگر مستقبل کی اسٹڈیز میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کورونا وائرس جنسی طور پر منتقل ہوسکتا ہے تو اس طریقے سے اس کی منتقلی کی روک تھام بھی کورونا کی روک تھام کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہوسکتی ہے ۔
ٹیم نے لکھا کہ ایسے مریضوں کیلئے پرہیز یا کنڈوم کا استعمال اسے روکنے کا ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جنین کی نشوونما کی نگرانی کرنے والے مطالعات کی ضرورت ہے۔
ٹیم کے مطابق مریض کی تھوک اور خون سے رابطے سے بچنا کافی نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ صحت یاب ہونے والے مریض کے جنسی مادے میں کورونا کی موجودگی دوسروں کو متاثر کرنے کا امکان برقرار رکھتی ہے۔