• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

مردوں کے مادہ تولید میں کورونا وائرس کی موجودگی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

by sohail
مئی 9, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

چینی محققین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس متاثرہ مردوں کے تندرست ہونے کے بعد بھی ان کے مادہ تولید میں رہ سکتا ہے ، مذکورہ  نتیجے نے اس امکان کو بڑھا دیا ہے کہ وائرس جنسی طور پر منتقل ہو سکتا ہے۔

شنگھائی میونسپل ہسپتال میں ایک ٹیم نے 38 مرد مریضوں کے ٹیسٹ کیے جو اپنا علاج اس وقت کرا چکے تھے جب یہ وبا چین میں جنوری اور فروری کے مہینوں میں  اپنے عروج پر تھی۔

سی این این کے مطابق اس ٹیم نے جے اے ایم اے اوپن نیٹ ورک جرنل میں رپورٹ کیا کہ ان افراد میں سے تقریباً 16 فیصد کے مادہ تولید میں کورونا وائرس کی موجودگی کا ثبوت ملا، ان میں سے ایک چوتھائی انتہائی شدید انفیکشن کی اسٹیج میں تھے اور تقریبا 9 فیصد صحتیاب ہو رہے تھے.

بیجنگ کے ڈیانجنگ لی آف چائینیز پیپلزلبریشن آرمی جنرل اسپتال کے ساتھیوں کے مطابق انہوں نے دیکھا کہ کووڈ 19 کے مریضوں کے تولیدی مادہ میں کورونا وائرس موجود ہوسکتا ہے، اسی طرح صحتیاب ہونے والے افراد کے مادہ تولید میں بھی مل سکتا ہے۔ چاہے  یہ وائرس  ٹیسٹیز کے ممکنہ طور پر مضبوط امیون سسٹم کے باعث مردانہ تولیدی نظام میں افزائش نہیں کرسکتا تاہم یہ برقرار رہ سکتا ہے۔

 ٹیم نے لکھا کہ ان نتائج میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، بہت سے وائرس  مردانہ تولیدی راستے میں رہ سکتے ہیں، ایبولا اور زیکا وائرس دونوں جنسی مادے میں پھیلتے پائے گئے، بعض اوقات مرد مریض کے ٹھیک ہونے کے کئی ماہ بعد بھی ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کیا کورونا وائرس اس طرح پھیل سکتا ہے۔ وائرس کے شواہد ملنے کا مطلب ضروری نہیں کہ یہ متعدی بیماری ہو۔

 ٹیم نے مزید لکھا کہ اگر مستقبل کی اسٹڈیز میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کورونا وائرس جنسی طور پر منتقل ہوسکتا ہے تو اس طریقے سے اس کی منتقلی کی روک تھام بھی کورونا کی روک تھام کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہوسکتی ہے ۔

 ٹیم نے لکھا کہ ایسے مریضوں کیلئے پرہیز یا کنڈوم کا استعمال اسے روکنے کا ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جنین کی نشوونما کی نگرانی کرنے والے مطالعات کی ضرورت ہے۔

ٹیم کے مطابق مریض کی تھوک اور خون سے رابطے سے بچنا کافی نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ صحت یاب ہونے والے مریض کے جنسی مادے میں کورونا کی موجودگی  دوسروں کو متاثر کرنے کا امکان برقرار رکھتی ہے۔

Tags: کورونا وائرسمادہ تولید میں کورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

مودی حکومت کو گنگا کے پانی سے کورونا کے علاج کی امید، سائنسدانوں نے تجویز رد کر دی

بھارتی شہر ناگ پور میں پھنسے 193 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے

شوگر ملز کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں کو لوٹنے کا انکشاف

کورونا وائرس کی بھارتی دفاعی بجٹ پر ضرب، فوج کی ہزاروں پوسٹیں ختم

کورونا وائرس پھیلانے کا الزام، برطانیہ میں 77 فون ٹاورز جلا دیے گئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In