بھارت کے اعلیٰ ترین ریسرچ کے ادارے نے مودی حکومت کی گنگا کے پانی سے کورونا کا علاج تلاش کرنے کی درخواست رد کر دی ہے۔
حکومت نے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کو درخواست کی تھی کہ وہ گنگاجل پر ریسرچ کریں تاکہ اس میں کورونا کا ممکنہ علاج دریافت ہو سکے تاہم ادارے نے یہ درخواست مسترد کر دی ہے۔
کورونا وائرس اپنی ساخت بدل کر ویکسین کی تیاری مشکل بنا سکتا ہے، نئی تحقیق
تمام ممالک کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کے لیے تیار رہیں، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
یہ درخواست بھارت کی منسٹری آف جل شکتی نے ادارے کو بھیجی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک این جی او اتولیا گنگا نے دریا کے پانی پر تحقیق کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
دی پرنٹ سے بات کرتے ہوئے آئی سی ایم آر کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ادارے کی توجہ کورونا کے علاج کی طرف مرکوز ہے اور وہ وبا کے دوران کسی دوسری تحقیق پر وقت ضائع نہیں کر سکتا۔
گزشتہ ماہ این جی او نے ایک خط میں دریائے گنگا کے پانی میں ننجا وائرس کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا تھا جس سے کورونا کا علاج ممکن ہے، خط میں کہا گیا تھا کہ ننجا ایک خاص قسم کا وائرس ہے جو نقصان دہ بیکٹیریا کو کھا جاتا ہے۔
این جی او نے اس خط کی ایک کاپی وزارت کو اور وزیراعظم آفس کو بھی بھیجی تھی، بعد ازاں وزارت کے نیشنل مشن فار کلین گنگا نے آئی سی ایم آر کو خط لکھ کر گنگا کے پانی کا کلینکل ٹرائل کرنے کی درخواست کی تھی۔
آئی سی ایم آر نے اس موضوع پر ایک اجلاس طلب کیا جس میں اس درخواست کو رد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔