فیس بک، یوٹیوب اور دیگرسوشل میڈیا ایپس آج کل ایک ویڈیو کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس میں کورونا وائرس کے متعلق سازشی نظریات بیان کیے گئے ہیں۔
26 منٹ کے دورانیے پر مبنی پلینڈیمک نامی ویڈیو دراصل ایک دستاویزی فلم کے مختلف کلپس پر مشتمل ہے جس میں فلم بنانے والے کا دعویٰ ہے کہ وہ سائنسی اور سیاسی اشرافیہ کو عیاں کرنا چاہتا ہے۔
کورونا وائرس پھیلانے کا الزام، برطانیہ میں 77 فون ٹاورز جلا دیے گئے
20 پاؤنڈ کے نئے نوٹ کا کورونا وائرس سے کیا تعلق ہے؟
فیس بک، یوٹیوب اور ٹویٹر اس وائرل ویڈیو کو ہٹانے یا اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود یہ ویڈیو پھر سے لوٹ آتی ہے۔
کچھ فیس بک استعمال کرنے والے اس ویڈیو کے لیے یوٹیوب یا دیگر معروف ویڈیو ہوسٹنگ سائیٹس کے بجائے غیر معروف ویب سائیٹس کے لنکس بڑے گروپس میں ڈال رہے ہیں۔
سی نیٹ نے یوٹیوب پر سادہ سرچ کی تو اس ویڈیو کی 9 کاپیاں وہاں موجود تھیں جن کے تقریباً 3 لاکھ ویوز ہو چکے تھے۔
اس ویڈیو میں ایک متنازعہ سابقہ میڈیکل ریسرچر جوڈی میکووٹس سازشی نظریات بیان کرتی دکھائی دیتی ہیں، اس کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے سے وبا کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔
فیس بک کے ایک نمائندے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چونکہ ماسک نہ پہننے کی ترغیب دینے سے بہت نقصان ہو سکتا ہے اس لیے ہم یہ ویڈیو ہٹا رہے ہیں۔
میکووٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ وائرس قدرتی نہیں بلکہ انسان کا بنایا ہوا ہے۔
اس ویڈیو میں ایک اور متنازعہ دعویٰ یہ ہے کہ کورونا سے اموات کی تعداد اتنی نہیں ہے جتنی بتائی جا رہی ہے، ڈاکٹرز جان بوجھ کر زیادہ تعداد بتا رہے ہیں تاکہ وہ نیشنل ہیلتھ انشورنس پروگرام سے پیسے لے سکیں۔
یوٹیوب کے ایک ترجمان نے بھی کہا ہے کہ وہ ہر ایسی ویڈیو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دیں گے جس میں کورونا کے متعلق ایسے مشورے دیے گئے ہوں جو سائنسی طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔
اس ویڈیو نے صرف دو دنوں میں یوٹیوب پر 47 لاکھ ویوز حاصل کیے ہیں۔
ٹویٹر نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ٹرینڈنگ سیکشن سے پلینڈیمک مووی کا ہیش ٹیگ ہٹا رہے ہیں۔
پلینڈیمک مووی بنانے والے مکی ویلیس نے ایک ای میل میں کہا ہے کہ وہ ایک ایسی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں جس کے ذریعے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی پابندیوں کو بائی پاس کر سکیں۔