کورونا کے باعث پہلے سے ابتر معیشت مزید ڈوب رہی ہے لیکن ایوان صدر سمیت ملک میں کچھ حلقے آج بھی اپنی جیبیں گرم کرنے کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔
کورونا کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے ڈاکڑز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور پولیس کے بجائے صدر پاکستان عارف علوی نے اعزازیہ اپنے اسٹاف کو دے دیا جو سارا سال بمشکل کوئی کام کرتا ہے۔
کورونا وائرس سے پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالرز نقصانات کا خدشہ
ملکی جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 3 فیصد تک گرنے کا امکان
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے اپنے اسٹاف کو کروڑوں روپے کا اعزازیہ دے دیا ہے، انہوں نے ایوان صدر کے گریڈ ایک سے بیس تک کے افسران کو ایک ماہ اضافی تنخواہ دینے کی منظوری دے دی ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری اکاؤنٹس کی طرف سے 7 مئی کو لکھے گئے نوٹ میں کہا گیا کہ ملک میں اس وقت کورونا کی وجہ سے شدید لاک ڈاؤن ہے اور ایوان صدر کے ملازمین کو گھر میں کام کرنے کا کہا گیا۔
نوٹ میں مزید کہا گیا کہ ایوان صدر کے چھوٹے ملازمین پارٹ ٹائم جاب کرتے ہیں لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ اس سے بھی محروم ہیں جس کی وجہ ان کا گھریلو بجٹ شدید متاثر ہوا ہے۔
لہذا اس موقع پر انہیں ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دی جائے اور اس کے لیے ایک کروڑ 38 لاکھ 78 ہزار روپے کی منظوری دی جائے، اس نوٹ کے بعد صدر پاکستان نے ایوان صدر کے ملازمین کے اضافی تنخواہ کی منظوری دے دی۔
پاکستان کی معشیت کورونا وبا کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے، وزیر اعظم عمران مخیر حضرات اور اوورسیز سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں اور دوسری جانب صدر پاکستان کروڑں روپے کا اعزازیہ ایوان صدر کے ملازمین کو کورونا کے نام پر دے رہے ہیں۔
ایوان صدر کے ملازمین کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ ان کی تنخواہیں اور الاؤنس دوسرے محکموں کے ملازمین سے دگنا ہیں اور دوسری طرف ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور پولیس کے اہلکار جو فرنٹ لائن پر ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ان کے لیے ابھی تک اضافی تنخواہ اور مراعات کا کوئی حکومتی اعلان سامنے نہیں آیا۔