امریکی کمپنی گلیڈ کو امریکہ کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ایمرجنسی صورتحال میں کورونا مریضوں پر رمڈیسیویر نامی دوائی استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے، یہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف کسی حد تک موثر ثابت ہو رہی ہے۔
رمڈیسیویرکو 2017 میں ایبولا وائرس کے علاج کے لیے تیار کیا گیا تھا، اس کی جان بچانے کی شرح 33 فیصد تھی وہ بھی اس صورت میں اگر دوائی مریض کو جلد دے دی جاتی۔
امریکی کمپنی کی تجرباتی ویکسین کورونا کے خلاف موثر ثابت ہونے لگی
کورونا کی ویکسین ستمبر تک تیار ہو جائے گی، برطانوی سائنسدان کا دعویٰ
گلیڈ نے اس سے قبل ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے لیے جو دوائی بنائی تھی اس کی ایک گولی کی قیمت 1000 امریکی ڈالرز(ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی روپے) تھی جس کے باعث کمپنی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کورونا چونکہ عالمی وبا بن چکی ہے اس لیے دوائی کی زیادہ قیمت مقرر کرنا کمپنی کے لیے ممکن نہیں ہو گا، اب گلیڈ کو یہ چیلنج درپیش ہے کہ رمڈیسیویرکی کیا قیمت رکھی جائے جس میں نفع بھی ممکن ہو اور عالمی تنقید کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔
دی انسٹیٹیوٹ فار کلینکل اینڈ اکنامک ریویو (آئی سی ای آر) کے مطابق رمڈیسیویر کا کورس 4،460 امریکی ڈالرز (پاکستانی روپوں میں 7 لاکھ سے کچھ زائد) میں ممکن ہو سکے گا۔
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق کمپنی ایک انجکشن کی قیمت 59 سے 71 ڈالر رکھنے کا سوچ رہی ہے، یہ پاکستان روپوں میں ساڑھے 9 ہزار سے ساڑھے گیارہ ہزار سے زائد بنتا ہے۔
بیکسیمو کمپنی کے چیف آپریٹنگ افسر رابر ریزا کے مطابق ایک مریض کو 5 سے 11 انجکشن لگتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ چونکہ اس دوائی کی تیاری امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے کی جا رہی ہے اور اس کی تیاری پر 10 ڈالر فی انجکشن خرچ ہو رہا ہے اس لیے رمڈیسیویر کی قیمت کم ہونی چاہیئے، تاہم ان دعوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس وقت رمڈیسیویر کی تیاری کے حقوق گلیڈ کے پاس ہیں، جب تک حکومت کوئی عمل دخل نہیں کرتی یا کمپنی اپنی مرضی سے کسی اور ادارے کو یہ حقوق نہیں دیتی، اس کی تیاری کا اختیار صرف گلیڈ کے پاس ہی رہے گا۔
گلیڈ کے حقوق قانونی طور پر 2037 میں ختم ہو جائیں گے جس کے بعد یہ جنیرک دوائی بن جائے گی جسے کوئی بھی تیار کر سکتا ہے۔
کورونا وائرس اپنی ساخت بدل کر ویکسین کی تیاری مشکل بنا سکتا ہے، نئی تحقیق
کورونا ویکسین آنے تک بین الاقوامی فضائی سفر کی کیا صورت ہو گی؟
کمپنی کی اجارہ داری روکنے کے لیے 46 امریکی سینیٹرز نے ایک صدر ٹرمپ کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کسی پرائیویٹ کمپنی کو کورونا وائرس کی کامیاب ویکسین تیار کرنے کا مکمل لائسنس نہ دے۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ مکمل لائسنس دینے کی صورت میں دوائی مہنگی ہو گی اور عام لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔