دنیا کے معمر ترین افریقی باشندے فریڈی بلوم نے کورونا وائرس وباء کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی 116 سالگرہ منائی، سو سال قبل سپینش فلو نے ان کی بہن کی جان لی تھی۔
بلوم کا کہنا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر دنیا کے معمر ترین آدمی ہیں جو خدا کی مہربانی سے اتنے طویل عرصہ سے زندہ ہیں۔
سگریٹ سلگاتے ہوئے انھوں نے 1918 کی وباء کو یاد کیا جس سے ان کی بہن سمیت لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے۔
جدید تاریخ کی چند بڑی وبائیں جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو ہلاک کر دیا
کیا کورونا سے صحتیاب ہونے والے دوبارہ اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں؟
بلوم 1904 میں ایک دیہاتی قصبے ایڈیلیڈ میں پیدا ہوئے جو جنوبی افریقہ کے مشرقی کیپ صوبہ کے ونٹربرگ پہاڑی سلسلے کے قریب واقع ہے۔
ان کی عمر اس برطانوی شہری سے زیادہ ہے جس کی عمر 112 سال ہے اور جن کا نام مارچ میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں دنیا کے معمر ترین شخص کے طور پر شامل کیا گیا ہے، تاہم جسمانی ٹیسٹ کے ذریعے بلوم کی عمر کی تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔
اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے بلوم کے پوتے پوتیاں ان کے اردگرد سرگوشیاں کر رہے تھے اور جلد ہی ہمسائے بھی انہیں سالگرہ کی مبارکباد دینے پہنچ گئے۔
بلوم نے اپنی زندگی کا ز یادہ تر حصہ کیپ ٹاؤن کے گرد کھیتوں میں کام کرتے ہوئے گزارا۔ اپنی 86 سالہ بیوی جینیٹ سے ان کی پہلی ملاقات ایک رقص پر ہوئی تھی اور اس موقع پر انھوں نے اپنی بیوقوفانہ اور غیر سنجیدہ حرکتوں سے جینیٹ کا دل جیت لیا۔ یہ جوڑا 50 سال سے شادی کے بندھن میں بندھا ہوا ہے۔
تاہم اپنی عمر کے اس عظیم حصہ میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کورونا وائرس جیسے وبائی مرض سے نہیں گھبرائیں گے، انھوں نے جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رمافوسا کے متعلق کھل کر بات کی اور ملک بھر میں سگریٹ کی فروخت پر عائد پابندی سے متعلق شکایت کی۔
ایک غیر ملکی خبررساں ایجنسی کو بلوم نے بتایا کہ رمافوسا نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ اس سال "سگریٹ” ان کی سالگرہ کی خواہش تھی۔
بلوم نے دو برس قبل ہی سے ڈاکٹروں کے پاس جانا چھوڑ دیا ہے اور اب وہ صرف روزانہ دو گولیاں ڈسپرین کی استعمال کرتے ہیں۔ اس موقع پرجینٹ نے اپنے ضدی شوہر کی جانب محبت سے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ کبھی کبھی میری گولیاں چرا لیتے ہیں۔
بلوم کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے لیکن انھوں نے اپنی بیوی جینیٹ کے پہلے شوہر سے پیدا ہونے والے دو بچوں کو اپنا لیا، ان کی 38 سالہ سوتیلی بیٹی جیسمین تورین کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہمارے لیے سب کچھ کیا۔
بیٹی نے ماضی کو یادوں کو دہراتے ہوئے بتایا کہ کیسے وہ صبح کے تین چار بجے اٹھتے اور سائیکل پر سوار ہو کر کام کو نکل جاتے۔ بیٹی نے بتایا کہ انہیں جانوروں اور باغبانی سے لگاؤ ہے۔