دنیا میں ادویات بنانے والی کئی کمپنیوں کے درمیان کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے لیکن عالمی ادارہ صحت نے واضح کر دیا ہے کہ 2021 کے اختتام سے پہلے اس کے تیار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ویکسین کی تیاری اور پھر اس کی وسیع پیمانے پر تقسیم کے ذریعے ہی کورونا وبا کو قابو میں لایا جا سکتا ہے، دنیا کی بہت سی حکومتیں ویکسین کے لیے بہت بڑی رقم صرف کر رہی ہیں جبکہ دوا ساز کمپنیاں، نئے کاروباری، جامعات اور ریسرچ کے ادارے دن رات اس کی تیاری میں مصروف ہیں۔
کیا کرسمس سے قبل کورونا ویکسین تیار ہوجائے گی؟
کورونا وائرس اپنی ساخت بدل کر ویکسین کی تیاری مشکل بنا سکتا ہے، نئی تحقیق
امریکہ کی تین بڑی کمپنیاں، آئینوویو، ماڈرنا اور فائزر، پہلے ہی کلینکل ٹرائل شروع کر چکی ہیں جو ویکسین کی تیاری کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے، برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے ریسرچرز، جنہیں حکومتی امداد بھی مل رہی ہے، پرامید ہیں کہ موسم خزاں تک وہ ویکسین تیار کر لیں گے۔
کلینیکل ٹرائل کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے انسانوں پر استعمال کر کے دیکھا جاتا ہے کہ ویکسین کام کر رہی ہے یا نہیں، تاہم عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار ڈیل فشر نے رواں ہفتے تنبیہ کی ہے کہ 2021 کے اواخر سے قبل ویکسین کا تیار ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔
ڈیل فشر ڈبلیو ایچ او گلوبل آؤٹ بریک الرٹ اینڈ ریسپانس نیٹ ورک کے سربراہ ہیں، سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اگلے سال کے آخر تک ویکسین کی توقع رکھنا ایک معقول بات ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ویکسین اپنی تیاری کے پہلے مرحلے میں ہیں، انہیں دوسرے اور تیسرے مرحلے سے ابھی گزرنا ہے تاکہ ان کے قابل اعتماد اور محفوظ ہونے کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایک مرتبہ ویکسین کی تیاری مکمل ہو جائے تو بڑے پیمانے پر اس کی پیداوار اور تقسیم کا مرحلہ آتا ہے جو بہت طویل ہوتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ویکسین کے حوالے سے خوش گمانی دکھائی ہے اور فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ رواں برس کے اختتام تک ویکسین تیار ہو گی۔
تاہم فشر اور دیگر ماہرین اس ٹائم لائن کو غیرحقیقی قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان تھوڑا قبل از وقت ہے۔
کورونا کی ویکسین ستمبر تک تیار ہو جائے گی، برطانوی سائنسدان کا دعویٰ
کورونا کی ویکسین رمڈیسیویر کی قیمت کیا ہو گی؟
امریکی کی بڑی دوا سازکمپنی روش بھی فشر کے خیال کی تائید کرتی ہے، اس کے سی ای او سیورن شان کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سی کمپنیاں متوازی طور پر ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں اور ایف ڈی اے کے ساتھ ہم نے ان کا بہترین اشتراک دیکھا ہے لیکن کسی بھی دوائی کی تیاری پر کئی برس صرف ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کورونا کی ویکسین ایک سے ڈیڑھ برس تک تیار ہو سکتی ہے۔