سپریم کورٹ نے نیو نیوز چینل کی بندش کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے نشریات بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے مزید ہدایات جاری کیں کہ نیو نیوز، پیمرا ریگولیشنز کے خلاف ریلیف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرے تاہم اس وقت تک پیمرا چینل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکے گا۔
نیو ٹی وی چینل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل اپنے وکیل اور پاکستان تحریک انصاف کے راہنما علی ظفر کے توسط سے دائر کر رکھی تھی۔
سپریم کورٹ میں جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ جس میں جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں نے اپیل کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران نیو نیوز کی جانب سے وکیل علی ظفر پیش ہوئے اور دلائل میں کہا کہ قانون میں 2 اصول بالکل واضح ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ بنیادی قانون کے متصادم ماتحت قوانین نہیں بنائے جا سکتے جبکہ دوسرا اصول یہ ہے کہ ایک قانون کے مخالف قانون سازی نہیں ہوسکتی۔
علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ریگولیشنز، ایگزیکٹو اختیار کا استعمال کرتے ہوئے بنائے جبکہ اس طرح کی تبدیلیاں رولز کے ذریعے ہی ممکن ہیں اور رولز کی منظوری کابینہ سے ضروری ہے۔
عدالت کو مزید بتایا گیا ہے کہ 2002 کے پیمرا قوانین کے تحت عوامی مفاد کے خلاف مواد نشر ہونے پر ریگولیٹری اتھارٹی نشریات روک سکتی ہے۔
ان دلائل پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان قانونی نکات کو کیوں نہیں اٹھایا گیا۔
علی ظفر نے جواب میں موقف اختیار کیا کہ ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیمرا کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے نیو ٹی وی کی نشریات بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ اپیل کے سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کے باوجود 7 مئی کو پیمرا نے نیو ٹی وی کا لائسنس معطل کر دیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ نیوز چینل کے پاس انٹرٹینمنٹ کا لائسنس ہے۔
پیمرا نے چینل کو بند کرنے کے ساتھ 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
