• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

امریکہ میں لاک ڈاؤن کا خاتمہ، سائنسدانوں نے کورونا کی دوسری لہر سے خبردار کر دیا

by sohail
مئی 12, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

امریکہ میں کئی ریاستیں کورونا وبا کی روک تھام کیلئے عائد کی گئی پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ امریکی حکام پر معیشت کا پہیہ دوبارہ چلانے کا دباؤ ہے تو دوسری طرف طبی ماہرین اس خوف میں مبتلاء ہیں کہ لاک ڈاؤن میں نرمیوں سے کورونا وبا بڑھ سکتی ہے۔

امریکہ میں پابندیوں کے باعث کروڑوں افراد کو معاشی تباہی کا سامنا ہے۔ شہریوں کو معاشی تباہی سے بچانے کیلئے امریکہ کی کئی ریاستیں کورونا کے بڑھتے کیسز کے دوران لاک ڈاؤن ہٹا رہی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے سے امریکی ریاستیں کورونا وبا کی دوسری لہرسے بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔

لاک ڈاؤن کا تصور پیش کرنے والے سائنسدان کو محبوبہ سے ملنا مہنگا پڑ گیا

بھارت میں لاک ڈاؤن کے نتائج، بھوک نے انسان اور جانور ایک برابر کر دیے

اوبامہ انتظامیہ میں کام کرنیوالے ڈاکٹر تھامس آر فریڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں معمولات زندگی سائنسی بنیادوں پر شروع نہیں کئے جا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں لاک ڈاؤن سیاست، نظریات اور عوامی دباؤ پر ختم کیا جا رہا ہے جس کے نتائج برے ہوں گے۔

امریکہ میں کورونا وائرس تخمینوں سے زائد ہلاکتوں کا سبب بن چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ماڈل میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ اگست تک امریکہ میں کورونا وائرس سے 60 ہزاراموات کا امکان ہے مگر کورونا وائرس اگست سے قبل ہی 81 ہزار سے زائد امریکیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔

امریکیوں کی جانب سے دھڑا دھڑ اینٹی باڈیز ٹیسٹ کرائے جا رہے ہیں۔ ان ٹیسٹوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس فرد میں وائرس کے خلاف کتنی مدافعت ہے۔ اس ٹیسٹ کے بعد شہریوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کے بعد انہیں وائرس سے کس قدر خطرہ ہوگا۔

امریکی میڈیا دعویٰ کررہا ہے کہ یہ ٹیسٹ ابھی تک متنازع ہیں۔ اینٹی باڈی ٹیسٹ کے 50 برانڈ دستیاب ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر میں نقائص ہیں۔

روزگار فراہم کرنیوالی کمپنیاں کام کرنے کی جگہوں کو زیادہ محفوظ شکل میں ڈھالنے کی کوششوں میں لگی ہیں تو دنیا بھر میں لیبارٹریاں کورونا کی ویکسین کی تیاری میں مگن ہیں۔

امریکہ کی کئی ریاستوں، جن میں کیلیفورنیا اور چند دیگر ریاستیں شامل ہیں، میں شہریوں کی جانب سے ماسک پہہنے سے انکار کیا گیا ہے۔ ماسک پہننے کیلئے کہے جانے پر جھگڑے ہوئے ہیں اور ایک قتل بھی ہوچکا ہے۔ امریکہ میں چند مظاہرین نے ماسک کو مسلمانوں کے پردہ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں نقاب پہنائے جا رہے ہیں۔

امریکہ میں لاک ڈاؤن سیاست کی نذر ہورہا ہے اور کئی تنظیموں کے اراکین اسے شخصی آزادیوں کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ کی 19 ریاستوں میں جلد ہی بال بنوانے کی اجازت ہوگی۔ بہت سی ریاستیں ریستوران کھولنے جا رہی ہیں۔

امریکی ریاستیں جن میں فلوریڈا،ٹینیسی اور ٹیکساس شامل ہیں،میں کورونا وائرس کیسز بڑھنے کے باوجود انہیں کھولا جارہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ریاستوں میں اموات میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

طبی ماہرین کاکہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہونگے کیونکہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو شدید بیمار ہونے میں دو سے تین ہفتے لگتے ہیں۔فوری طور پر کورونا کے اثرات ظاہر نہ ہونے سے مزید لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ گھروں سے باہر نکلیں گے۔فوری اثرات نظر نہ آنے پر امریکی ریاستوں کے گورنرز کی جانب سے سختیاں ختم کرنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

امریکہ کی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست نیویارک میں بھی لوگوں میں وائرس کا خوف کم ہوا ہے اور جن مقامات پر گزشتہ ماہ کوئی نظر نہیں آتا تھا وہاں لوگوں نے مجمع لگانا شروع کر دئے ہیں۔ریاست کی چند مقامی سڑکوں پر گاڑیاں بھی لو ٹ آئی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے ریاستیں کھولنے بارے ہدایات میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ سے قبل متعلقہ ریاست میں گزشتہ14دنوں کے دوران کورونا کیسز میں کمی ہونا چاہئے۔مگر امریکہ کی کوئی بھی ریاست لاک ڈاؤن کے خاتمہ سے قبل اس معیار پر پورا نہیں اتر رہی۔

اسی طرح لاک ڈاؤن کے خاتمہ کیلئے جاری تمام ہدایت ناموں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پابندیاں اٹھانے سے قبل وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کیا جانا چاہئیں اور رابطوں کی کھوج ہونا چاہئے۔مگر امریکہ میں ابھی تک ہر متاثرہ شخص کے رابطوں کی کھوج اور انکے ٹیسٹ کرنا ایک خواب سے کم نہیں۔امریکہ اور چین سے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق کورونا کا ہر نیا کیس مزید50لوگوں میں وائرس کی وجہ بن سکتا ہے۔اس لحاظ سے امریکہ میں روزانہ25000کیسز کے حساب سے روزانہ امریکی حکام کو13لاکھ افراد کی کھوج لگانا پڑے گی۔یہ سب کرنا ابھی تک ناممکن ہے۔

Tags: امریکہ میں کورونا وائرسامریکہ میں لاک ڈاؤن کا خاتمہکورونا کی دوسری لہرکورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

3 سالہ بیٹی کو کورونا سے محفوظ رکھنے کیلئے ایک ماں 900 کلومیٹر کے پیدل سفر پر روانہ

کورونا مریض کی ڈوبتی سانسیں بحال کرنے کیلئے مسلمان ڈاکٹر نے اپنی جان خطرے میں ڈال دی

اپنی نرس بہن کو ماسک پہنچانے کے لیے 530 میل سفر کرنے والے بھائی کی خوبصورت کہانی

ٹویٹر نے اپنے ملازمین کو تاحیات گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی

عیدالفطر کے موقع پر سعودی عرب میں 5 روزہ ملک گیر کرفیو کا اعلان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In