نجی کمپنی میں ملازمت کرنیوالے 30 سالہ جوشوا اپنی نرس بہن کو کورونا وباء سے محفوظ رکھنے کے لیے 530 میل کا سفر کر تے ہوئے این 95 ماسک دینے اس کے اسپتال پہنچ گیا۔
34 سالہ الیکسس سچل مین نارتھ کیرولینا کے ایک اسپتال میں خدمات سرنجام دیتی ہیں جسے کوویڈ 19 مریضوں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور انہیں ماسک کی اشد ضرورت تھی۔
کورونا مریض کی ڈوبتی سانسیں بحال کرنے کیلئے مسلمان ڈاکٹر نے اپنی جان خطرے میں ڈال دی
طبی فضلہ کے تھیلے اوڑھ کر اسپتال میں کام کرنے والی نرسیں کورونا کا شکار ہو گئیں
جوشوا یکجی اور اس کا دوست ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں، جب امریکی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن نے اپنی ویب سائیٹ پر ہیلتھ پروفیشنل کے لیے حفاظی سامان کی کمی کے متعلق بتایا تو دونوں نے اپنی کمپنی کوماسک ہیلتھ پروفیشنل کو دینے کی ترغیب دی۔
ویونٹ سولر کمپنی نے این 95 ماسک اپنے ملازمین کو کورونا وائرس سے بچانے کے لیے خریدے تھے تاہم جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے ملازمین چونکہ سولر پینل نصب کرنے کا کام کرتے ہیں اور ان کے لیے سادہ ماسک ہی کافی ہیں تو انہوں نے این 95 ماسک عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
جوشوا کہتے ہیں کہ وہ ایک برس سے اپنی بہن سے نہیں ملے تھے، اس لیے انہوں نے 95 ماسک اس اسپتال کو دینے کا فیصلہ کیا۔
فیڈیکس کمپنی ماسک پہنچانے کا کام آسان اور جلدی کرتی ہے تاہم جوشوا کا کہنا تھا کہ وہ ماسک ذاتی طور پر جا کر اپنی بہن کے حوالے کرنا چاہتے تھے تاکہ انہیں احساس ہو کہ مشکل کی اس گھڑی میں بھائی ان کے ساتھ ہے۔
سچل مین نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صرف ماسک دینے کے لیے ان کے 500 میل سے زائد کے سفر پر بہن زیادہ حیران نہیں ہوئیں کیونکہ وہ لوگوں کی مدد کے لیے ایسے کام کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سو سے زائد ماسک کا مطلب یہ ہے کہ اگلے کئی ہفتے ہم بحفاظت اپنے فرائض کی انجام دہی کر سکتے ہیں۔
ماسک کا بکس حوالے کرنے کے بعد دونوں بہن بھائی نے سماجی دوری کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے دور سے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔
1060 میل کے سفر پر جوشوا کا کہنا تھا کہ اگر مجھے دوبارہ بھی ایسا کرنا پڑا تو وہ کریں گے کیونکہ میری بہن میری زندگی ہے۔