ٹویٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک ڈورسی نے کہا ہے کہ کمپنی اپنے ملازمین کو تمام عمر گھر سے کام کرنے کی اجازت دے گی۔
ٹویٹر کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ان کی کمپنی گھر سے کام کرنے کا ماڈل اپنانے والی کمپنیوں میں سے ایک تھی لیکن وہ دفتر واپسی کا آغاز کرنے والوں میں سے ایک نہیں ہے۔
کمپنی نے اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ ہم نے فوری طور پر عمل کیا اور ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی، ہمارا زور مرکزیت کے خاتمے اور ایسی منقسم ورک فورس پیدا کرنے پر ہے جو کہیں سے بھی کام کر سکے۔
کورونا کے متعلق ایک ویڈیو نے یوٹیوب، فیس بک اور ٹویٹر کو پریشان کر دیا
امریکہ میں لاک ڈاؤن کا خاتمہ، سائنسدانوں نے کورونا کی دوسری لہر سے خبردار کر دیا
بلاگ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ہم گھر سے کام کر سکتے ہیں، اس لیے اگر ہمارے ملازمین کا کام اور صورتحال ایسے ہیں جہاں وہ گھر سے کام کر سکتے ہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ہم ایسا ممکن بنائیں گے۔
ٹویٹر نے 2 مارچ سے ہی گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی شروع کر دی تھی جبکہ 11 مارچ سے اسے لازمی قرار دے دیا تھا، اب کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جو ملازمین دور سے کام کرنے کو ہمیشہ کے جاری رکھنا چاہتے ہیں انہیں اس کی اجازت ہے۔
کمپنی نے مزید کہا ہے کہ جو ملازمین دفتر لوٹنا چاہتے ہیں انہیں کم از کم ستمبر تک انتظار کرنا پڑے گا، جب ہم دفاتر میں دوبارہ کام شروع کریں گے تو یہ فوری طور پر نہیں ہو گا بلکہ یہ احتیاط سے، سوچ سمجھ کر، ایک ایک دفتر کو دیکھ کر اور بتدریج ہو گا۔
اس وقت ٹیکنالوجی کی کمپنیاں سوچ و بچار کر رہی ہیں کہ آنے والے مہینوں میں اپنے دفاتر کو کس طرح چلائیں، گوگل اور فیس بک نے ورک فرام ہوم کی پالیسی میں 2021 تک توسیع کر دی ہے، ایمازون نے اسے کم از کم اکتوبر تک بڑھا دیا ہے۔
ٹویٹر کا ہیڈکوارٹر سان فرانسسکو میں ہے جہاں اپریل میں میئر لنڈن بریڈ نے گھر سے کام کرنے کے احکامات کو مئی کے آخر تک بڑھا دیا ہے۔
گورنر گیون نیوسم نے ریاست کو دھیرے دھیرے کھولنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، کچھ دکانداروں کو پک اپ سروس شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
لاس اینجلس، جہاں ریاست میں کورونا کے باعث ہونے والی آدھی اموات واقع ہوئی ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ ممکنہ طور پر وہ گھر سے کام کرنے کے احکامات کو مزید تین ماہ بڑھا سکتے ہیں۔
یکم مارچ سے اب تک کیلیفورنیا میں کورونا کے 70 ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں، اموات کی تعداد 2847 تک پہنچ چکی ہے، ان 70 ہزار کیسز میں سے 1974 سان فرانسسکو میں ہوئے ہیں جہاں ٹویٹر کا ہیڈ کوارٹر ہے۔