وفاقی کابینہ نے کپاس کی امدادی قیمت مسترد کرنے سے متعلق اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلے کو نظرثانی کے لیے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو آگاہ کیا کہ کپاس کی 4200 روپے امدادی قیمت مسترد کرنے کا ای سی سی کا فیصلہ جب وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا تو اس سمری کو نظرثانی کے لیے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
بزنس ریکارڈر میں شائع مشتاق گھمن کی خبر کے مطابق یہ پیشرفت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی وجہ سے ہوئی جو کہ کپاس کے ایک اہم کاشتکار بھی ہیں۔
انھوں نے وزارت فوڈ سیکیورٹی کی جانب سے مداخلت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے اراکینِ قومی اسمبلی کو کپاس کی امدادی قیمت کی منظوری نہ ہونے پر انتہائی تشویش ہے۔
ذرائع کے مطابق مشیر تجارت عبدرازاق داؤد نے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے کہا ہے کہ وہ اس غیرمتوقع اور سنجیدہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے ان کی بھرپور حمایت کریں۔
یاد رہے کہ 7 مئی 2020 کو ای سی سی نے وزارت فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا جس میں کپاس کی امدادی قیمت 4 ہزار 224 روپے فی من تجویز کی گئی تھی۔
بین الاقوامی تجارت سے متعلق اقوام متحدہ کے متعلقہ شعبے کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان نے 2019 میں 831.78 ملین ڈالر کی کاٹن بیرون ممالک سے درآمد کی۔