پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق بالر اور کپتان وسیم اکرم نے سچن ٹنڈولکر اور ویرات کوہلی کے تقابل کی بحث میں اپنا تفصیلی نکتہ نظر بتا دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ کوہلی کو باؤلنگ کراتے ہیں تو ان کے آؤٹ ہونے کے امکانات سچن ٹنڈولکر سے بہت زیادہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ویرات اگرچہ جدید دور کا ایک عظیم کھلاڑی ہے لیکن بلے باز کے طور پر اس کا رویہ بہت جارحانہ ہے جبکہ سچن ایک پرسکون مزاج کے ساتھ جارحانہ بلے بازی کیا کرتے تھے۔
پورے کیرئیر میں ٹنڈولکر کو ایک بار روتے دیکھا، سارو گنگولی
بنگلہ دیش کے فاسٹ بالر روبیل حسین کی ویرات کوہلی سے لڑائی کیوں ہوئی؟
سچن ٹنڈولکر کی بات پر ثقلین مشتاق نے ان سے معافی مانگ لی
آکاش چوپڑہ کے یوٹیوب چینل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ہی عظیم بلے باز ہیں اور ان دونوں کا ایک دوسرے سے تقابل کرنا بہت مشکل کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب میں سچن کو غصہ دلانے کی کوشش کیا کرتا تھا تو وہ ٹھنڈے مزاج سے کھیلتا تھا، یہی وجہ ہے کہ اسے آؤٹ کرنا مشکل تھا۔
وسیم اکرم نے کہا کہ اس کے برعکس اگر کوہلی کو طیش دلایا جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے حواس پر قابو نہ رکھ سکے اور بالر کو سبق سکھانے کی کوشش کرے، اس صورتحال میں بلے باز کے آؤٹ ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ویرات کوہلی آخرکار ٹنڈولکر کا 49 ون ڈے سنچریوں کا ریکارڈ ٹوڑ دیں گے کیوں کہ ایک روزہ میچ میں اس وقت ان کی سنچریوں کی تعداد 43 تک پہنچ چکی ہے۔
وسیم اکرم کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ ویرات کوہلی ون ڈے میچز میں 50 سنچریاں بنانے والے دنیائے کرکٹ کے پہلے بلے باز بن جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ویرات اپنی تکنیک کے باعث بالرز کے لیے ڈراؤنا خواب ہے، وہ میدان بطور قائد اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
وسیم اکرم نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ویرات بہت سارے ریکارڈ توڑ دے گا لیکن ٹنڈولکر نے بے تحاشہ ریکارڈ قائم کیے ہیں اور مجھے شک ہے کہ کوہلی شاید ہی یہ تمام ریکارڈ توڑ سکے۔