اس وقت درجنوں دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی دوڑ جاری ہے، اس وقت تک دنیا میں 3 لاکھ افراد اس وبا کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 45 لاکھ کے قریب مریض سامنے آ چکے ہیں۔
ان کمپنیوں میں 5 ایسی ہیں جو کلینیکل ٹرائل کے فیز سے گزر رہی ہیں جو کسی بھی ویکسین کی تیاری کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔
ویکسین کی منظوری میں ایک سال لگ سکتا ہے
یورپین یونین کی ایک ایجنسی جو ویکسین کی منظوری دیتی ہے، کا کہنا ہے کہ ستمبر تک کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری مشکل ہے، اسے منظور ہونے میں ایک برس لگ سکتا ہے۔
کورونا وائرس شاید کبھی ختم نہ ہو اور دنیا کو اس کے ساتھ جینا پڑے، عالمی ادارہ صحت
کورونا کی ویکسین 2021 کے اختتام سے پہلے تیار نہیں ہو سکتی، عالمی ادارہ صحت
یورپین یونین میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) کے ویکسین کے شعبے کے سربراہ مارکو کیویلری نے بتایا کہ ان کا ادارہ اس وقت ویکسین کی تیاری میں مصروف 33 کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ ویکسین کی تیاری کا آغاز صفر سے ہوتا ہے اس لیے 2021 کے آغاز سے پہلے اس کی تکمیل ممکن نظر نہیں آتی۔
فرانس کے وزراء کی امریکہ پر تنقید
دواسازی کی دنیا میں ایک بہت بڑا نام سنوفی کمپنی کا ہے جو فرانس میں موجود ایک ملٹی نیشنل ادارہ ہے، اس نے اعلان کیا ہے کہ کورونا کی ویکسین تیار ہونے کے بعد اس کی پہلی کھیپ امریکہ روانہ کی جائے گی۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پال ہڈسن کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ویکسین کی پہلی کھیپ اس لیے دی جائے گی کیونکہ وہاں کی حکومت نے اس کی تیاری کے لیے فنڈز فراہم کیے ہیں۔
بلومبرگ نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ امریکہ نے ویکسین کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری کرنے کا خطرہ مول لیا ہے اس لیے وہ سب سے پہلے اور سب سے بڑا آرڈر دینے کا حق بھی رکھتے ہیں۔
ان کے اس اعلان کے بعد فرانس کے حکومتی عہدیداروں اور صحت کے حکام کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں فرانسیسی ریاست نے سنوفی کمپنی کو تحقیق کے لیے کروڑوں ڈالرز دیے ہیں۔
فرانس کی ڈپٹی وزیر خزانہ ایگنس پینیئر نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ہمیں یہ بات بالکل قبول نہیں ہے کہ فلاں فلاں ممالک کو مالی امداد کے باعث ترجیحی بنیادوں پر ویکسین تک رسائی حاصل ہو گی۔
‘عوامی ویکسین’ کے لیے عالمگیر مہم
140 بڑی شخصیات نے عوامی ویکسین کے نام سے مہم شروع کی ہے جس کا آغاز ایک خط کے ذریعے کیا گیا ہے اور جس پر وزیر اعظم عمران خان سمیت کئی دیگر ممالک کے سربراہان نے دستخط کیے ہیں۔
کورونا ویکسین کے متعلق مقبول ہوتے سازشی نظریات کی حقیقت کیا ہے؟
کورونا ویکسین آنے تک بین الاقوامی فضائی سفر کی کیا صورت ہو گی؟
خط میں کہا گیا ہے کہ حکومتوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کو ایک عالمی ضمانت کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ جب ایک محفوظ اور موثر ویکسین تیار ہو جائے تو اسے دنیا کے تمام ممالک اور ان کے عوام کے لیے مفت فراہم کی جائے۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ دستخط کرنے والے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے وزرائے صحت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عوامی ویکسین کے حق میں اکٹھے ہو جائیں۔
ورلڈ ہیلتھ اسمبلی عالمی ادارہ صحت کا فیصلہ کرنے والا شعبہ ہے جس کا اجلاس 18 مئی کو ہونا ہے۔