سپریم کورٹ نے آؤٹ آف ٹرن پرموشن، ڈیپوٹیشن سے متعلق عدالتی فیصلے پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کا لارجر بینچ اس حوالے سے عدالتی فیصلہ کا جائزہ لے گا۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس گلزار احمد نے ڈی ایس پی پنجاب پولیس تنویر احمد کی اپیل کی سماعت کے دوران کیا۔ سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
سماعت میں سپریم کورٹ نے ڈی ایس پی تنویر احمد کو انٹی ڈیٹڈ پرموشن دینے کا سروس ٹریبونل کا فیصلہ معطل کر دیا، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتوں میں بادشاہت نہیں، سرکاری ملازمین کی ترقیوں سے متعلق عدالتی فیصلوں سے لگتا ہے جیسے یہ بادشاہوں والا حکم ہو،عدالتوں نے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت عظمی کے فیصلوں میں سرکاری ملازمین کے حقوق کی بات کی گئی، ان کے کونسے حقوق ہوتے ہیں، ان کے حقوق سول سرونٹس قانون کے تحت متعین ہوتے ہیں۔
عدالت نے سروس ٹریبونل کے فیصلے کیخلاف پنجاب حکومت کی اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی۔ ڈی ایس پی تنویر احمد کو سروس ٹریبونل نے انٹی ڈیٹڈ پرموشن دینے کا فیصلہ دیا تھا جسے پنجاب حکومت نے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔
