کیلیفورنیا کی ایک بائیو فارماسیوٹیکل کمپنی نے ایک ایسی اینٹی باڈی دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو چار دن میں مریض کے جسم کو کورونا وائرس سے پاک کر دیتی ہے۔
سین ڈیاگو کی سورنٹو تھیراپیوٹکس کمپنی نے ایس ٹی آئی 1499 نامی اینٹی باڈی کے متعلق کہا ہے کہ نہ صرف یہ کورونا سے 100 فیصد محفوظ رکھتی ہے بلکہ ویکسین کے آنے سے کئی ماہ قبل ہی اس کے ذریعے مریضوں کا علاج بھی ممکن ہے۔
کمپنی کے بانی اور سی ای او ہنری جی نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات پر زور دینا چاہتے ہیں کہ علاج موجود ہے، ہمارے پاس ایسا حل موجود ہے جو 100 فیصد کام کرتا ہے۔
پاکستان اگلے چند ہفتوں میں کورونا کی دوا رمڈیسیویر کی پیداوار شروع کر دے گا
کورونا وبا پر نئی تحقیق، ماؤتھ واش کے ذریعے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کا امکان
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ اینٹی باڈی جسم میں موجود ہو تو سماجی فاصلوں کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی، آپ بغیر خوف کو معاشرے کو دوبارہ کھول سکتے ہیں۔
اپنی تحقیق کے دوران کمپنی نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اکٹھی کی گئی اربوں اینٹی باڈیز کو ٹیسٹ کیا، ان میں سے سینکڑوں ممکنہ اینٹی باڈیز سامنے آئیں جو کورونا وائرس کی کانٹا نما پروٹین سے خود کو چمٹا سکتی ہیں۔
مزید تجربات کے بعد انہیں ایک درجن کے قریب ایسی اینٹی باڈیز مل گئیں جو کورونا کی کانٹا نما پروٹین کو انسان اینزائم ACE2 سے چمٹنے سے روکتی ہیں، یہی وہ اینزائمز ہیں جن کے رستے سے وائرس انسانی خلیے میں داخل ہوتا ہے۔
فائنل ٹیسٹ کرنے کے بعد کمپنی کے ریسرچرز نے ایک اینٹی باڈی تلاش کر لی جو کورونا وائرس کو انسانی خلیے کو متاثر کرنے سے 100 فیصد روک دیتی ہے، اس کا نام ایس ٹی آئی – 1499 رکھا گیا۔
ڈاکٹر جی کا کہنا تھا کہ جب انٹی باڈی کسی وائرس کو انسانی خلیے میں داخل ہونے سے روک دیتی ہے تو وائرس زندہ نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ صرف خلیے کے اندر پہنچ کر ہی زندہ بھی رہ سکتا ہے اور مزید وائرس پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے استعارے کے انداز میں بتایا کہ یہ اینٹی باڈی اپنے بازو وائرس کے کے گرد حائل کر دیتی ہے اور ہر طرف سے لپیٹ کر جسم سے باہر دھکیل دیتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اینٹی باڈی کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہوتے اور یہ کسی بھی ویکسین سے زیادہ موثر ہے۔
سورینٹو نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیو یارک کے ہیلتھ کیئر سسٹم ماؤنٹ سینائی کے ساتھ مل کر اینٹی باڈیز کا ایک کاک ٹیل تیار کر رہی ہے جسے انہوں نے کووڈ شیلڈ کا نام دیا ہے۔
یہ کاک ٹیل تین مختلف قسم کی اینٹی باڈیز کا مجموعہ ہو گی اور ایف ڈی اے کی منظوری کے بعد ان صحتمند افراد کے لیے استعمال ہو گی جو کام پر واپس آنا چاہتے ہیں یا جو کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔
کورونا کے خلاف افریقہ میں مقبول ہوتی معجزاتی جڑی بوٹی آرٹیمیسیا پر جرمنی میں تحقیق شروع
کورونا ویکسین پر پہلا حق کس کا ہوگا؟ امریکہ اور فرانس میں جھگڑا شروع
کمپنی نے کہا ہے کہ وہ ہر ماہ دو لاکھ خوراکیں مہیا کر سکتی ہے اور وہ کروڑوں مزید خوراکوں کی پیداوار کی کوشش میں مصروف ہے۔
سورینٹو کے سینیئر نائب صدر مارک برنس وک کا کہنا ہے کہ ویکسین کی تیاری میں 18 ماہ سے زائد وقت لگ سکتا ہے جبکہ اینٹی باڈی چند ماہ میں میسر ہو سکتی ہے تاہم اس کے لیے ایف ڈی اے کی جانب سے جلد منظوری لازمی ہو گی۔
فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جونہی اینٹی باڈی جسم میں داخل ہو گی اسی لمحے انسان کورونا وائرس سے محفوظ ہو جائے گا اور جب تک یہ اس کے خون میں شامل رہے گی اس کا تحفظ کرتی رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایف ڈی اے آج منظوری دے دیتی ہے تو اینٹی باڈی لینے والا ہر شخص فوری طور پر کام پر جا سکتا ہے کیونکہ اسے وائرس کا کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔
ہیلتھ کیئر اور فارما سیوٹیکل کمپنیاں کورونا کے خلاف ویکسین اور اینٹی باڈیز کی تلاش میں ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں، انٹی باڈیز کے ذریعے کئی امراض کا علاج گزشتہ 100 سالوں سے جاری ہے لیکن ان کے نتائج سو فیصد نہیں رہے۔
کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اینٹی باڈی کی تلاش میں کامیابی میں بھی کئی چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے سابقہ کمشنرسکاٹ گاٹلیب نے بتایا کہ ڈاکٹرز کورونا سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کا پلازمہ حاصل کر کے اسے انتہائی بیمار افراد میں منتقل کر رہے ہیں، یہ پلازمہ اینٹی باڈیز سے بھرا ہوا ہے اور اس طریقہ کار سے کچھ نہ کچھ فائدہ ہو رہا ہے۔
کورونا کی ویکسین 2021 کے اختتام سے پہلے تیار نہیں ہو سکتی، عالمی ادارہ صحت
کورونا ویکسین کے متعلق مقبول ہوتے سازشی نظریات کی حقیقت کیا ہے؟
ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ جتنی بڑی تعداد میں لوگ کورونا کا شکار ہو رہے ہیں اتنی مقدار میں پلازمہ میسر نہیں ہے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اینٹی باڈیز پر ہونے والی تحقیق سے کچھ بہتری سامنے آ رہی ہے لیکن اس حوالے تشویش موجود ہے کہ ایک مریض کے اندر یہ کتنی دیر تک کورونا وائرس کے خلاف لڑنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
وبائی امراض کے ایک ماہر پروفیسر فلس کنکی کا کہنا ہے کہ اگر انفکیشن شدید ہو تو اینٹی باڈیز عموماً وائرس کا حملہ کم کر دیتی ہیں تاہم اس بات کی بھی حدود ہیں کہ ایک مریض کو کتنی بار اور کب تک اینٹی باڈیز دی جا سکتی ہیں۔
تاہم سورینٹو تھیراپیٹکس کو یقین ہے کہ انہوں نے کامیاب علاج کی کنجی دریافت کر لی ہے۔