لکھنو: ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران اپنے گھروں تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے مزدوروں سے بھرے ٹرک کو حادثہ پیش آ گیا جس سے 23 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔
حادثہ دن کے وقت پیش آیا جب مزدوروں سے بھرا ٹرک سڑک کنارے کھڑے ایک اور ٹرک سے جا ٹکرایا، یہ واقعہ اترپردیش کے اوڑیایہ ضلع میں پیش آیا۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مزدوروں کا تعلق زیادہ تر بہار، جھاڑکھنڈ اور مغربی بنگال سے تھا، حادثے میں زخمی ہونے والے 35 افراد میں سے 20 کی حالت تشویشناک ہے۔
بھارت میں پیدل چلنے والی خاتون نے بچی کو جنم دینے کے بعد 160 کلومیٹر سفر طے کیا
بھارت میں بھوک سے بچنے کیلئے گھروں کو جانیوالے 14 مزدور ٹرین کے نیچے آ گئے
بھارت میں لاک ڈاؤن سے جڑا ایک اور المیہ، 12 سالہ بچی پیدل چلتے چلتے دم توڑ گئی
کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بھارت میں ملک گیر لاک ڈاؤن کو اب تقریباً 7 ہفتے گزر چکے ہیں، اس کے نتیجے میں ایک ارب 30 کروڑ کی آبادی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے، لاکھوں دیہاڑی دار مزدور اس کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق کام اور پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی کے باعث شہروں میں کام کرنے والے مزدور اپنے اپنے علاقوں میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان میں سے بیشتر سینکڑوں میل پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں، کچھ لوگ ٹرکوں کے پیچھے بیٹھ کر گھروں تک پہنچنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔
13 مئی کو مظفرنگر میں ایک اور المناک حادثہ پیش آیا تھا جس میں بہار جانے کے لیے پیدل چلنے والے 6 مزدوروں کو ایک تیزرفتار ٹرک نے کچل کر ہلاک کر دیا تھا۔
جمعہ کو یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیاناتھ نے بیوروکریٹس اور پولیس افسروں کو حکم دیا تھا کہ وہ پوری ریاست میں لوگوں کو اپنے گھروں کو پہنچانے کے لیے بسوں اور ٹیکسیوں کا بندوبست کریں، انہوں نے کہا تھا کہ کوئی بھی شخص پیدل، سائیکل پر یا ٹرک پر سفر نہ کرے۔
اب تک بھارت میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 85000 ہو چکی ہے جو کہ چین سے زیادہ ہے ، 2753 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔