سیکرٹری ہیلتھ خیبر پختونخوا کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کورونا وبا کے مشتبہ مریضوں کے بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کرانے کے لیے پرائیویٹ لیبارٹریز سے رابطہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے کورونا وبا کے خلاف حکومتی اقدامات کے حوالے سے سو موٹو کیس کی گزشتہ سماعت میں سیکرٹری ہیلتھ خیبر پختونخوا کو حکم دیا تھا کہ وہ پشاور شہر کے علاقے ڈبگری گارڈن میں ڈاکٹروں کے کلینک کا دورہ کریں اور لاک ڈاؤن کے پیش نظر پولیس کے ساتھ اگر کوئی تنازعہ ہے تو اسے ختم کرائیں۔
سیکرٹری ہیلتھ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر خیبر پختونخوا ہیلتھ کییر کمیشن کے ہمراہ مذکورہ علاقے کے دورہ کے حوالے سے رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل شمائل احمد بٹ کے توسط سے جمع کرائی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری کی ڈاکٹروں سے ملاقات کے دوران ایک نمائندہ ڈاکٹر نے مطالبہ کیا کہ پرائیویٹ لیبس کو کورونا ٹیسٹ کی اجازت دی جائے۔
اس مطالبہ پر سیکرٹری صحت نے ڈاکٹروں کے اجلاس کو بتایا کہ محکمہ صحت ٹیسٹوں کو بڑھانے کے لیے تمام تر امکانات پر غور کر رہا ہے جن میں چغتائی لیب، آئی ڈی سی، ایکسل لیب اور شوکت خانم سے معاہدوں کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ استعداد کار بڑھا کر بڑے پیمانے پر مشتبہ افراد کا ٹیسٹ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق صوبہ میں ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بڑھ گئی ہے اور پہلے روزانہ کی بنیاد پر 40 ٹیسٹ کے مقابلے میں اب روزانہ 16 سو ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے لاک ڈاؤن میں حالیہ نرمی سے صوبے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا جسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب وبا مقامی طور پر منتقل ہو رہی ہے جبکہ سماجی دوری جیسی احتیاطی تدابیر کا خیال بھی نہیں رکھا جا رہا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی استعداد کار سے بہت زیادہ آگے بڑھ کر کام کر رہا ہے، ان میں کورونا کے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں جس سے محکمہ صحت پر مزہد بوجھ پڑے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حالات سے نمٹنے کے لیے صوبہ میں غیر مستقل عملہ کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈبگری گارڈن میں کئی ڈاکٹرز اپنے فیصلے کے تحت کلینک نہیں آ رہے تھے تاکہ کورونا کے کسی بھی نوعیت کے خطرے سے مریضوں اور دیگر عملے سمیت خود کو بھی بچایا جا سکے۔
ڈبگری گارڈن میں پولیس اور ڈاکٹروں کے مابین تصادم کے معاملے پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تاہم کچھ انفرادی کیسز تھے جن میں ضلعی انتظامیہ نے ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے کچھ اقدامات کیے اور اس دوران کسی ڈاکٹر سے کوئی بد تمیزی کی گئی اور نہ ہی کسی کو تنگ کیا گیا۔
رپورٹ کی فائنڈنگ کے مطابق ڈاکٹرز محفوظ فاصلہ اور مریضوں کی احتیاط کے لیے ایس او پیز کو فالو کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ پرائیویٹ کلینک پر لاک ڈاؤن کے دوران پابندی کے حوالے سے تاثر کو دور کر کے ایک وضاحتی نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مریض بھی کورونا کے ڈر، پبلک ٹرانسپورٹ کے بند ہونے اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کلینکس کا رخ نہیں کر رہے۔
رپورٹ کے مطابق سینئر ڈاکٹرز اور ایڈمنسٹریٹرز پر مشتمل ایک چھ رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے جو ان کلینکس کے لیے مزید ایس او پیز اور دیگر پروٹوکول طے کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق کمشنر سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈاکٹروں کی پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کی ہراسگی کے واقعات روکنے کو یقینی بنائیں۔
رپورٹ کے مطابق سیکرٹری ہیلتھ نے ڈبگری گارڈن میں مختلف میڈیکل سینٹرز کا دورہ بھی کیا اور فرداً فرداً کلینکس کے حالات دریافت کیے۔
