• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, اپریل 20, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

صدر ٹرمپ مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات کی زد میں آ گئے

by sohail
مئی 16, 2020
in تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے  اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے امریکی حکومت ان کی کمپنی کو کم از کم 9 لاکھ 70 ہزار ڈالرز کی ادائیگی کر چکی ہے جس میں ٹرمپ کے ہوٹلوں اور کلبوں میں 1600 سے زائد راتوں کے لیے کمروں کی ادائیگیاں شامل ہیں۔

 واشنگٹن پوسٹ نے  مارچ سے اس طرح کی 3 لاکھ 40 ہزار ڈالرز کی مزید ادائیگی کی تفصیلی فہرست تیار کی ہے جو تقریباً تمام کی تمام ٹرمپ ، ان کی فیملی اور اعلیٰ عہدے داروں کی طرف سے کئے گئے دوروں سے متعلق تھی۔

حکومت نے ٹرمپ اور اس کے اہل خانہ کے لیے کمروں کی ادائیگی ان کی اپنی ہی جائیدادوں پر نہیں کی تاہم صدر کے ہمراہ ان کےعملے اور سیکرٹ سروس ایجنٹوں کیلئے ادائیگی ضرور کی گئی ہے۔

کیا ٹرمپ انتخابات میں کورونا کے بہانے چین کو قربانی کا بکرا بنانے جا رہے ہیں؟

کورونا وبا کے دوران دیے جانیوالے امداد ی چیکوں کو ٹرمپ نے ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنا لیا

ریکارڈ کے مطابق یہ ادائیگیاں صدر ٹرمپ کی نجی  کمپنی اور ان کی حکومت کے مابین  بے مثال کاروباری تعلقات کو ظاہر کرتی ہیں جو ٹرمپ کےعہدہ صدارت  کے پہلے ماہ سے شروع ہوئیں  اور رواں سال تک جاری ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس دہندگان اب تک ٹرمپ کی جائیدادوں پر کرایے کی مد میں چار برس سے زائد راتوں کے برابر مالیت کی ادائیگی کر چکے ہیں، ان میں بیڈ منسٹر میں واقع ٹرمپ کے گلف کلب میں 950 راتیں، این جے اور صدر کے مارآ لاگو کلب فلوریڈا میں 530 راتیں شامل ہیں۔

 ٹرمپ کا کاروبار ابھی تک ان کی ملکیت میں ہے، اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر اس کاروبار کا کنٹرول انھوں نے اپنے بڑے بیٹے کو سونپ دیا ہے۔

ایرک ٹرمپ نے کہا کہ گذشتہ سال جب سرکاری عہدیداروں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی جائیدادوں کا دورہ کیا تو ان سے بہت کم کرایہ وصول کیا گیا جیسے  کہ "50 بکس”۔

تاہم جب واشنگٹن پوسٹ نے ان 1600 کمروں کے کرایوں کا تجزیہ کیا تو انھیں کم کرایوں کی کوئی مثال نہ ملی۔ اس کے بجائے بیڈ منسٹر کے چار کمروں پر مشتمل کاٹیج کے ہر کمرے کا  کم از کم ایک رات کا کرایہ  141.66 ڈالر جبکہ مار آ لاگو میں  کمرے کا ریٹ سب سے زیادہ 650 ڈالر فی رات  تھا۔

پوسٹ نے ٹرمپ کی آرگنائزیشن سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی ایسی مثال فراہم کر سکتے ہیں جس میں انھوں نے حکومت سے بہت کم چارج کیا ہو اور جو ایرک ٹرمپ کے اس دعوے سے مطابقت رکھتی ہو۔ کمپنی نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

 ٹرمپ نے صدارتی دفتر سنبھالنے کے بعد سے اپنی ذاتی جائیدادوں کے 250 بار دورے کیے تاہم 8 مارچ سے وہ اپنی پریذیڈنسی میں وقت گزار رہے ہیں کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے ٹرمپ کی بیشتر جائیدادیں بند کر دی گئی ہیں ۔

 ٹرمپ کی آرگنائزیشن اور  حکومتی انتظامیہ میں سے کسی نے اس حوالے سے کوئی حساب کتاب فراہم نہیں کیا کہ 2017 میں صدارت کے آغاز سے لیکر اب تک ٹیکس دہندگان کا کتنا پیسہ ٹرمپ کی کمپنیوں کو ادا کیا گیا ہے۔

دی پوسٹ نے عوامی ریکارڈ کی درخواستوں کے ذریعے حاصل کردہ سینکڑوں صفحات پر مشتمل وفاق کے اخراجات کی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے اعداد و شمار خود مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں دی پوسٹ  نے دفاع اور خارجہ کے محکموں کے اخراجات کے متعلق اور سیکریٹ سروس کی جانب سے 2019 اور 2020 میں اخراجات سے متعلق جاری نئے اعداد و شمار کو شامل کیا۔ یہ ڈیٹا ابھی بھی نامکمل ہے تاہم اس سے واضح  پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی ہی حکومت سے بے مثال پیسہ وصول کیا ہے۔

صدر کی حیثیت سے ٹرمپ کو "مفادات کے ٹکراؤ” پر مبنی ان قواعد و ضوابط سے استشنیٰ حاصل ہے جو دوسرے وفاقی ملازمین کو اپنی نجی کاروبار کو سرکاری کاروبار سے منسلک کرنے یا کام کرنے سے روکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع خبر کے مطابق آئین صدور کو اپنی تنخواہ سے ہٹ کر وفاقی حکومت سے اضافی ادائیگیاں لینے سے روکتا ہے لیکن ٹرمپ کے وکیلوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ آئین کا منشا کاروباری لین دینوں کو روکنے کے لیے نہیں تھا، جیسے ہوٹل کے کمرے کا کرایہ۔

ٹرمپ کے نقادوں کی جانب سے قانونی چیلنجز آہستہ آہستہ عدالتوں کے ذریعے آگے بڑھ رہے ہیں، ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دوران سینکڑوں ایسی ٹرانزیکشن موجود ہیں جہاں ٹرمپ، خریدار اور بیچنے والے، دونوں کے طور پرسامنے آتے ہیں۔

ان کی کمپنی حکومت کو بل بھیجتی ہے اور حکومت، عوام کو معمولی سی آگاہی کے ساتھ انھیں ادائیگی کرتی ہے۔

Tags: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
sohail

sohail

Next Post

خیبر پختونخوا حکومت کا کورونا ٹیسٹ کے لیے پرائیویٹ لیبارٹریز سے رجوع کرنے پر غور

بھارت میں لاک ڈاؤن اپنے گھروں کو جانے والے 23 مزدوروں کو نگل گیا

اندرون ملک پروازیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پبلک ٹرانسپورٹ شروع کرنے کا فیصلہ

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کی تنخواہ پاکستان کی پوری ٹیم کے برابر

اسٹیل ملز کی نجکاری، 9 ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کرنے کے معاملے میں پیشرفت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In