واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے امریکی حکومت ان کی کمپنی کو کم از کم 9 لاکھ 70 ہزار ڈالرز کی ادائیگی کر چکی ہے جس میں ٹرمپ کے ہوٹلوں اور کلبوں میں 1600 سے زائد راتوں کے لیے کمروں کی ادائیگیاں شامل ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے مارچ سے اس طرح کی 3 لاکھ 40 ہزار ڈالرز کی مزید ادائیگی کی تفصیلی فہرست تیار کی ہے جو تقریباً تمام کی تمام ٹرمپ ، ان کی فیملی اور اعلیٰ عہدے داروں کی طرف سے کئے گئے دوروں سے متعلق تھی۔
حکومت نے ٹرمپ اور اس کے اہل خانہ کے لیے کمروں کی ادائیگی ان کی اپنی ہی جائیدادوں پر نہیں کی تاہم صدر کے ہمراہ ان کےعملے اور سیکرٹ سروس ایجنٹوں کیلئے ادائیگی ضرور کی گئی ہے۔
کیا ٹرمپ انتخابات میں کورونا کے بہانے چین کو قربانی کا بکرا بنانے جا رہے ہیں؟
کورونا وبا کے دوران دیے جانیوالے امداد ی چیکوں کو ٹرمپ نے ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنا لیا
ریکارڈ کے مطابق یہ ادائیگیاں صدر ٹرمپ کی نجی کمپنی اور ان کی حکومت کے مابین بے مثال کاروباری تعلقات کو ظاہر کرتی ہیں جو ٹرمپ کےعہدہ صدارت کے پہلے ماہ سے شروع ہوئیں اور رواں سال تک جاری ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس دہندگان اب تک ٹرمپ کی جائیدادوں پر کرایے کی مد میں چار برس سے زائد راتوں کے برابر مالیت کی ادائیگی کر چکے ہیں، ان میں بیڈ منسٹر میں واقع ٹرمپ کے گلف کلب میں 950 راتیں، این جے اور صدر کے مارآ لاگو کلب فلوریڈا میں 530 راتیں شامل ہیں۔
ٹرمپ کا کاروبار ابھی تک ان کی ملکیت میں ہے، اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر اس کاروبار کا کنٹرول انھوں نے اپنے بڑے بیٹے کو سونپ دیا ہے۔
ایرک ٹرمپ نے کہا کہ گذشتہ سال جب سرکاری عہدیداروں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کی جائیدادوں کا دورہ کیا تو ان سے بہت کم کرایہ وصول کیا گیا جیسے کہ "50 بکس”۔
تاہم جب واشنگٹن پوسٹ نے ان 1600 کمروں کے کرایوں کا تجزیہ کیا تو انھیں کم کرایوں کی کوئی مثال نہ ملی۔ اس کے بجائے بیڈ منسٹر کے چار کمروں پر مشتمل کاٹیج کے ہر کمرے کا کم از کم ایک رات کا کرایہ 141.66 ڈالر جبکہ مار آ لاگو میں کمرے کا ریٹ سب سے زیادہ 650 ڈالر فی رات تھا۔
پوسٹ نے ٹرمپ کی آرگنائزیشن سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی ایسی مثال فراہم کر سکتے ہیں جس میں انھوں نے حکومت سے بہت کم چارج کیا ہو اور جو ایرک ٹرمپ کے اس دعوے سے مطابقت رکھتی ہو۔ کمپنی نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔
ٹرمپ نے صدارتی دفتر سنبھالنے کے بعد سے اپنی ذاتی جائیدادوں کے 250 بار دورے کیے تاہم 8 مارچ سے وہ اپنی پریذیڈنسی میں وقت گزار رہے ہیں کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے ٹرمپ کی بیشتر جائیدادیں بند کر دی گئی ہیں ۔
ٹرمپ کی آرگنائزیشن اور حکومتی انتظامیہ میں سے کسی نے اس حوالے سے کوئی حساب کتاب فراہم نہیں کیا کہ 2017 میں صدارت کے آغاز سے لیکر اب تک ٹیکس دہندگان کا کتنا پیسہ ٹرمپ کی کمپنیوں کو ادا کیا گیا ہے۔
دی پوسٹ نے عوامی ریکارڈ کی درخواستوں کے ذریعے حاصل کردہ سینکڑوں صفحات پر مشتمل وفاق کے اخراجات کی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے اعداد و شمار خود مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں دی پوسٹ نے دفاع اور خارجہ کے محکموں کے اخراجات کے متعلق اور سیکریٹ سروس کی جانب سے 2019 اور 2020 میں اخراجات سے متعلق جاری نئے اعداد و شمار کو شامل کیا۔ یہ ڈیٹا ابھی بھی نامکمل ہے تاہم اس سے واضح پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی ہی حکومت سے بے مثال پیسہ وصول کیا ہے۔
صدر کی حیثیت سے ٹرمپ کو "مفادات کے ٹکراؤ” پر مبنی ان قواعد و ضوابط سے استشنیٰ حاصل ہے جو دوسرے وفاقی ملازمین کو اپنی نجی کاروبار کو سرکاری کاروبار سے منسلک کرنے یا کام کرنے سے روکتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ میں شائع خبر کے مطابق آئین صدور کو اپنی تنخواہ سے ہٹ کر وفاقی حکومت سے اضافی ادائیگیاں لینے سے روکتا ہے لیکن ٹرمپ کے وکیلوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ آئین کا منشا کاروباری لین دینوں کو روکنے کے لیے نہیں تھا، جیسے ہوٹل کے کمرے کا کرایہ۔
ٹرمپ کے نقادوں کی جانب سے قانونی چیلنجز آہستہ آہستہ عدالتوں کے ذریعے آگے بڑھ رہے ہیں، ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دوران سینکڑوں ایسی ٹرانزیکشن موجود ہیں جہاں ٹرمپ، خریدار اور بیچنے والے، دونوں کے طور پرسامنے آتے ہیں۔
ان کی کمپنی حکومت کو بل بھیجتی ہے اور حکومت، عوام کو معمولی سی آگاہی کے ساتھ انھیں ادائیگی کرتی ہے۔