گزشتہ ماہ آٹھ رکن پر ممالک پر مشتمل شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) نے فیصلہ کیا کہ وہ باہمی تجارت اور انوسٹمنٹ بانڈز ڈالر کے بجائے مقامی کرنسی میں کیا کریں گے۔
ایس سی او میں پاکستان، روس اور چین کے ساتھ وسط ایشیاء کی ریاستیں بھی شامل ہیں جبکہ ایران، افغانستان، بیلارس اور منگولیا اس کے آبزرور ممالک میں شامل ہیں جو مستقبل میں اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔
اس فیصلے کو خطے سے امریکی ڈالر کی بالادستی ختم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے، ماہرین کے خیال میں اس قدم سے بین الاقوامی معاشی نظام میں بہت بڑی تبدیلی ہو سکتی ہے۔
اس سے نہ صرف عالمی تجارت میں ڈالر کی بالادستی کو دھچکہ پہنچے گا بلکہ خطے کے ممالک کی معیشت باہمی تجارت سے منسلک ہو جائے گی اور اس سے انہیں بہت فائدہ پہنچے گا۔
ایکسپریس ٹریبون میں شائع ایک مضمون کے مطابق امریکہ کی جانب سے روس، ایران، شمالی کوریا اور دیگر ممالک پر مسلسل پابندیوں کے باعث یہ تبدیلی بہت عرصے سے متوقع تھی، اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی چین کے ساتھ تجارتی جنگ اور مختلف ریاستوں کے ساتھ اس کا جھگڑالو انداز بھی اس فیصلے کا سبب بنا۔
عالمی معیشت کے نظام پر مغربی اداروں کی حکمرانی کے سبب یہ پابندیاں تمام ریاستوں کے لیے تکلیف دہ تھیں جس کی وجہ سے کئی ممالک خواہش رکھتے تھے کہ بین الریاستی تجارت کے لیے امریکی ڈالر پر انحصار ختم کیا جائے۔
اس وجہ سے 1996 میں شنگھائی فائیو گروپ اور پھر 2001 میں آٹھ ممالک پر مشتمل معاشی اتحاد نے جنم لیا، یہ کسی بھی دوسرے علاقائی گروپ سے آبادی اور جغرافیے کے لحاظ سے بہت بڑا گروپ ہے۔
آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں امریکہ، اس کے یورپی اتحادیوں اور جاپان کی بالادستی سے تنگ آ کر چین نے 2015 میں ایشین انفراسکٹرکچر انویسٹمنٹ بینک تشکیل دیا، اس کا مقصد ایشیائی ترقیاتی بینک کا مقابلہ کرنا بھی تھا جس میں امریکہ اور جاپان سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز تھے۔
اے ڈی بی میں امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے 45 فیصد ووٹنگ رائٹس ہیں اور یہ ایک طرح سے آپس میں اتحادی ممالک ہیں، اس کے برعکس چین کے پاس 6.5 اور پاکستان کے پاس 2.1 فیصد ووٹنگ رائٹس تھے۔
چین اور روس کو امریکہ کے برعکس ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ ایشیاء کا حصہ ہیں جبکہ امریکہ دور سے بیٹھا اس خطے میں صرف اپنے مفادات کی نگرانی میں دلچسپی رکھتا ہے۔
روڈ اینڈ بیلٹ انیشئیٹو (بی آر آئی) کا مقصد بھی پورے ایشیاء کو ایک ایسے نیٹ ورک میں لانا تھا جس میں تمام ریاستوں کے درمیان باہمی تجارت آسان ہو جائے۔
بی آر آئی نہ صرف ایشیاء کو اندرونی طور پر ملاتا ہے بلکہ اسے خارجی طور پر یورپ اور افریقہ سے بھی منسلک کرتا ہے، جس کے باعث اس میں عالمی اتحاد کا رنگ چھلکتا ہے۔
اس وقت تک جو بھی اقدامات اور فیصلے سامنے آئے ہیں وہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ موجودہ صدی ایشیاء کی صدی ثابت ہو گی، میکنزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق کے مطابق اشیا کی عالمی تجارت میں ایشیاء کا حصہ پہلے ہی 2002 میں 25 فیصد سے بڑھ کر 2015-17 میں 33 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
ایشیاء کے اندر ہی صنعتی رسد کی زنجیر پر مبنی نیٹ ورکس ابھر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یورپ اور امریکہ کے برعکس ایشیاء کی ترقی یافتہ معیشتیں اپنے براعظم کے اندر ہی کام کریں گی اور اپنی خدمات اور اشیاء کو دیگر براعظموں کو آؤٹ سورس نہیں کریں گی جو کہ ماضی قریب کی روایت رہی ہے۔
میکنزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا کی برآمدات کا حصہ دیگر براعظموں کے بجائے اب تیزی سے ایشیاء میں پھیل رہا ہے۔
تاہم ایشیاء کی صدی کی منزل حاصل کرنے کے لیے اس براعظم کو اندرونی انتشار، جھگڑوں اور تنازعات کو حل کرنا ہو گا۔