پینٹاگان کی جانب سے جاری شدہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی بحریہ کے پائلٹس کی جانب سے غیر شناخت شدہ اڑتی ہوئی اشیاء دیکھی گئی ہیں۔
ہیزرڈ رپورٹس کے نام سے جاری کی گئی ان رپورٹس میں ایک پائلٹ نے بتایا ہے کہ اس نے سوٹ کیس سائز کی چیز دیکھی ہے، پائلٹ کے مطابق یہ چھوٹی سی شئے سرمئی رنگ کی تھی۔
پینٹاگان کی جانب سے ان نامعلوم اڑن طشتریوں کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں۔
نیوی کے جنگی جہاز کے پائلٹس کی جانب سے ان غیر شناخت شدہ اشیاء کو فضائی گاڑیاں کہا گیا ہے، 27 جون 2013ء سے لیکر 13 فروری 2019ء کے عرصہ کے دوران امریکی نیوی کے جنگی جہازوں کا ان ‘نامعلوم اشیاء’ سے 8 بار سامنا ہوا ہے۔
امریکی نیوی کی جانب سے دیکھی گئی غیر شناخت شدہ پراسرار اشیاء کے متعلق پینٹاگان کے ایک پروگرام کے تحت تحقیقات بھی کی گئی ہیں۔
امریکی میڈیا کی جانب سے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت محکمہ دفاع کی ان رپورٹس تک رسائی حاصل کی گئی ہے جس کے بعد امریکی میڈیا نے ان نامعلوم اشیاء کے متعلق انکشافات کئے ہیں۔
18 نومبر2013ء کی ایک ایسی ہی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ان نامعلوم اڑن طشتریوں کے چھوٹے سائز کے باعث انہیں دیکھنا مشکل ہوتا ہے اور راڈار پر بھی یہ کم آتی ہیں جس کے باعث ان کا فضاء میں طیاروں سے ٹکرانے کا خطرہ زیادہ ہے۔
اسی طرح 26 مارچ 2014ء کو ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی جہاز کا ان غیر شناخت شدہ اشیاء سے قریبی سامنا ہوا۔ طیارہ میں موجود ایک پائلٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس نے ایک سوٹ کیس سائز کی چاندی کے رنگ جیسی چیز دیکھی، پائلٹ اس چیز کی شناخت کرنے میں ناکام رہا۔
13 اپریل 2014ء کو راڈار پر دو ایسی چیزیں دیکھی گئیں، رپورٹس میں کہا گیا ہے امریکی سمندری حدود میں ان نامعلوم اشیاء کے وجود سے امریکی نیوی کو خطرہ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ دفاع کے حکام ان نامعلوم اشیاء کو غیر زمینی چیزیں نہیں سمجھتے اور ماہرین کا خیال ہے کہ ان واقعات کی زمینی وضاحت ممکن ہے۔