جرمنی کے میکس پلینک انسٹیٹیوٹ میں سائنسدانوں نے آخرکار افریقہ میں کورونا کے خلاف مقبول جڑی بوٹی آرٹیمیسیا پر تحقیق شروع کر دی ہے، اس مشترکہ ریسرچ میں ڈنمارک کے سائنسدان بھی شامل ہیں۔
ریسرچ کے سربراہ پیٹر سی برگر کا کہنا ہے کہ اپنی تحقیق کے دوران وہ اس پودے کے خلیوں کا مطالعہ کریں گے اور اس کے مختلف حصوں کو الگ الگ سے جانچیں گے۔
آرٹیمیسیا ایک طویل عرصے سے افریقہ میں ملیریا کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، سی برگر کا کہنا ہے کہ کلینیکل ٹرائلز کے دوران یہ جڑی بوٹی ملیریا کے علاوہ بھی کئی دیگر امراض کے خلاف کامیاب ثابت ہو چکی ہے۔
تنزانیہ کے صدر نے بکری، بٹیر اور پپیتے کا خفیہ کورونا ٹیسٹ کرایا اور نتیجہ مثبت نکل آیا
پاکستان اگلے چند ہفتوں میں کورونا کی دوا رمڈیسیویر کی پیداوار شروع کر دے گا
اس سے قبل تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ 2002 میں سانس کی تکلیف پیدا کرنے والے سارس وائرس کو روکنے میں یہ موثر ثابت ہوئی تھی، کورونا بھی وائرس کی اسی فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان ٹرائلز کے نتائج مئی کے آخر تک آنے کی توقع ہے، اگر آرٹیمیسیا کورونا کے خلاف موثر پائی گئی تو اس کی انسانوں پر آزمائش کی جائے گی۔
‘معجزاتی علاج’ آرٹیمیسیا کیا ہے؟
اپریل کے آخر میں مڈگاسکر کے صدر آندرے راجولینا نے ایک محلول، جس میں آرٹیمیسیا شامل تھی، کے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ یہ کورونا وائرس کے خلاف ایک معجزاتی علاج ہے۔
اسی دن سے پورے افریقہ میں اس دوائی کا چرچا ہے، کئی ممالک نے باقاعدہ اس کی خریداری کے لیے مڈگاسکر کو آرڈر دے رکھے ہیں، اسے کووڈ آرگینکس کے نام سے فروخت کیا جا رہا ہے۔

مالاگاسی امرا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر چارلس آندرین جارا سے جب ڈبلیو ڈی نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اسے کئی لوگوں پر ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔
اس محلول کا فارمولا بھی خفیہ ہے اس لیے سائنسدانوں کو اس پر ٹیسٹ کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
چارلس آندین جارا نے بھی یہ کہتے ہوئے اس کا فارمولا بتانے سے انکار کر دیا کہ یہ انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے خلاف ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی وارننگ
عالمی ادارہ صحت نے اپنی ویب سائیٹ پر خبردار کیا ہے کہ آرٹیمیسیا کے کورونا کے خلاف موثر ہونے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں، لوگوں کو ٹیسٹ کے بغیر کورونا کے علاج کی ادویات استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
اس وقت تک تنزانیہ، ٹوگو اور چاڈ نے آرٹیمیسیا کے آرڈر دیے ہوئے ہیں جبکہ نائیجیریا سمیت دیگر کئی ممالک ابھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔