سویڈن کے باشندوں نے ٹیکنالوجی کو اپنے جسم کا حصہ بنا لیا ہے، وہ اپنی زندگیوں کو آسان بنانے کیلئے کئی برسوں سے مائیکروچپس کا استعمال کررہے ہیں۔
جسم میں ایک مائکرو چپ لگانے سے انہیں اپنی آئی ڈیز، جم پاسز اور کام کیلئے درکار دیگر ضروری دستاویزات کو ہمہ وقت ساتھ لیے پھرنے سے نجات مل جاتی ہے۔ دیگر ممالک کی نسبت سویڈن کے شہری زیادہ سوالات اٹھائے بغیرمائکروچپس کا استعمال بخوشی کر رہے ہیں۔
سویڈن کا 20 فیصد آبادی میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہونے کا دعویٰ
5 جی ٹیکنالوجی دنیا میں کونسے انقلاب لا رہی ہے؟
اے ایف پی کے مطابق 2015ء سے 2018ء کے دوران سویڈن کے لگ بھگ تین ہزار شہریوں نے مائکرو چپس جسم میں لگوائی ہیں، چاول کے دانے کے سائز کے برابر ان مائکروچپس کو سرنج کی مدد سے ہاتھ کی پشت پر لگایا جاتا ہے۔
سویڈن میں بہت سے ملازمین کی جانب سے ان چپس کو دفتر میں داخلہ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ان برقی چپس کو جم کے پاس کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
ان چپس کے دیگر استعمال میں مشینوں سے کھانے کی خریداری اور ان کا بطور ٹرین ٹکٹ استعمال شامل ہے۔
تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان مائکروچپس کے استعمال سے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے، اگر ان کی ذاتی معلومات دوسرے افراد پر افشا ہو گئیں تو اس سے بہت نقصان ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جس جگہ پر ان شہریوں کا ڈیٹا محفوظ ہے اس کی حفاظت بہت ضروری ہے کیونکہ اگر یہ غلط ہاتھوں میں چلا گیا تو اس کی واپسی ممکن نہیں ہو سکے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک چھوٹا ملک ہونے کی وجہ سے سویڈن کے بیشتر شہریوں کو حکام پر اعتماد زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ مائکروچپس کا استعمال زیادہ کر رہے ہیں۔