ایک ہی دن میں 20 ہزار نئے مریضوں کی آمد کے بعد روس کورونا سے متاثرین کی تعداد کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
اس وقت جبکہ دنیا کے بہت سے ممالک میں کورونا سے متاثرین کی تعداد میں کمی آ رہی ہے، روس میں اس وبا کا پھیلاؤ غیرمعمولی تیزی سے ہو رہا ہے، اس کے باوجود روسی صدر پیوٹن نے ملکی معیشت کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس وقت تک روس میں 2 لاکھ 30 ہزار افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں تاہم اموات کی تعداد 2116 ہے، صدر پیوٹن کے ترجمان دمتری پیسکوف بھی وائرس کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ چکے ہیں۔
روس کے یہودیوں میں کورونا وائرس سے کم اموات کی وجہ کیا ہے؟
یورپ، امریکہ کے بعد کورونا وائرس نے روس اور برازیل کا رخ کر لیا
روس میں مارچ سے ہی لاک ڈاؤن جاری ہے لیکن منگل کے روز تعمیرات اور فیکٹری ملازمین کو کام پر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ملک بھر میں کورونا کے کیسز اور اموات کی تعداد میں سے آدھے سے زیادہ کا تعلق ماسکو سے ہے، شہر کے باسی سوائے کام پر جانے، اشیائے ضروریہ کی خریداری یا کتوں کو چہل قدمی کرانے کے اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔
ماسکو کے شہریوں کو سفر کرنے کے لیے ڈیجیٹل اجازت نامہ ضروری قرار دیا جا چکا ہے، میئر سرجی سوبیانن کے اندازے کے مطابق ماسکو کے 3 لاکھ شہری کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں، یہ تعداد مصدقہ کیسز سے تین گنا زیادہ ہے۔
روس میں کورونا کی صورتحال اسقدر ابتر کیوں ہے؟
مارچ کے وسط میں صدر پیوٹن نے اعلان کیا تھا کہ مجموعی طور پر صورتحال قابو میں ہے اور روس دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت بہت بہتر نظر آ رہا ہے۔
اس وقت تک ملک بھر میں کورونا کے 136 کیس سامنے آئے تھے جبکہ آسٹریلیا میں اسوقت چار گنا زیادہ مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی تھی۔
چار دن بعد یہ روس میں یہ تعداد دوگنی ہو چکی تھی، اپریل کے آغاز میں وبا کا پھیلاؤ تیزی سے اوپر جانے لگا اور ابھی تک اسے روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی طرح روس میں بھی کئی ہفتوں تک کورونا خاموشی سے پھیلتا رہا اور اس کی تشخیص میں بہت دیر کر دی گئی۔
تاہم ایک اہم بات یہ ہے کہ اگرچہ کورونا کے کیسز میں بہت تیزی آ چکی ہے لیکن اموات کی شرح 0.91 فیصد ہے جو امریکہ، برطانیہ، اٹلی اور حتیٰ کہ آسٹریلیا سے بھی بہتر ہے۔
تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ روس میں اموات درست طریقے سے رپورٹ نہ ہو رہی ہوں اور وہ صرف انہی مریضوں کو گنتی میں لا رہے ہوں جو براہ راست اسی وبا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔
عموماً لوگ کورونا سے متاثر ہونے کے بعد دیگر بیماریوں کے ہاتھوں موت کا شکار ہوتے ہیں، ان بیماریوں میں حرکت قلب کا بند ہونا یا گردوں کا کام چھوڑ دینا شامل ہے۔
پیوٹن معیشت کو کیوں کھولنا چاہتے ہیں؟
کورونا وبا اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے باعث دنیا میں معیشتیں تباہی کا شکار ہو رہی ہیں لیکن روس میں صورتحال مزید ابتر ہے۔
روس کی برآمدات کا 70 فیصد حصہ تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل پر مبنی ہے اور حالیہ ہفتوں میں ان تمام کی قیمتیں بری طرح گر چکی ہیں، تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کی صورتحال یہ ہے کہ اب ڈرلنگ کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔
امریکہ میں لاک ڈاؤن کا خاتمہ، سائنسدانوں نے کورونا کی دوسری لہر سے خبردار کر دیا
چین اور جنوبی کوریا میں کورونا وبا کی دوسری لہر شروع ہو گئی
دیگر ترقی یافتہ ممالک کے برعکس روس کے پاس کریڈٹ ریٹنگ نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک کے لیے معیشت کو اٹھانے کے لیے خسارے میں جانا ممکن نہیں ہے۔
پیوٹن نے وفاقی سطح پر پابندیاں ہٹا کر مقامی گورنرز کو لاک ڈاؤن کے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار دے دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر صورتحال نہ سنبھلی تو الزام بھی صدر کے بجائے ان گورنرز پر عائد ہو گا۔
رائے عامہ کے متعلق کیے گئے پولز کے مطابق اس وقت صدر پیوٹن کی حمایت 59 فیصد تک گر گئی ہے جو گزشتہ بیس سالوں کی ان کی سب سے کم مقبولیت ہے۔
آگے ایک ریفرنڈم بھی آنے والا ہے جس میں صدر پیوٹن اپنی صدارت کی معیاد 2036 تک بڑھانے کے لیے عوام سے فیصلہ لینے جا رہے ہیں، سیاسی طور پر دیکھا جائے تو یہ ان کے لیے اپنی مقبولیت کھونے کا صحیح موقع نہیں ہے۔
دنیا میں کورونا کے سب سے زیادہ مریض کن ممالک میں ہیں؟
اس وقت تک امریکہ 13 لاکھ 70 ہزار کورونا کیسز کے ساتھ دنیا میں سرفہرست ہے، روس 2 لاکھ 32 ہزار مریضوں کے ساتھ دوسرے نمبر ہے، ان کے بعد سپین، برطانیہ اور اٹلی آتے ہیں جبکہ فرانس، برازیل، ترکی اور ایران ان کے قریب قریب ہیں۔