مئی کی جھلسا دینے والی گرمی میں مدھیہ پردیش کے دارالحکومت اندور کے مضافات میں ایک ویران سٹرک کنارے کھڑی رخسانہ بانو نے گذرتے ہوئے ایک ٹرک سے لفٹ مانگنے کا اشارہ کیا۔ وہ ایک ہاتھ میں چھوٹا سا بیگ تھامے اور دوسرے ہاتھ سے اپنی 3 سالہ بیٹی "نرگس” کو کندھے پر سنبھالے ہوئے کھڑی تھی، ٹرک بغیر رکے تیزی سے گزر گیا۔
25 سالہ یہ خاتون اپنی بیٹی کو کورونا وائرس سے بچانے کیلیے اندور سے اپنے آبائی گھر امیٹھی کا 900 کلومیٹر طویل ترین سفر پیدل جاری رکھے ہوئے ہے۔
بھارت میں 48 سالہ ماں 14 سو کلومیٹر سکوٹری چلا کر بیٹے کو گھر لے آئی
ایک ہی دن میں کورونا کے 4213 نئے مریضوں اور 97 اموات نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا
خاتون نے بتایا کہ میری بیٹی نے گزشتہ رات سے کچھ نہیں کھایا ہے۔ میں اس کے لیے بہت پریشان ہوں۔ اگر ہمیں کوئی گاڑی نہ ملی تو ہم اپنا سفر پیدل ہی جاری رکھیں گے۔
اس کے ساتھ آٹھ لوگوں پر مشتمل ایک گروپ ہے جو ممکنہ طور پر اس کے رشتے دار تھے اور بحفاظت گھر پہنچنے کے لیے اس کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔
امیٹھی میں اپنے آبائی علاقے جگدیش پور سے تعلق رکھنے والی رخسانہ اور اس کا شوہر عاقب اس وقت مدھیہ پردیش کی ریاست اندور میں رہائش پذیر ہیں جہاں شوہر ایک ریسٹورانٹ میں ویٹر تھا جبکہ رخسانہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔
رخسانہ نے اپنے اخراجات 9000 روپے تک محدود کر لیے جو اس کا شوہر کماتا تھا جبکہ اپنے کمائے ہوئے 3000 روپے وہ بیٹی کے مستقبل کے لیے جمع کرتی تھی۔ رخسانہ آٹھ جماعتوں سے زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکی لیکن وہ اپنی بیٹی نرگس کو تعلیم دلوانا چاہتی تھی۔
پھر کورونا وبا آ گئی جس کی وجہ سے دوسرے ممالک کی طرح بھارت میں بھی لاک ڈاؤن کر دیا گیا اور یوں یہ جوڑا اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ان کی معمولی سی بچت کچھ ہی دن میں گھر کے خرچوں کی نذر ہوگئی۔
رخسانہ نے اپنی بیٹی کے لیے کی گئی بچت میں سے پیسے نکلوانے سے انکار کر دیا۔ لیکن جو بات اس کے لیے زیادہ پریشان کن تھی وہ اندور میں کورونا وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ تھا۔
اس کا کہنا تھا کہ ہر گلی محلے سے کورونا وائرس کی خبر آنے لگی، پورا شہر بند کر دیا گیا، ہم گھر میں رہے تاکہ نرگس کو کورونا نہ ہو جائے۔
مدھیہ پردیش کاروباری سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور اندور کورونا وائرس سے بری طرح متاثرہ شہروں میں سے ایک ہے۔
لیکن رخسانہ کےلیے شہر کو چھوڑنا آسان نہ تھا کیونکہ اس کے شوہر نے ساتھ آنے سے انکار کر دیا۔ رخسانہ نے اپنے شوہر کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی، آخرکار اس نے اپنی بچی کو وائرس سے بچانے کے لیے اکیلے ہی اپنے آبائی گھر جانے کا فیصلہ کر لیا۔
اس گروپ نے بدھ کی رات اندور سے اپنے سفر کا آغاز کیا، اس دوران دو ٹرکوں اور ایک ٹریکٹر سے لفٹ لینے اور 24 گھنٹے پیدل چلنے کے بعد وہ ہفتہ کے روز لکھنؤ پہنچے۔
اس سفر نے ان کا برا حال کر دیا، ان کے پاؤں پر چھالے پڑ چکے تھے اور وہ بہت تھکے ہوئے اور بھوک سے نڈھال تھے۔
اپنے زخموں کوصاف کر نے کے بعد انھوں نے دوبارہ سفر کا آغاز کیا۔ ان کے تھکے ہوئے جسموں نے دوبارہ سڑک پر چلنا شروع کر دیا، رخسانہ اپنی بچی کے ساتھ گروپ میں سب سے آگے تھی۔
اس نے اپنی بیٹی کو سورج کی تیز تپش سے بچانے کے لیے ایک کپڑے میں ڈھانپ رکھا تھا، اسے احساس ہوا کہ یہ سفر بھی ان مشکلات کا ایک حصہ ہے جو اسے اپنی بیٹی کی پرورش میں اٹھانا پڑتی ہیں۔