آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے سینئر ریذیڈنٹ ڈاکٹرزاہد عبدالمجید نے اسپتال کے ٹراما سنٹر میں کورونا مریض کی جان بچانے کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی۔
اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر زاہد عبدالمجید نے اسپتال کے ٹراما سینٹر میں لائے گئے مریض کو جب ایمبولینس میں انتہائی تشویشناک حالت میں دیکھا تو انہوں نے اپنے حفاظتی لباس (عینک اور فیس شیلڈ ) اتار کر مریض کی سانس بحال کرنے میں بھرپور مدد کی۔ مریض اس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں جبکہ ڈاکٹر زاہد عبدالمجید کو قرنطینہ سینٹر بھیج دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر زاہد عبدالمجید کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے دیالگم گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور پچھلے دو سال سے ایمز میں ڈیوٹی کررہے ہیں۔
کورونا وبا کے خلاف جنگ میں اٹلی کے 100 سے زائد ڈاکٹرز جان کی بازی ہار گئے
کورونا کے شکار اٹلی کے 72 سالہ پادری نے قربانی کی لازوال داستان رقم کر دی
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز میرے والد نے مجھے کال کی اور کہا کہ اگر وہ کورونا کی وجہ سے فوت بھی ہوجائیں تو وہ اس پر گریہ نہیں کریں گے کیونکہ میں نے ایک کورونا مریض کی جان بچائی ہے اور یہ موت میری شہادت تصور ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ میرے والدین نے میرے جذبے کو سراہا ہے اور اس بات سے میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر زاہد نے ’دی ہندو‘ کو بتایا کہ یقینا دوسروں کو اس مثال کی پیروی نہیں کرنی چاہیئے اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو حفاظتی لباس استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب مریض کو ایمبولینس سے وارڈ منتقل کیا جا رہا تھا تو میں نے محسوس کیا کہ مریض کے چہرے پر لگی نالی خراب حالت میں ہے اور فوری مداخلت نہ گئی تو مریض کو دل کا دورہ پڑسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایمبولینس میں حفاظتی سامان کے ساتھ مریض کی مدد کرنا مجھے قابل عمل آپشن نظر نہیں آ رہا تھا کیونکہ فیس شیلڈ کی وجہ سے منظر دھندلا رہا تھا جس سے کام میں رکاوٹ آ رہی تھی، اس وجہ سے میں نے اپنی فیس شیلڈ اتار لی اور این 95 ماسک کے ساتھ اس مرحلے کو انجام دیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر کے حفاظتی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی تھی جس کی رپورٹ کی اور جھے قرنطینہ سینٹر میں آئسولیشن میں جانے کا مشورہ دیا گیا۔
ڈاکٹر زاہد کا کہنا تھا کہ یہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے اور میں نے ساتھی انسان کو پریشانی سے بچانے کے لیے یہ کام کیا ، بحیثیت ڈاکٹر اور انسان میں اپنے مریض کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔
سعودی عرب کے کئی اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جگہ روبوٹ مریضوں کا علاج کرنے لگے
کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستانی ڈاکٹر امریکہ کا ہیرو بن گیا
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے اسپتال میں سینئر سے سیکھا ہے کہ مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے انہیں کئی کلو میٹر اضافی جاتے دیکھا ہے ، ڈاکٹر زاہد کا کہنا تھا کہ میں ایک سال سے والدین سے ملاقات نہیں کر سکا اور کورونا وباء کے حالات معمول پر آتے ہی وہ اپنے گاءوں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے اقدام پر اس لیے پریشان بھی تھا کہ میرے والد کا ری ایکشن کیا ہوگا تاہم ان کے ردِ عمل نے میرے دل کو بہت خوشی دی اور میں پہلے سے مضبوط ہوگیا ہوں۔ ڈاکٹر زاہد نے خواہش ظاہر کی کہ وہ جلد از جلد قرنطینہ سے اپنے اسپتال جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ مریضوں کی خدمت کرسکیں۔