چوہوں میں پایا جانے والا ایک وائرس اپنی ہیئت تبدیل کر کے اب انسانوں کو شکار کرنے لگا ہے، ہانگ کانگ میں 11 افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
یہ وائرس ہیپاٹائٹس ای کا باعث بنتا ہے جو ایسی بیماری ہے جو صرف چوہوں میں پائی جاتی ہے، ہانگ کانگ یونیورسٹی کے متعدی بیماریوں کے پروفیسر سدھارتھ سری دھر کا کہنا ہے کہ اچانک یہ وائرس سامنے آیا ہے جو گلیوں میں گھومتے چوہوں سے انسانوں میں منتقل ہو رہا ہے۔
2018 میں ہانگ کانگ یونیورسٹی کے متعدی بیماریوں کے ماہرین کے سامنے ایک انوکھا مریض آیا۔ یہ ایک 56 سالہ بوڑھا آدمی تھا جس کا حال ہی میں جگر ٹرانسپلانٹ ہوا تھا، ڈاکٹرز نے دیکھا کہ اس کا جگر بغیر کسی ظاہری وجہ کے غیر معمولی طور پر کام کر رہا تھا۔
مردوں کے مادہ تولید میں کورونا وائرس کی موجودگی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
کورونا وائرس سے مکمل صحت یاب ہونے میں کتنا عرصہ لگتا ہے؟
مریض کے ٹیسٹ لیے گئے تو معلوم ہوا کہ اس کا مدافعتی نظام ہیپاٹئٹس ای کے خلاف متحرک تھا۔ لیکن ڈاکٹرز کو اس کے خون میں ہیپاٹائٹس ای کا ایسا وائرس دکھائی نہ دیا جو انسانوں پر اثرانداز ہوتا ہو۔
ہیپاٹائٹس ای کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد ریسرچرز نے اپنے تشخیصی ٹیسٹ کو نئے سرے سے تشکیل دیا، دوبارہ ٹیسٹ لینے سے معلوم ہوا کہ مریض چوہوں میں پائے جانے والے وائرس کا شکار ہوا ہے۔
تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا تھا کہ چوہوں کا ہیپاٹائٹس ای کا وائرس چھلانگ لگا کر انسانوں میں داخل ہو گیا تھا۔
ڈاکٹر سدھارتھ کا کہنا ہے کہ ہم نے سمجھا یہ واقعہ بس ایک ہی بار اتفاقاً پیش آیا ہے، یہ ایسا مریض ہے جو غلط وقت پر غلط جگہ پر پایا گیا ہے۔
لیکن اس کے بعد یہ وائرس مزید 10 افراد میں منتقل ہوا ہے، تازہ ترین واقعہ ایک ہفتہ قبل پیش آیا جب 30 اپریل کو ایک 61 سالہ شخص کا ہیپاٹائٹس ای کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
ڈاکٹر سدھارتھ نے تنبیہ کی ہے کہ جگر کی یہ بیماری سینکڑوں ایسے لوگوں میں موجود ہو سکتی ہے جن کا ٹیسٹ نہیں لیا گیا۔
ہیپاٹئٹس ای جگر کی بیماری ہے جو کہ بخار، یرقان اور جگر کے بڑھ جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ وائرس چار مختلف اقسام کے جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اس وقت تک، ان چار میں سے صرف ایک کے بارے میں معلوم تھا کہ وہ انسانوں کو متاثر کرتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وائرس آلودہ پانی پینے سے آنتوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ حال ہی میں ہسپتال داخل ہونے والے 61 سالہ مریض نے حکام کو خاص طور پر بتایا کہ اس کے گھر میں چوہے نہیں ہیں، اس کے افراد خانہ میں بھی اس مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور نہ ہی حال میں اس نے کسی ملک کا سفر کیا ہے۔
ہانگ کانگ سینٹر فار ہیلتھ پروٹیکشن نے 30 اپریل کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وبائی امراض پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ اس وائرس کا منبع کیا ہے اور یہ کس ذریعے سے انسانوں میں منتقل ہو رہا ہے۔
وہ آدمی ابھی بھی ہسپتال میں داخل ہے اور سینٹر فار ہیلتھ پروٹیکشن میں تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
ہم اس کے متعلق کیا جانتے ہیں اور کیا نہیں جانتے؟
محققین کی ٹیم اور شہری حکام 2018 سے صحت کو درپیش اس نئے خطرے کو بہتر طور پر سمجھنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انھیں کچھ کامیابی حاصل ہوئی ہے اور انھوں نے تشخیصی ٹیسٹ کو بھی بہتر بنایا ہے۔
انھوں نے صحت کی دیکھ بھال کرنے والے شعبے کو آگاہی فراہم کی ہے تاکہ ڈاکٹرز "چوہا ایچ ای وی” سے متعلق پوری معلومات رکھتے ہوں اور اس کے علاوہ عوامی آگاہی مہم کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔
کورونا وائرس پھیلانے کا الزام، برطانیہ میں 77 فون ٹاورز جلا دیے گئے
کورونا کی دوائی رمڈیسیویر کی قیمت کیا ہو گی؟
لیکن جس چیز نے سائنسدانوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے وہ ہے اس وائرس کے پھیلنے کے نامعلوم ذریعے کا۔
ڈاکٹر سدھارتھ کا کہنا ہے کہ ہم جو جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہانگ کانگ میں موجود چوہے اس وائرس کو اپنے ساتھ لیے ہوئے ہیں، ہم انسانوں کے ٹیسٹ کے ذریعے اس وائرس کا پتا چلاتے ہیں، لیکن یہ کتنا زیادہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، آیا چوہے ہمارے کھانے کو آلودہ کرتے ہیں یا اس میں دوسرے جانور بھی ملوث ہیں، ہم اس بارے میں نہیں جانتے، یہی وہ گمشدہ کڑی ہے۔
یہ وائرس ہر جگہ موجود ہو سکتا ہے
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ہانگ کانگ کا مسئلہ نہیں لگتا اور نہ ہی یہ حال ہی میں واقع ہونے والا مسئلہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ چوہا وائرس نیویارک اور پیرس میں موجود لوگوں کو بھی متاثر کر رہا ہو۔ ہم صرف اس کے بارے میں اس لیے نہیں جانتے کیونکہ کوئی بھی اس کا ٹیسٹ نہیں کرا رہا۔
سیدھارتھ نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ سلسلہ طویل عرصہ سے جاری ہے اور یقینی طور پر 2017 اور 2018 میں دنیا میں پہلی بار یہ مسئلہ نہیں ہوا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہانگ کانگ میں 11 تصدیق شدہ کیسز ایک بڑے مسئلے کا چھوٹا سا حصہ ہیں لیکن کمیونٹی میں ایسے کئی سو متاثرہ افراد ہونگے جن کی تشخیص نہیں کی جا سکی۔
ہانگ کانگ میں 11 تصدیق شدہ کیسز کے علاوہ عالمی سطح پر ایک اور تصدیق شدہ کیس سامنے آیا ہے۔ فروری 2019 میں کینیڈا کا رہائشی، جس نے پہلے افریقہ کا سفر کیا تھا، ایک جلدی بیماری، متلی، شدید یرقان اور جگر میں سوزش کی شکایت کے باعث ہسپتال میں داخل ہوا اور ٹیسٹ کرنے پر اس کا ٹیسٹ مثبت آیا۔
رپورٹ میں ریسرچرز کا کہنا تھا کہ اس کیس کا بھی اس وجہ سے پتا چل سکا کہ حکام نے وسیع پیمانے پر ایسے ٹیسٹ کئے جس سے ہیپاٹئٹس ای کے بہت سارے حصوں کا پتہ چلتا ہے، ورنہ شاید اس کیس کی تشخیص ہی نہ ہو پاتی۔
سیدھارتھ کا کہنا تھا کہ یہی وہ مسئلہ ہے کہ بہت سارے ممالک چوہا ایچ ای وی کا ٹیسٹ ہی نہیں کر رہے۔ اس طرح وہ تشخیص کا ایک اہم موقع کھو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس کے لیے ایک مخصوص ٹیسٹ ہوتا ہے جو ہانگ کانگ یونیورسٹی نے ڈیزائن کیا۔ یہ ٹیسٹ خاص طور پر انسانوں میں چوہا ایچ ای وی کا پتہ چلاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیسٹ کرنا کوئی مشکل نہیں لیکن مسئلہ یہی ہے کہ اس کو وسیع پیمانے پر اپنایا نہیں جا رہا اور کچھ عرصہ پہلے تک کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ چوہا ایچ ای وی انسانوں کے لیے خطرہ ہے۔
سریدھر نے کہا کہ ہمیں اس غیر معمولی انفیکشن پر قابو پانے کے لیے عوام میں نگرانی کی ضرورت ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ صحت عامہ کے حکام پہلا قدم اٹھائیں اور دیکھیں کہ صحیح معنوں میں ان کی کتنی آبادی چوہا ہیپاٹائٹس ای سے متاثر ہو رہی ہے۔