نوبل انعام یافتہ کولمبین ناول نگار ’گیبرئیل گارشیا مارکیز‘ کے بیٹے ’رودریگو گارشیا‘ کی جانب سے مرحوم باپ کے نام خط لکھا گیا ہے۔ رودریگو فلم ساز ہیں۔ انکے خط کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
17 اپریل کو آپ کی چھٹی برسی تھی۔ ان 6 برسوں میں دنیا کم و بیش پہلے کی طرح رہی مگر ایک چیز نئی ہوئی ہے اور وہ ہے وبا۔ اس وبا سے متعلق ہمیں جتنا معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا آغاز ایک فوڈ مارکیٹ سے ہوا تھا جہاں وائرس نے ایک جانور سے انسان میں قدم رکھا۔ یہ ایک وائرس کیلیے چھوٹا قدم تھا مگر اسکی نسل کیلیے ایک بڑی چھلانگ۔
ماؤں کے عالمی دن پر انجلینا جولی کی خون دل سے لکھی تحریر
بیٹے کی والد کے گلے ملنے کی خواہش، کورونا کے شکار رضا چوہدری کی المناک داستان
کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ مجھے آپ کے ناول ”Love in the Time of Cholera“ کے کسی حوالہ سے واسطہ نہ پڑتا ہو۔ یا پھر ”تنہائی کے 100 سال“ میں بے خوابی کی وبا کے متعلق یاد نہ آتا ہو۔ آپ وباؤں، خواہ وہ حقیقی ہوں یا تخیلاتی، اور لوٹ کر آنیوالی چیزوں یا لوگوں کے گرویدہ رہے ہیں۔ اس لیے اس بات کی قیاس آرائی نہ کرنا نا ممکن ہے کہ آپ موجودہ وبا کا کیا مطلب نکالتے۔
آپ اس وقت ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے جب اسپینش فلو نے کرہ ارض کواپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا مگر آپ کی پرورش وہاں ہوئی جہاں قصہ گوئی کا راج تھا، بھوتوں اور پچھتاووں کی مانند طاعون نے بھی اچھے ادبی کام میں کردار ادا کیا ہوگا۔ آپ نے کہا تھا کہ لوگ ماضی کے طویل واقعات کو دم دار ستارے کے وقتوں کی باتوں کے طور پر یاد کریں گے۔ آپ کا اشارہ غالبا ہیلے کومٹ کی طرف تھا جو 20ویں صدی کے آغاز میں دیکھا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہیلی کومٹ نامی دم دار ستارہ 76 برس بعد پھر سے نظرآیا تو آپ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کیلیے کتنے بے چین تھے۔ اس کے نظارے نے آپ کو سحرزدہ کردیا تھا۔ یہ دم دار ستارہ ہر76 برس بعد نظرآتا ہے۔ اس کے لوٹنے کی مدت انسان کو ملنے والی عمر کے لگ بھگ برابر ہے۔
آپ کو خدا کی ذات پر یقین نہیں تھا مگر یاد کرو کہ آپ نے کہا تھا کہ یہ ناقابل یقین ہے کہ یہ سب کچھ کسی ماسٹر پلان کے بغیر ہو رہا ہو۔
وبا لوٹ چکی ہے۔ سائنس کی حددرجہ ترقی اور ہماری نسل کی بیش بہا حکمت کے باوجود وبا کے خلاف بہترین حکمت عملی گھروں میں رہنا ہے۔ مطلب شکاری سے غاروں میں چھپنا۔ آپ کو عزیز دو ممالک، اسپین اور اٹلی وبا سے بری طرح متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔
صرف موت ہی نہیں، حالات بھی ہمیں ڈرا رہے ہیں۔ کسی الوداع کے بغیر آخری سفر پر روانگی۔ اپنوں کے بغیر اجنبیوں کے ہاتھوں آخری سفر، بدترین خوف یعنی تنہائی کا ڈر۔
آپ ہمیشہ ڈینئیل ڈیفوکے ”A Journal of the Plague Year“ کی بات کیا کرتے تھے، یہ جرنل آپ پر بہت زیادہ اثر انداز ہوا تھا لیکن گزشتہ روز مجھے یاد آیا کہ آپ کا پسندیدہ ترین”Oedipus Rex,“ ایک بادشاہ کی طاعون کے خاتمہ کی کوششوں کے گرد گھومتا ہے۔ آپ نے ایک بار کہا تھا کہ وباسے متعلق ہمیں خوفزدہ کرنے والی چیز ہمارا ذاتی مقدر ہے۔ احتیاط، طبی دیکھ بھال، عمر اور دولت کے باوجود کوئی بھی اس کا شکار ہوسکتا ہے۔ مقدر اور موت بہت سے لکھاریوں کا پسندیدہ موضوع ہے۔
میرا خیال ہے کہ اگر آپ یہاں ہوتے تو ہمیشہ کی طرح انسان سے مسحور ہوجاتے۔ آپ ہوتے تو ہماری کمزوری پر ترس کھاتے، ہمارے جڑے رہنے پر حیرت زدہ ہوتے، ہماری تکالیف پر افسردہ ہوتے۔ آپ چند رہنماؤں کی سنگدلی پر غصہ ہوتے اور اگلی صفوں پر موجود لوگوں کی بہادری سے جذباتی ہو جاتے۔
آپ سننے کے لیے بیتاب ہونگے کہ عاشق ہر رکاوٹ کا سامنا کر کے کیسے ملنے کے جتن کرتے ہیں۔
چند ہفتے قبل، گھر پر الگ تھلگ ہونے کے ابتدائی چند دنوں کے دوران میں سوچتا رہا کہ اس سب کا کیا مطلب ہے اور اس سے کیا نکلے گا۔ میں یہ جاننے میں ناکام رہا۔ اب جبکہ یہ سب روٹین بن چکا ہے، جیسا کہ خوفناک ترین جنگوں کے دوران ہوتا ہے، تب بھی میں اس صورتحال کو کسی تسلی بخش شکل میں ڈھالنے سے قاصر ہوں۔
بہت سے لوگوں کو یقین ہے کہ زندگی پہلے جیسے نہیں ہوپائے گی۔ اس بات کا امکان ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ بڑی تبدیلیاں اپنا لیں لیکن ہم میں سے زیادہ تر لوگ بہت کم تبدیل ہونگے۔ مجھے شبہ ہے کہ زیادہ تر لوگ پہلے جیسے ہی رہیں گے۔ کیا یہ اچھی دلیل نہیں کہ وبا اس بات کا ثبوت ہے کہ زندگی اکثرغیر متوقع طریقوں سے ختم ہوتی ہے اس لیے ہم ابھی سے اچھی زندگی گزارنا شروع کر دیں؟
دنیا کے کچھ حصوں میں نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے اور آہستی آہستہ دنیا نارمل ہونا شروع ہوجائے گی۔ حتیٰ کہ فوری آزادی کا خیالی پلاؤ پکنے کے دوران ہی بہت سے افراد نے خدا سے کئے گئے حالیہ وعدے بھلانے شروع کر دیے ہیں۔ ہمارے اوپر وبا کے اثرات غائب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
میں ابھی تک سمجھ نہیں پایا۔ ایک گانا، ایک نظم، ایک فلم یا ناول مجھے اس طرف لے جائیں گے جہاں اس تمام تر صورتحال بارے میرے خیالات دفن ہیں۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے یقینا بہت سی چیزوں کا کھوج مجھے خود سے بھی لگانا پڑے گا۔
اس سب کے باجود کرہ ارض چل رہا ہے اور زندگی ابھی بھی پراسرار، طاقتور اور حیران کن ہے۔ یا جیسا آپ شاعری میں کہتے تھے کہ ”زندگی کو کوئی کچھ نہیں سکھاتا۔“
رودریگو