شمالی سکن کے سرحدی علاقے ناکو لا میں چینی اور بھارتی افواج میں جھڑپ ہوئی ہے جس میں اطراف کے کئی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بھارتی میڈیا میں فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فوجی دستوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں کئی افراد کو معمولی زخم آئے تاہم بعد ازاں مذاکرات اور علاقائی سطح پر روابط کے ذریعے فوجی واپس چلے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ بہت سے مقامات پر سرحدوں کا تعین نہیں ہوا اس لیے یہ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں تاہم بعد میں متفقہ پروٹوکولز کے تحت ایسے مسائل حل کر لیے جاتے ہیں۔
دونوں ممالک سرحدوں کے متعلق مختلف آرا رکھتے ہیں جس کے باعث ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں اور جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر 2019 میں بھی مشرقی لداخ میں بھی ایک جھیل کے قریب ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، چین جھیل کے زیادہ تر حصے کا مالک ہے، چند گھنٹے بعد یہ تنازع حل کر لیا گیا تھا۔
اسی طرح اگست 2017 میں بھی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں دونوں طرف کے کئی سو فوجی ایک دوسرے پر پتھراؤ کرتے دکھائی دیے تھے۔
جنوری 2020 میں بھارت کے آرمی چیف جنرل منوج نروانے نے شمالی سرحدوں پر جدید ہتھیار پہنچانے کی بات کی تھی۔