کورونا وبا کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا اور ایک بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اب یہ آفت پوری دنیا میں اپنے پنجے گاڑ چکی ہے۔
چین نے سخت ترین لاک ڈاؤن کے ذریعے اس پر قابو پا لیا تھا، اسی طرح جنوبی کوریا نے بھی کورونا کا شکار ہونے کے بعد اس سے چھٹکارہ حاصل کر لیا تھا، لیک اب ان دونوں ممالک میں کورونا کے نئے مریض سامنے آ رہے ہیں اور اس وبا کی دوسری لہر کے خدشات حقیقت بنتے نظر آ رہے ہیں۔
چین
اتوار کے روز ووہان میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی، اگلے روز پانچ نئے مریض سامنے آ گئے، مقامی ذرائع کے مطابق یہ زیادہ تر معمر افراد ہیں اور سب ایک ہی احاطے میں رہائش پذیر تھے۔
تمام ممالک کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کے لیے تیار رہیں، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
مردوں کے مادہ تولید میں کورونا وائرس کی موجودگی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اسی طرح صوبہ ہوبی میں 11 ایسے افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جن میں مرض کی علامات موجود نہیں تھیں۔
یہ تمام مریض اس وقت سامنے آ رہے ہیں جبکہ دنیا کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کیا گیا لاک ڈاؤن ختم کر کے روزمرہ کی زندگی شروع کرنے جا رہی ہے۔
صحت سے متعلقہ ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ جلد بازی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے سے کورونا ایک مرتبہ پھر پلٹ کر وار کر سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت پہلے ہی کورونا کی دوسری اور تیسری لہر آنے کے خدشات ظاہر کر چکا ہے۔
جنوبی کوریا
جنوبی کوریا دوسرا ملک تھا جس نے کامیابی سے کورونا وبا کو شکست دی تھی اور پچھلے ایک ماہ تک وہاں کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا تھا۔
اس ملک میں سخت قسم کا لاک ڈاؤن نہیں لگایا گیا تھا، حکومت کی زیادہ توجہ ٹیسٹ کی تعداد بڑھانے پر مرکوز رہی جس کے باعث اس وبا پر قابو پانا ممکن ہو گیا تھا، لیکن اب پابندیاں مزید نرم کرنے کے بعد سیول کے ایک ضلع میں متعدد افراد میں کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
پیر کے روز حکومتی اداروں نے 35 نئے کیسز کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد جنوبی کوریا میں مجموعی طور مریضوں کی تعداد 10 ہزار 909 تک پہنچ گئی ہے۔
پچھلے 12 دنوں میں بھی کورونا کے مریض سامنے آتے رہے ہیں لیکن ان کی روزانہ کی تعداد 10 سے کم تھی لیکن اب ایک دم سے اس تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔
نئے کیسز میں سے 85 کو ایک 29 سالہ شخص سے جوڑا جا رہا ہے جس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اس کے باوجود وہ 5 کلبز اور بارز میں جاتا رہا۔
جو افراد گزشتہ دو ہفتوں کے دوران متاثرہ ضلع گئے تھے انہیں شہری انتظامیہ کہہ رہی ہے کہ وہ اپنا کورونا کا ٹیسٹ کرائیں، محکمہ صحت کے اہلکار ان ہزاروں افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس دوران کلبز میں جاتے رہے۔
جنوبی کوریا نے بدھ کے روز پابندیاں نرم کرتے ہوئے سماجی فاصلے کے قواعد بھی تبدیل کردیے تھے، اس کے بعد کورونا کے نئے مریض سامنے آنے لگے ہیں۔