• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ماؤں کے عالمی دن پر انجلینا جولی کی خون دل سے لکھی تحریر

by sohail
مئی 11, 2020
in انتخاب, انٹرٹینمنٹ, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

معروف ہالی وڈ اداکارہ انجلینا جولی نے مدرز ڈے پر ‘ماں کی طاقت’ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی ہے جس میں اپنے دل کا درد کھول کر بیان کر دیا ہے۔ اس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔

مدرز ڈے ہر اس شخص کے لیے مشکل ہے جس نے اپنی ماں کو کھو دیا ہو، کورونا وائرس کے باعث یہ سال اور بھی تکلیف دہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اسقدر بڑی تعداد میں لوگ اچانک اپنے والدین سے محروم ہوئے ہیں، وہ اس موقع پر ان کے ساتھ بھی نہیں تھے، ان کا خیال بھی نہیں رکھ سکتے تھے اور انہیں اپنی محبتوں سے بھی اس طرح مالامال نہیں کر سکے جس طرح انہوں نے سوچا تھا۔

میں نے اپنی ماں کو اس وقت کھو دیا تھا جب میں عمر کی تیسری دہائی میں تھی، آج میں مڑ کر اس وقت کو دیکھتی ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی موت نے مجھے کسقدر بدل کررکھ دیا تھا۔ ان کی موت اچانک نہیں تھی لیکن اس صدمے نے میرے اندر بہت کچھ بدل دیا تھا، ماں کی محبت اور ان کی نرم آغوش کی گرمی سے محرومی کا احساس ایسے ہے جیسے حفاظت کرنے والا کمبل کسی نے چیرپھاڑ دیا ہو۔

اپنی ماں کی وفات کے بعد میں نے اپنے دائیں ہاتھ پر ایک ٹیٹو بنوایا تھا حالانکہ میں جانتی تھی کہ ہاتھ کے ٹیٹو تادیر قائم نہیں رہتے، دوسروں کو اس ٹیٹو پر ‘ایم’ کا لفظ نظر آتا تھا لیکن حقیقت میں یہ مرشلین، جو میری ماں کا نام تھا، کا ایم نہیں تھا بلکہ ونٹر والا ‘ڈبلیو” تھا جو کہ رولنگ سٹونز کا نغمہ تھا، یہ گیت میری ماں نے اس وقت مجھے گا کر سنایا تھا جب میں چھوٹی بچی تھی اور جسے میں ایک بچی کے طور پر بہت پسند کرتی تھی۔

وہ میرے لیے گیت کے بول گایا کرتی تھیں ‘یہ بہت سرد، سرد موسم سرما ہو گا’ اور جب وہ اس لائن پر پہنچتی تھیں کہ ‘میں اپنا کوٹ تمہارے اردگرد لپیٹنا چاہتی ہوں’ تو وہ مجھے کمبل میں لپیٹ دیا کرتی تھیں اور اپنی آغوش میں چھپا لیتی تھیں۔

مجھے اپنی ماں سے بہت پیار تھا، ان کی پرورش شکاگو کی جنوبی سمت میں ایک کیتھولگ گھرانے میں ہوئی تھی، میرے دادا دوسری جنگ عظیم میں شریک ہوئے تھے، وہ میری پیدائش سے پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے تھے، اس وقت میری ماں کی عمر بیس سال سے اوپر تھی۔

میری ماں کا بوائے فرینڈ انہیں ‘ڈائمنڈ لوئی’ کہہ کر پکارتا تھا،1960  دہائی میں میرا ددھیال لاس اینجلس منتقل ہو گیا۔ میری ماں زندگی کے احساس سے محبت کرتی تھیں، انہیں ہنسنا پسند تھا، جب میں افسردہ ہوتی تھی تو وہ راک سانگز چلا کر مجھے اپنے اندر کی آگ کے متعلق بتایا کرتی تھیں۔

میری ابتدائی یادوں میں اس رات ان کا موم بتیاں جلانا اور گھر میں بیٹلز کے البم سجانا شامل ہے جب جان لینن کا قتل ہوا تھا، کسی عوامی شخصیت کی صحت کے متعلق ان کا دوسری بار پریشان ہونا بھی مجھے یاد ہے جب پوپ جان پال دوئم کو گولی ماری گئی تھی۔

جب میری دادی فوت ہوئیں تو میری ماں کو شدید صدمہ پہنچا، جب میرے باپ کا کسی دوسری عورت سے تعلق سامنے آیا تو اس نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی، اس واقعہ سے گھریلو زندگی کے متعلق ان کے خوابوں کو آگ لگ گئی تھی۔ اس صدمے کے باوجود وہ ایک ماں ہونے کے احساس سے محبت کرتی تھیں، وہ اداکارہ بننا چاہتی تھیں لیکن ان کے خواب اس وقت ٹوٹ گئے جب 26 برس کی عمر میں انہیں ایک سابقہ شوہر، جس نے ان کی زندگی پر بہت منفی اور طویل اثر ڈالنا تھا، کے دو بچوں کی دیکھ بھال کرنا پڑی۔ اپنی ماں کی موت کے بعد مجھے ایک ویڈیو ملی جس میں انہوں نے ایک مختصر فلم میں اداکاری کی تھی، وہ بہت اچھی تھیں اور وہ اداکارہ بن سکتی تھیں۔

اپنی موت سے قبل میری ماں نے مجھے بتایا کہ خواب اپنی شکل تبدیل کر لیا کرتے ہیں، ان کا ایک فنکار ہونے کا خواب دراصل ان کی اپنی ماں کا خواب تھا، بعد میں انہوں نے یہ امیدیں میرے ساتھ باندھ لی تھیں۔ میں سوچتی ہوں ہم سے پہلے آنے والی عورتیں جن کے خوابوں کو تعبیر ملنے میں کئی نسلیں گزر جاتی ہیں، کے متعلق یہ بات کسقدر درست ہو گی۔

‘ونٹر’ کو اب سنتے ہوئے مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری ماں کسقدر تنہا اور خوفزدہ ہوتی ہو گی لیکن ساتھ ساتھ وہ زندگی کے ساتھ لڑائی کے لیے بھی تیار تھیں تاکہ ان کے بچے ٹھیک طرح سے جی پائیں۔

جس طرح ‘ڈبلیو’ کا لفظ میرے ہاتھ سے مٹتا گیا اسی طرح گھر اور تحفظ کا احساس بھی ختم ہوتا گیا، زندگی اب کئی موڑ لے چکی ہے، میں نے اپنے حصے کا نقصان جھیل لیا ہے اور زندگی کو مختلف سمت میں جاتے دیکھ چکی ہوں اور اس کے متعلق سوچ کر میرے تصور سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔

لیکن اب جبکہ میری بیٹیاں بڑی ہو رہی ہیں اور اس عمر سے گزر رہی ہیں جو مجھے ایک بیٹی کے طور پر یاد ہے، میں اپنی ماں اور اس کے حوصلے کو ایک مرتبہ پھر دریافت کر رہی ہوں، وہ ایک ایسی لڑکی تھیں جو ‘سن سیٹ سٹرپ’ کے گیت پر تمام شب رقص کرتی تھیں، اور راک این رول سے محبت کرتی تھیں۔ وہ ایسی خاتون تھیں جو کھو دینے کے کرب کے بعد بھی محبت کرتی تھیں اور جنہوں نے اپنا وقار اور اپنی مسکراہٹ کبھی نہیں کھوئی تھی۔

میں اب جانتی ہوں کہ تنہا ہونے اور اپنا کوٹ اپنے پیاروں کے گرد لپیٹ دینے کا کیا مطلب ہے اور میں شکرگزاری کے سرشار کر دینے والے احساس سے آگاہ ہوں جو اس مضبوطی سے جنم لیتا ہے جو اپنے بچوں کو محفوظ اور گرم رکھنے کے لیے درکار ہے۔ جب آپ کے بچے دنیا میں آ جاتے ہیں تو وہ فوری طور پر ہمیشہ کے لیے سب سے پہلے آتے ہیں۔

ماؤں کے اس عالمی دن پر مجھے ان مہاجر ماؤں کا خیال آتا ہے جنہیں میں مل چکی ہوں اور جو غربت اور بے گھری کا شکار ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے ماں بننے کے سفر کا آغاز اس وعدے کے ساتھ کیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے سب کچھ کرے گی اور اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنی جان بھی قربان کر دے گی۔ اگر ایسی ماں کو شکست ہو جائے اور وہ خاموش پڑ جائے تو اس سے بڑا المیہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔

ان مہاجرین کے ذریعے مجھے یہ ایقان ملا ہے کہ اس دھرتی پر ماں سے زیادہ مضبوط اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس کی جلد کی ملائمت دھوکہ دیتی ہے کیونکہ وہ ایک ایسی قوت ہے جس کے سوتے محبت اور وفاداری سے پھوٹتے ہیں۔ اس سے زیادہ اور کوئی مسائل حل نہیں کر سکتا، اس کے پاس محبت کے سوا دینے کو اور کچھ نہیں ہوتا اور یہ جذبہ اس کی روح سے ابھرتا ہے۔

جب ایک ماں آپ سے مدد مانگنے آئے اور آپ اسے انکار کر دیں تو ہو سکتا ہے وہ رو پڑے، لیکن وہ کبھی بھی حوصلہ نہیں ہارے گی، جب آپ اس کے بچے کو تحفظ اور سائبان دینے سے انکار کرتے ہو تو وہ ایک ایسی مخالف سرزمین پر اسے تلاش کرے گی جہاں اس کے جسم کے استحصال کا خدشہ ہو۔ اس کا دل اس نقصان پر افسردہ ہو گا لیکن وہ اپنے بچے کے لیے لڑنا جاری رکھے گی ۔۔۔ کیونکہ وہ ایک ماں ہے۔

جن خواتین کا استحصال ہوتا ہے وہ کمزور نہیں ہوتیں، وہ زیادہ تر مائیں ہوتی ہیں جو کوئی اور رستہ نہ ہونے کے باعث خطرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں، وہ اپنے بچے اور نقصان کے درمیان ڈٹ کر کھڑی ہو جائیں گی، وہ سماج سے کٹ جائیں گی اور تنقید کا سامنا کریں گی لیکن ان کو فقط ایک ہی خیال ہو گا اور وہ یہ کہ مجھے تکلیف دو، میرے بچے کو نہیں، میری توہین کرو اور مجھے نظرانداز کرو لیکن میرے بچے کو نہیں، میری خوراک مجھ سے چھین لو لیکن میرے بچے کی نہیں۔

ایسی عورت جنگ یا مہاجر کیمپ میں ناقابل تصور کرب سے گزرے گی لیکن وہ کبھی اپنے بچے کو چھوڑ کر ایک نئی زندگی کی طرف نہیں جائے گی۔ وہ دس برس، بیس برس یا ضروری ہوا تو اس سے بھی زیادہ عرصہ بیٹھی رہے گی۔

میں جن مہاجر ماؤں سے ملی ہوں ان کے خوبصورت چہرے مجھے کسی فیملی البم کے اوراق کی طرح یاد ہیں، ان کی آنکھیں تھکن سے چور لیکن کبھی ہتھیار نہ ڈالنے والی ہوتی ہیں کیونکہ وہ خود بھی کبھی بیٹیاں تھیں اور اب انہیں اپنے بچے کو لازمی طور پر کمبل سے لپیٹنا ہے۔

کسی بھی ماں یا باپ کے لیے اس سے زیادہ کربناک کچھ اور نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچوں کو وہ چیزیں مہیا نہ کر سکے جو ان کی ضرورت ہوتی ہیں۔ موجودہ وبا کے دوران یہ ایک حقیقت ہے جس کا امریکہ تک میں بہت بڑی تعداد میں خاندان سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن میں نے سیکھا ہے کہ جب بچے یہ جان جاتے ہیں کہ والدین ان سے کسقدر محبت کرتے ہیں تو وہ کبھی کبھار یہ احساس اشیاء سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے اور جب وہ بڑے ہو جاتے ہیں اور انہیں سمجھ آ چکی ہوتی ہے کہ آپ نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا، نہ کسی غیرمحفوظ جگہ پر چھوڑ دیا تھا اور نہ ہی ان کے لیے لڑنا چھوڑ دیا تھا تو یہ بات ان کے لیے سب سے اہم ہو جاتی ہے۔

اس لیے میں ان ماؤں کو سلام پیش کرتی ہوں جو کہیں بھی ہوں اور خود کو بے بس محسوس کرتی ہوں لیکن پھر بھی اپنی توانائی کا ایک ایک ذرہ ، اپنی خوراک کا ہر لقمہ اور واحد کمبل اپنے بچوں کو دے دیتی ہوں۔

اور ہر کوئی جو اس مدرز ڈے پر دکھ کا شکار ہے، مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اپنی یادوں میں تسلی اور قوت تلاش کر لے گا۔

Tags: انجلینا جولیماؤں کا عالمی دن
sohail

sohail

Next Post

کورونا کی ویکسین 2021 کے اختتام سے پہلے تیار نہیں ہو سکتی، عالمی ادارہ صحت

شمالی سکن کی سرحد پر چینی اور بھارتی افواج میں جھڑپ، کئی فوجی زخمی

ایرانی بحری جہاز دوستانہ فائر کی زد میں آ گیا، کئی افراد ہلاک

ایک ہی دن میں کورونا کے 4213 نئے مریضوں اور 97 اموات نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا

چین اور جنوبی کوریا میں کورونا وبا کی دوسری لہر شروع ہو گئی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In