آنکھیں خدا کی نعمت ہیں جس کے لیے ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے، ان کے بغیر ہم کائنات کا حسن دیکھنے سے محروم رہ جاتے۔ قوت بصارت کسی بھی انسان کو دیکھ کر اس کی کیفیت بت اسکتی ہے۔ ایک نظر کسی کا چہرہ دیکھ کر اس کی تکلیف یا خوشی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھیں انسانی جسم کو لاحق کسی بڑے مرض کی پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ آنکھوں کا مکمل معائنہ آپ کو ان چار امراض کے بارے میں پہلے سے خبردار کرسکتا ہے۔
ذیابیطس

جی بالکل، آپ کی آنکھیں بتا سکتی ہیں کہ کیا آپ کو ذیابیطس ہے؟ اگر آنکھ میں خون کی رگیں واضح دکھائی دیں تو اس کا مطلب ہے کہ ذیابیطس ہونے کا امکان ہے۔
ذیابیطس یا شوگر ایک ایسے بیماری ہے جس میں انسولین کی کمی یا اس کے کام نہ کرنے کی وجہ سے خون میں گلوکوز یعنی شکر حل ہونے کے بجائے جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے، یہ بیماری آنکھوں، دل اور گردوں سمیت مختلف جسمانی اعضاء کو متاثر کرتی ہے۔
اگر آپ خود کو ذیابیطس سے بچانا چاہتے ہیں تو اپنی آنکھوں پر دھیان دیں۔ اگر اس مرض کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں ہو جائے تو آپ واقعی خود کی جان بچا سکتے ہیں۔
دماغ کی رسولی

آنکھوں کا معائنہ کرتے وقت ڈاکٹر خون کی رگوں اور آپٹیک نرو یعنی بصری اعصاب جو آنکھ کو دماغ سے ملاتی ہے کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ آنکھوں میں سوجن ہونا یا جالے نظر آنا کسی دماغی مرض کی علامت ہوسکتا ہے۔
یہ دماغ میں رسولی سے لے کر دماغ میں خون جمنے تک کسی بھی شکل کا مرض ہوسکتا ہے جو سٹروک یا فالج کا باعث بن سکتا ہے۔
صورتحال واضح کرنے کے لیے مزید ٹیسٹوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ تاہم، آنکھوں کا معائنہ آپ کے دماغ کو لاحق کسی بڑے خطرے کی خبر دے سکتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر

آپ کا بلڈ پریشر ہائی ہے یا نہیں؟ یہ جانچنے کا ایک آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ آنکھوں کا معائنہ کرایا جائے۔ ہائی بلڈ پریشر ایک ایسا مرض ہے جس میں خون کا دباو نارمل نہیں رہتا یعنی 80 اور 120 سے بڑھ کر 90 اور 140 پر پہنچ جاتا ہے۔
خون کا دباو نارمل نہ ہونے کی وجہ سے آنکھوں میں موجود خون کی رگیں سکڑ جاتی ہیں۔ دوسری جانب اگر بلڈ پریشر مسلسل بڑھتا رہے اور اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو آنکھ کے اندر موجود خون کی شریانیں سرخ سے سفید ہونے لگتی ہیں اور بعض اوقات تانبے کی طرح ہلکی بھوری ہوجاتی ہیں۔
ہائی کولیسٹرول

ہائی کولیسٹرول انسانی جسم کے لئے برا ہے کیونکہ یہ خون کی رگوں کو کام کرنے سے روکتا ہے اور دل کی شریانوں کو بند کردیتا ہے جس کے نتیجے میں خون کے بہاؤ میں خلل پڑتا ہے اور انسان کو ہارٹ اٹیک یا فالج جیسی بیماریاں ہونے کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے۔
خون کی شریانوں کا بند ہونا بھی آنکھوں سے ظاہر ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر بآسانی آنکھ کے پچھلے حصے میں جمع ہوا کولیسٹرول دیکھ سکتا ہے جو بعض اوقات آنکھوں میں بھی دکھائی دیتا ہیں۔
آنکھ کے شفاف پردے یعنی کارنیا کے گرد سرمئی رنگ کی ایک پتلی پرت بنتی ہے۔ کالیسٹرل آنکھ میں موجود خون کی رگیں بند کرنے کا سبب بنتا ہے جس سے آنکھ کو خون کی فراہمی معطل ہوجاتی ہے اورعارضی یا مستقل اندھاپن ہوسکتا ہے۔
نوٹ: یہ علامتیں کسی اور وجہ سے بھی نظر آ سکتی ہیں، اس لیے کسی مستند ڈاکٹر کے مشورے سے ٹیسٹ کرائیں