شوگر انکوائری کمیشن نے کہا ہے کہ شوگر ملز غیر قانونی طور پر بائنڈنگ ٹاپ، ٹریش اور مڈ کے تحت گنے کے وزن میں کٹوتی میں ملوث پائی گئیں ہیں جس کا مقصد کاشتکاروں کو لوٹنا ہے۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اور طاقتور انکوائری کمیشن کے مابین دوسری ملاقات آج ہونے جا رہی ہے۔ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے دعووں کو چیلنج کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انکوائری کمیشن نے 100 سے زائد سوالات تیار کیے ہیں جو پاکستان ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے پوچھے جائیں گے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ بات بھی زیر گردش ہے کہ کمیشن نے 10 ملوں کے نمائندوں کو لگائے گئے الزامات پر موقف لینے کے لیے الگ الگ طلب کر رکھا ہے۔
ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد احمد نے کین کمشنر پنجاب کو لکھے گئے ایک حالیہ خط میں ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 کے سیکشن 13 (16) کے تحت گنے کی نا مناسب چھلائی یا کسی اور بنیاد پر گنے کے وزن میں کٹوتی کی اجازت نہیں ہو گی جب تک کہ کین کمشنر کی جانب سے اس کی منظوری نہ دی جائے۔
کین کمشنر کے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ کین کمشنر آفس سے بائنڈنگ ٹاپ، ٹریش اور مڈ کے تناظر میں گنے کے وزن میں کٹوتی کے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے۔ تاہم 27 دسمبر 2018 میں کمیٹی برائے شوگر سیکٹر کا ایک اجلاس ہوا جس میں بائنڈنگ ٹاپ اور ٹریش کی مد میں 3 فیصد کٹوتی جبکہ ممنوعہ اور غیر منظور شدہ گنے کی اقسام میں زیادہ سے زیادہ 5 فیصد وزن میں کٹوتی کی اجازت دی گئی۔
ایف آئی اے نے موقف اختیار کیا کہ ہنزہ شوگر ملز کے دونوں یونٹوں نے بائنڈنگ ٹاپ، ٹریش ، مڈ اور غیرمعیاری گنے کی مد میں اس کے وزن میں کٹوتی کی۔ اس کٹوتی کی مقدار کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
18_2017 میں یونٹ 1 نے 5 لاکھ 12 ہزار 798 من کٹوتی جبکہ یونٹ 2 نے 20 ہزار 229من کی کٹوتی کی۔ اسی طرح 19_2018 میں یونٹ 1 میں کٹوتی25 ہزار 273 من اور یونٹ 2 میں 3ہزار 417 من کٹوتی کی گئی تھی۔ 20_2019 میں یونٹ1 میں 14ہزار 537 من جبکہ یونٹ 2 میں 2 ہزار 278 من کی کٹوتی کی گئی ۔
بزنس ریکارڈر میں شائع ایک خبر کے مطابق انکوائری کمیشن نے مندرجہ ذیل اقدامات کی وضاحت طلب کرلی ہے:(¡) آیا یہ کٹوتیاں پنجاب شوگر فیکٹریز کنٹرول رولز 1950 کے سیکشن 13(16) کے تحت قانونی اور جائز طور پر کی گئی ہیں؟ (¡¡) آیا محض اجلاس کے منٹس کا اجراء/سرکولیشن کٹوتی کی اجازت کیلئے کافی ہے جس کی حقیقت میں پنجاب شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ،1950 جسے سیکشن13(6) کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے آف پنجاب فیکٹریز کنڑول ایکٹ 1950 کے تحت اجازت نہیں اور (¡¡¡): آیا اس قسم کی کٹوتی کے لیے نوٹیفکیشن لازمی جزو ہے اور اگر لازمی ہے تو کیسے 27 دسمبر 2018 میں ہونے والے اجلاس کے منٹس کے ذریعے گنے کے وزن میں کٹوتی کی اجازت دی گئی۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق انکوائری کمیشن نے فرانزک آڈٹ میں ٹیکس چوری کے معاملے کو بھی شامل کر لیا ہے اور اس سلسلے میں 10 شوگر ملوں سے گزشتہ 5 سالوں کے روڈ سیس اور مارکیٹ کمیٹی ٹیکسوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
جن ملز نے بیرون ممالک شوگر ملز میں سرمایہ کاری کی ہے ان سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایسی ملز جنھوں نے شوگر بیٹ کی پیداوار کیلئے لائسنس لیا تھا لیکن اس کے بجائے انھوں نے گنے کی کرشنگ کی، وہ بھی انکوائری کمیشن کے ریڈار پر ہیں۔
غیر مصدقہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کسی نے مل پارٹنرز کے مختلف اکاؤنٹس میں لاکھوں روپے منتقل کئے ہیں جس نے جرمن بیسڈ کمپنی کے تعاون سرمایہ کاری کی۔ کم ازکم 5 یا 6 شوگر ڈیلرز نے سختی نہ کرنے کی صورت میں انکوائری کمیشن کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
شوگر بروکرز ایسوسی ایشن نے حکام پر اپنے ممبرز سے برے سلوک کا الزام عائد کیا ہے تاہم کمیشن کے چئیرمین نے انھیں یقین دلایا ہے کہ کوئی سرکاری ملازم کسی بھی صورت میں جسمانی تکلیف نہیں دے گا۔