کورونا وائرس کے وبائی مرض نے دنیا بھر کی حکومتوں کو اخراجات کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور اسی وجہ سے بھارت نے پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) کے لیے اپنی وزارت دفاع کے لیے رکھے گئے 15 سے 20 فیصد فنڈز روک لیے ہیں۔
بجٹ روکنے کے اثرات اس بات سے ظاہر ہوتے ہیں کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ملٹری انجینئرنگ سروس کی 9 ہزار 300 پوسٹیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارت وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس کا مقصد دفاعی اخراجات میں توازن لانا ہے، انڈسٹریل ڈویژن کی پوسٹس ختم کی گئی ہیں جس کی کل تعداد 13 ہزار 157 ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاؤن، بھارتی معیشت کا ٹائی ٹینک ڈوبنے لگا
کورونا وبا: بھارت اور جرمنی میں ارب پتی کم، کئی ممالک میں بڑھ گئے
8 اپریل کو بھارتی وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں کے نام سرکلر جاری کیا تھا جس میں انہیں اخراجات میں کمی لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کورونا وباء کے اثرات کا سلسلہ جاری رہا تو بھارتی دفاعی بجٹ میں 40 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
جاری سال کے آغاز میں بھارتی وزیرخزانہ نرمل ستھارامن نے مالی سال 2020-21 کے لیے 73.65 ارب ارب ڈالر دفاعی بجٹ مختص کیا تھا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی موجودہ حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔
انادولو نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا اندازہ ہے کہ بھارتی وزارت دفاع کو دفاعی بجٹ میں کم از کم 800 سو ارب کم کرنے پڑیں گے۔
بھارتی حکومت کی کوشش ہے کہ دفاعی بجٹ میں کمی سے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں مسائل پیدا نہ ہوں تاہم بجٹ میں کمی ہتھیاروں کی خریداری، ملٹری ماڈرنائزیشن پر اثرات مرتب کرے گی۔
امریکہ کی جانب سے بھارت کے لیے فارن ملٹری سیلز پروگرام کی منظوری کے بعد بھارت 5.6 ارب ڈالر کے دفاعی سازو سامان کی خرید کا منصوبہ رکھتا ہے۔
بھارتی وزارت دفاع نے گزشتہ سال مختلف جنگی سازو سامان کی خریدوفروخت کے 14 معاہدوں پر دستخط کیے تھے جن میں 380 ارب روپے کا آکاش میزائل سسٹم خریداری منصوبہ بھی شامل تھا۔ روس، فرانس اور اسرائیل بڑے ممالک ہیں جن سے بھارت اسلحہ کی خریداری کرتا ہے، کورونا وائرس کے اثرات کی وجہ سے اسلحہ کی خریداری میں کمی سے یہ ملک بھی متاثر ہوں گے۔
اجے شکلا کا کہنا ہے کہ اسلحہ کی خریداری موخر کر کے رقم اپنے ملک کی معیشت میں لگانی چاہیے نہ کہ دوسرے ممالک کی معیشتوں کو فوائد پہنچائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلحہ کی خریداری کے لیے جو معاہدے کیے گئے انہیں ڈسچارج کر کے نئے معاہدے مقامی پیداواری کمپنیوں سے کیے جانے چاہئیں۔
دفاعی تجزیہ کار لکشمن کمار بھیرا کا کہنا تھا کہ عالمی وباء نے ثابت کیا ہے کہ ملٹری صرف قومی سلامتی کا نام نہیں، کروڑوں ملازمتوں کا ختم ہونا، انسانی جانوں کا ضیاع بھی کسی بڑے اندرونی جنگ سے کم نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں کئی دہائیوں سے صحت کے نظام کے لیے انتہائی کم بجٹ مختص کیا جاتا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارتی جی ڈی پی کا کل 1.28 فیصد نظام صحت پر خرچ کیا جاتا ہے۔
انڈیا میں 10 ہزار افراد کی آبادی کے لیے 8 ڈاکٹرز ہیں جبکہ برازیل میں 21، روس 40، چین 18 اور ساؤتھ افریقی ممالک میں اس کی شرح 9 ہے۔