بھارتی شہر ناگ پور میں پھنسے 193 پاکستانی شہری جن میں اکثریت ہندوؤں کی تھی 5 مئی کو سرحد عبور کرنے کے بعد اپنے گھروں میں پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان پہنچنے کے بعد لاہور کے قرنطینہ سنٹر میں 24 گھنٹے قیام کے بعد کورونا ٹیسٹ منفی آنے پر انہیں گھروں کو روانہ کر دیا گیا۔ ناگ پور میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی اکثریت کا تعلق سندھ سے تھا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے ان کی واپسی کے لیے فوی انتظامات کیے گئے۔
کراچی میں کورونا کے بغیر علامات والے مریضوں کی اموات نے سوالات کھڑے کر دیے
دنیا کے 11 ممالک جو ابھی تک کورونا وائرس سے محفوظ ہیں
ان کا کہنا تھا کہ ہم 3 مئی کو ناگ پور سے روانہ ہوئے اور 5 مئی کو امرتسر پہنچ گئے، انہوں نے بتایا کہ جب ہم پاکستان پہنچے تو ہمیں سینی ٹائزڈ کیا گیا اور ڈاکٹروں نے ہمارے گلے صاف کیے۔
24 گھنٹوں کے بعد ہم سب کو بتایا گیا کہ آپ کے ٹیسٹ نیگٹو آئے ہیں۔ ستیاون چاولہ جو پاکستان سے زائر ین ویزہ پر انڈیا گئے تھے نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ ٹیسٹ نیگٹو آنے کے بعد انہیں لاہور سے گھوٹکی پہنچانے کے لیے بسوں کا انتظام کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری درخواست پر صبح کے وقت ہمیں سبزی پر مشتمل کھانا دیا گیا۔ راج کمار ستیا نے بتایا کہ لاہور میں یونیورسٹی ہوسٹل میں قرنطینہ سنٹر کے کمرے صاف ستھرے تھے جن میں اے سی اور اوون کی سہولت بھی دستیاب تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جیسے ہم نے بارڈر کراس کیا ہماری تمام ضروریات کا خیال رکھا گیا، انہوں نے بتایا کہ لاہور سے ہمارے گھر 7 سو کلو میٹر کے فاصلہ پر ہیں۔ گھوٹکی کے رہائشی اشوک کمار نے بتایا کہ حکومت نے ہم سے ٹرانسپورٹ کا کرایہ بھی وصول نہیں کیا۔
سندھ ہندی پنچائیت سے تعلق رکھنے والے راجیش جھامبیہ جو اس سفر میں رابطہ کار کا کردار ادا کر رہے تھے نے بتایا کہ ناگ پور انتظامیہ کے فوری اقدامات کی وجہ سے انہیں پاکستان پہنچنے میں مدد ملی، ڈی سی پی سپیشل برانچ شویتا کھیدکر اور ڈپٹی کلکٹر رویندرا کھجن جی نے مقررہ وقت میں کلیئرنس کو یقینی بنایا۔
سابق وزیر ریلوے و پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسحاق خان خاکوانی نے بتایا کہ شروع کے دنوں کی نسبت اب سہولیات میں کافی بہتری لائی گئی ہے، ہم برطانیہ ، امریکہ ،کینیڈا اور مشرق وسطیٰ میں پھنسے شہریوں کو واپس لا رہے ہیں اور اس دوران ان کے لیے پرائیویٹ سہولیات بھی دستیاب ہیں۔