یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ 2020 کے امریکی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی اور اس کی کمزور قیادت کی انتخابی مہم کا مرکزی نقطہ چین پر زبانی گولہ باری ہو گا۔
حال ہی میں ‘کورونا بگ بک’ کے نام سے ایک دستاویز افشا ہوئی ہے جو پارٹی کے سینیٹ مہم چلانے والے ونگ نے پھیلائی ہے، اس میں اپنے امیدواروں کو اب سے لے کر نومبر تک چین پر شدید نکتہ چینی کرنے کا کہا گیا ہے۔
کورونا وبا کے خاتمے پر چین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کے خطرات لہرانے لگے
فرانس میں کورونا وائرس کے چین سے بھی پہلے پھیلنے کے شواہد مل گئے
اس دستاویز میں انتخابی مہم کے لیے تین مفروضوں کو نمایاں کرنے پر زور دیا گیا ہے جن میں ایک یہ ہے کہ کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری سے نکلا ہے، دوسرے یہ کہ چینی حکومت نے وبا کو چھپانے کی کوشش کی اور تیسرا مفروضہ یہ ہے کہ اگر ٹرمپ حکومت کو کورونا کے متعلق سچائی معلوم ہوتی تو اس وبا کا مقابلہ زیادہ تندہی سے کیا جا سکتا تھا۔
پہلا دعویٰ مشکوک، دوسرا غیرواضح جبکہ تیسرا ناقابل اعتبار ہے۔
صدر ٹرمپ اور ان کے وفاداروں کی جانب سے مسلسل اصرار کے باوجود ایوارڈ یافتہ صحافیوں کی تحقیقاتی رپورٹس اور آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق وائرس کے ووہان لیبارٹری سے حادثاتی طور پر باہر نکلنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
گزشتہ کئی برسوں سے صدر ٹرمپ بغیر ثبوت کے سازشی نظریات پیش کرتے آ رہے ہیں اور یہ اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے، اوبامہ کی امریکہ سے باہر پیدائش اور نتجیتاً ان کی نااہلیت سے لے کر ہیلری کلنٹن کی ای میلز کا یوکرین کے سرور پر ہونے اور کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھنے کو ایک جھوٹ قرار دینے تک امریکی صدر مسلسل غلط معلومات پھیلاتے آئے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اقتدار کے ابتدائی 1170 دنوں میں 18 ہزار غلط یا گمراہ کن دعوے کر چکے ہیں۔
اب آتے ہیں دوسری بات پر جس میں چین پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے کورونا کے آغاز میں درست طریقے سے اسے ہینڈل نہیں کیا جس کے باعث یہ وبا پوری دنیا میں پھیل گئی۔
یہ بات درست ہے کہ چین نے آغاز میں اس کا سامنا ٹھیک طرح نہیں کیا البتہ یہ بار واضح نہیں کہ ووہان کی میونسپل حکومت اس کی ذمہ دار ہے یا مرکزی حکومت کی کوتاہی ہے۔
البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین آف کمانڈ ناکام ہوئی ہے کیونکہ دسمبر 2019 میں کورونا وائرس ووہان کی حد تک پوری طرح سامنے آ چکا تھا۔
ڈاکٹر لی وین لیانگ، جنہوں نے سب سے پہلے کورونا وائرس کے متعلق خبردار کیا تھا، کا شروع میں مذاق اڑایا گیا تاہم اب ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے، انہوں نے 30 دسمبر کو ہی کھل کر بات کی تھی اور یہ وہی دن ہے جب ووہان میں مریضوں کے نمونے لیے گئے تھے۔ فروری کے ابتدا میں ڈاکٹر لی وین لیانگ کی اس وبا کے ہاتھوں موت واقع ہو گئی تھی۔
اس دوران وائرس ہوبائی صوبے میں زوروشور سے پھیلتا رہا اور خاموشی سے باقی دنیا میں بھی منتقل ہوتا رہا، چین کی جانب سے اس کوتاہی کی ایک مکمل اور کھلی تحقیق اس مسئلے کو ختم کر سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کے تیسرے دعوے کے پر دو سوالات اٹھتے ہیں، پہلا یہ کہ وہ کورونا کے متعلق کیا جانتے تھے اور دوسرا یہ کہ اس حوالے سے انہیں کب علم ہوا؟
کورونا وبا سے چین میں امریکہ سے زیادہ اموات ہوئی ہیں، صدر ٹرمپ کا دعویٰ
کورونا وائرس آئندہ دو ماہ میں ایک لاکھ 35 ہزار امریکیوں کی جانیں نگل جائے گا
تحقیقاتی رپورٹیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دسمبر 2019 اور جنوری، فروری 2020 میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کورونا کے پھیلاؤ کے متعلق شواہد مل مل چکے تھے۔
اگرچہ ٹرمپ انٹیلی جنس رپورٹس کی جانب زیادہ راغب نہیں ہیں لیکن وائٹ ہاؤس میں براجمان افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسی معلومات کو زیادہ سنجیدگی سے لیں گے۔
افسوس کی بات ہے کہ ایسا نہیں ہوا لیکن اصل مسئلہ انتظامیہ کی فاش غلطیوں سے زیادہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس غلط بیانیے کا ہے کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ چین میں کیا ہو رہا ہے تو وہ مختلف انداز میں اس وبا سے نمٹتے۔
سی این این کے مطابق ٹرمپ ایک ایسے صدر ہیں جن کے کورونا سے متعلق غلط بیانات کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا، وہ فروری میں اصرار کرتے رہے کہ یہ وبا جلد ختم ہو جائے گی، پھر وہ ہائیڈروکلوروکوئن کے استعمال کی حمایت کرتے رہے، بعد میں انہوں نے جراثیم کش ادویات کے انجیکشن کی خطرناک بات کی اور پھر وہ غلط بیانی کرتے رہے کہ امریکہ کی ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت دنیا میں بہترین ہے۔
آخرکار ریپبلکن پارٹی کی ‘کورونا بگ بک’ کی دستاویز سامنے آئی جس کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ ٹرمپ کی حمایت نہ کرو بلکہ چین پر تنقید کرو کیونکہ صدر ٹرمپ کا دفاع مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
یہ حکمت عملی ان پولز سے بھی مطابقت رکھتی ہے جن کے مطابق رائے عامہ چین کے متعلق ماضی کے مقابلے کہیں زیادہ منفی سوچ رکھتی ہے، اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ تجارتی جنگ اب وبائی جنگ میں بدل چکی ہے۔
کورونا وائرس اب 2020 کی انتخابی مہم میں فٹ بال کی حیثیت رکھتا ہے، ایک طرف ٹرمپ کی ٹیم چینی پالیسیوں کے خلاف بات کر رہی ہے، اس کی اشیاء پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے رہی ہے، چین سے اپن سپلائی لائن واپس لانے والی کمپنیوں کو سہولیات کے وعدے کیے جا رہے ہیں، حتیٰ کہ چین سے لیا گیا 1000 ارب ڈالرز کا قرض ہڑپ کر جانے کا تذکرہ بھی شروع ہے۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ چین کی ووہان لیب سے کورونا کے آغاز کے نظریے کے شواہد تلاش کریں۔
کورونا کے معاملے میں چین اور امریکہ دونوں شفافیت اور احتساب سے محروم ہیں لیکن اتنے بڑے المیے کو سیاسی الزام تراشی کے لیے استعمال کرنا ضمیر کے خلاف بات ہے۔
ایک اور سرد جنگ بہت نقصان دہ ہو گی، غیرملکیوں سے نفرت اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری 1930 کی دہائی کے تکلیف دہ ایام کی یاد دلاتی ہے۔
46 برس پہلے ایک ریپبلکن سینیٹر نے واٹر گیٹ اسکینڈل میں اپنی ہی جماعت کے صدر نکسن سے دو سوال پوچھے تھے، ایک یہ کہ وہ کیا جانتے ہیں اور دوسرے یہ کہ انہیں کب پتا چلا۔
انتخابات آخری تجزیے میں قیادت اور کردار کے متقاضی ہوتے ہیں اور 3 نومبر کو چھ ماہ سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے۔